اورنگی بم دھماکے میں زخمی ہونے والاعینی شاہد دم توڑ گیا
7روز گزرنے پر بھی دھماکے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کا سراغ نہیں ملا.
24 سالہ عابد شدید زخمی ہو گیا تھا،ہلاکت بڑا نقصان ہے،انویسٹی گیشن پولیس فوٹو : فائل
اورنگی ٹائون بم دھماکے میں زخمی ہونے والادھماکے کا عینی شاہد دوران علاج دم توڑ گیا۔
جبکہ 7روز گزر جانے کے باوجود بم دھماکے میں استعمال کی جانے والی موٹر سائیکل کا سراغ نہ مل سکا، تفصیلات کے مطابق 21نومبرکواورنگی ٹائون نمبر 5 شارع اورنگی پر واقع امام بارگاہ حیدر کرار سے متصل دکانوں کے قریب 2 بم دھماکے کیے گئے تھے، پہلے بم دھماکے میں 2 افرادہلاک اور ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ دوسرے بم دھماکے میںصحافی، پولیس اہلکار اور امدادی رضا کاروں سمیت 13افراد زخمی ہوئے تھے ،امام بارگاہ سے متصل دکانوںکے قریب کیے جانے والے بم دھاکے میں پنکچر کی دکان پر کام کرنے والا اورنگی ٹائون مکان نمبر 15-Cآئی سیکٹر 11-Eکا رہائشی 24 سالہ عابد شدید زخمی ہو گیا تھا،تاہم وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد اورنگی ٹائون بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3 ہو گئی۔
عابد کو اورنگی ٹائون10 نمبر کے قریب واقع مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا، پولیس عابد کی ہلاکت کو ایک بڑا نقصان قرار دے رہی ہے، انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والی موٹر سائیکل کے انجن نمبر اور چیسز نمبر والا حصہ نہیں مل سکا جس کی وجہ سے موٹر سائیکل کے اصل مالک کو تلاش کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
دھماکے میں موٹر سائیکل نمبرKDA-4778 استعمال کی گئی تھی جو اوپن لیٹر پر ناصر مرزا نامی شخص کے نام رجسٹرڈ ہے ،انھوں نے بتایا کہ بم دھماکے میں ملوث ملزمان کے خاکے تیار کرنے کے حوالے سے کسی بھی شخص نے انویسٹی گیشن پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے تحقیقات میں اب تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی ہے ۔
جبکہ 7روز گزر جانے کے باوجود بم دھماکے میں استعمال کی جانے والی موٹر سائیکل کا سراغ نہ مل سکا، تفصیلات کے مطابق 21نومبرکواورنگی ٹائون نمبر 5 شارع اورنگی پر واقع امام بارگاہ حیدر کرار سے متصل دکانوں کے قریب 2 بم دھماکے کیے گئے تھے، پہلے بم دھماکے میں 2 افرادہلاک اور ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ دوسرے بم دھماکے میںصحافی، پولیس اہلکار اور امدادی رضا کاروں سمیت 13افراد زخمی ہوئے تھے ،امام بارگاہ سے متصل دکانوںکے قریب کیے جانے والے بم دھاکے میں پنکچر کی دکان پر کام کرنے والا اورنگی ٹائون مکان نمبر 15-Cآئی سیکٹر 11-Eکا رہائشی 24 سالہ عابد شدید زخمی ہو گیا تھا،تاہم وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد اورنگی ٹائون بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3 ہو گئی۔
عابد کو اورنگی ٹائون10 نمبر کے قریب واقع مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا، پولیس عابد کی ہلاکت کو ایک بڑا نقصان قرار دے رہی ہے، انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والی موٹر سائیکل کے انجن نمبر اور چیسز نمبر والا حصہ نہیں مل سکا جس کی وجہ سے موٹر سائیکل کے اصل مالک کو تلاش کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
دھماکے میں موٹر سائیکل نمبرKDA-4778 استعمال کی گئی تھی جو اوپن لیٹر پر ناصر مرزا نامی شخص کے نام رجسٹرڈ ہے ،انھوں نے بتایا کہ بم دھماکے میں ملوث ملزمان کے خاکے تیار کرنے کے حوالے سے کسی بھی شخص نے انویسٹی گیشن پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے تحقیقات میں اب تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی ہے ۔