کھپرو چیف سیکریٹری نے4 بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا
حفاظتی ویکسین سے نواحی گائوں میں 20 بچے شدید متاثر، صحت حکام اور ڈاکٹروں کا متاثرہ علاقے کا دورہ، والدین سے ملاقات
بچوں کی ہلاکت حفاظتی ٹیکوں سے نہیں ڈائریا اور تیز بخار کے باعث ہوئی، ڈاکٹر ظہور جاگیرانی، میڈیا نمائندوں سے گفتگو۔
کھپرو کے نواحی علاقے میں مبینہ طور پر حفاظتی ویکسین کے ذریعے 4بچوں کی ہلاکت اور20 سے زائد کے متاثر ہونے کا چیف سیکریٹری سندھ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے نو ٹس لے لیا۔
پروگرام کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ظہور احمد جاگیرانی بلوچ ،ڈی پی او سانگھڑ ڈاکٹر علی مردان عمرانی،ڈبلیو ایچ او کے صوبائی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر سومار اور ڈاکٹر اور ڈاکٹر نذیر احمد نے تعلقہ اسپتال کھپرو کا دورہ کیا اور حفاظتی ویکسین کا معائنہ کیا جبکہ خصوصی ٹیم نے کھپرو کے نواحی علاقوں دیھ نیان کے گائوں در محمد راجڑ اور عبا ماچھی کا دورہ کرکے متاثرہ بچوں کے والدین سے معلومات حاصل کیں اور بیماری میں مبتلا بچوں کا معائنہ کیا ۔
بعد ازاں ڈاکٹر ظہور احمد جاگیرانی نے تعلقہ اسپتال میں صحافیوں کو بتایا کہ ویکسین سے بچوں کی اموات واقع نہیں ہوئی اور نہ دیگر بچے حفاظتی ویکسین سے متاثر ہو ئے ہیں بلکہ مذکورہ بچوں کی اموات ڈائریا اور تیز بخار کی وجہ سے ہوئی ہیں، بخار کے دوران اگر حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں تو اس سے موت واقع نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوںمیں خون اور خوراک کی شدید کمی تھی جس کی وجہ سے دیگر بچے دائریا اور بخار میں مبتلا ہو ئے ہیںاور جن بچوں میں وائرل انفیکشن ہورہا ہے ان کے والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ بچوں کو فوری طور پر تعلقہ اسپتال داخل کرایا جائے تاکہ انکا علاج کیا جاسکے انہوںنے کہا کہ تعلقہ اسپتال میں ویکسین میں کسی بھی قسم کی خرابی نہیں تھی اور نہ ہی ویکسین زائد المیعاد ہوئی تھی۔
پروگرام کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ظہور احمد جاگیرانی بلوچ ،ڈی پی او سانگھڑ ڈاکٹر علی مردان عمرانی،ڈبلیو ایچ او کے صوبائی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر سومار اور ڈاکٹر اور ڈاکٹر نذیر احمد نے تعلقہ اسپتال کھپرو کا دورہ کیا اور حفاظتی ویکسین کا معائنہ کیا جبکہ خصوصی ٹیم نے کھپرو کے نواحی علاقوں دیھ نیان کے گائوں در محمد راجڑ اور عبا ماچھی کا دورہ کرکے متاثرہ بچوں کے والدین سے معلومات حاصل کیں اور بیماری میں مبتلا بچوں کا معائنہ کیا ۔
بعد ازاں ڈاکٹر ظہور احمد جاگیرانی نے تعلقہ اسپتال میں صحافیوں کو بتایا کہ ویکسین سے بچوں کی اموات واقع نہیں ہوئی اور نہ دیگر بچے حفاظتی ویکسین سے متاثر ہو ئے ہیں بلکہ مذکورہ بچوں کی اموات ڈائریا اور تیز بخار کی وجہ سے ہوئی ہیں، بخار کے دوران اگر حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں تو اس سے موت واقع نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوںمیں خون اور خوراک کی شدید کمی تھی جس کی وجہ سے دیگر بچے دائریا اور بخار میں مبتلا ہو ئے ہیںاور جن بچوں میں وائرل انفیکشن ہورہا ہے ان کے والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ بچوں کو فوری طور پر تعلقہ اسپتال داخل کرایا جائے تاکہ انکا علاج کیا جاسکے انہوںنے کہا کہ تعلقہ اسپتال میں ویکسین میں کسی بھی قسم کی خرابی نہیں تھی اور نہ ہی ویکسین زائد المیعاد ہوئی تھی۔