جناح اسپتال شعبہ حادثات کے سامنے قائم پارکنگ ختم
شعبہ حادثات میں150ڈاکٹرہیں، بیک وقت100مریضوں کوطبی سہولت دی جاسکتی ہے.
ایمرجنسی میں 2آپریشن تھیٹرز مکمل فعال ہیں،سربراہ شعبہ حادثات ڈاکٹرسیمی جمالی ۔ فوٹو: فائل
جناح اسپتال انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ حادثے کے پیش نظراسپتال کے شعبہ حادثات کے سامنے کار اور موٹرسائیکل پارکنگ ختم کردی اورشعبہ حادثات میں مزید ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کو تعینات کردیا ۔
تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال انتظامیہ نے کراچی میں کسی بھی ممکنہ دہشت گردی اورنا خوشگوار واقعے میں متاثرین کو فوری اور بروقت طبی امدادکی فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے مزید فول پروف اقدامات کرلیے، اسپتال کے شعبہ حادثات کے سامنے کار اور موٹرسائیکل پارکنگ کو بھی ختم کردیا گیا جبکہ اسپتال انتظامیہ کی درخواست پر اسپتال میں غیر متعلقہ افرادکی آ ٓمدورفت روکنے کیلیے اسپتال کی حدود میں پولیس و رینجرز کے گشت میں بھی اضافہ کردیا، اسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹرسیمی جمالی نے بتایاکہ کراچی کی موجودہ صورتحال اور وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمدکی ہدایت پراسپتال کے شعبہ حادثات میں بستروںکی توسیع کردی گئی ہے،توسیع کے بعد اسپتال کے شعبہ حادثات میں بیک وقت 100 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اسپتال کے شعبہ حادثات میں بستروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ تینوں شفٹوں میں150 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل عملہ اور نرسوں کو بھی تعینات کردیاگیا ہے اوراس عملے کو ہنگامی طبی امداد کی فراہمی کی بھی تربیت دی گئی ہے، انھوں نے بتایا کہ ایمرجنسی میں 2آپریشن تھیٹرز مکمل فعال ہیں،انھوں نے کہا کہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر رینجرز اور متعلقہ پولیس حکام اور صوبائی محکمہ صحت کے سیکریٹری سمیت دیگر افسران نے بھی اسپتال کا دورہ کیا تھا اور اسپتال میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا تھا، انھوں نے کہاکہ صوبائی محکمہ صحت، رینجرزاور پولیس حکام نویں اور دسویں محرم کو اسپتال کے مکمل رابطے میں رہے جس سے اسپتال کے شعبہ حادثات میںکام کرنے والے پیرا میڈیکل عملہ، ڈاکٹروں کو سراہا ، انھوں نے بتایا کہ کراچی میں دہشت گردی کی اطلاعات کے باوجود اسپتال کا عملہ ہائی الرٹ رہا لیکن خوف اور شدید دباؤ میں اپنے فرائض انجام دیے۔
تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال انتظامیہ نے کراچی میں کسی بھی ممکنہ دہشت گردی اورنا خوشگوار واقعے میں متاثرین کو فوری اور بروقت طبی امدادکی فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے مزید فول پروف اقدامات کرلیے، اسپتال کے شعبہ حادثات کے سامنے کار اور موٹرسائیکل پارکنگ کو بھی ختم کردیا گیا جبکہ اسپتال انتظامیہ کی درخواست پر اسپتال میں غیر متعلقہ افرادکی آ ٓمدورفت روکنے کیلیے اسپتال کی حدود میں پولیس و رینجرز کے گشت میں بھی اضافہ کردیا، اسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹرسیمی جمالی نے بتایاکہ کراچی کی موجودہ صورتحال اور وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمدکی ہدایت پراسپتال کے شعبہ حادثات میں بستروںکی توسیع کردی گئی ہے،توسیع کے بعد اسپتال کے شعبہ حادثات میں بیک وقت 100 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اسپتال کے شعبہ حادثات میں بستروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ تینوں شفٹوں میں150 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل عملہ اور نرسوں کو بھی تعینات کردیاگیا ہے اوراس عملے کو ہنگامی طبی امداد کی فراہمی کی بھی تربیت دی گئی ہے، انھوں نے بتایا کہ ایمرجنسی میں 2آپریشن تھیٹرز مکمل فعال ہیں،انھوں نے کہا کہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر رینجرز اور متعلقہ پولیس حکام اور صوبائی محکمہ صحت کے سیکریٹری سمیت دیگر افسران نے بھی اسپتال کا دورہ کیا تھا اور اسپتال میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا تھا، انھوں نے کہاکہ صوبائی محکمہ صحت، رینجرزاور پولیس حکام نویں اور دسویں محرم کو اسپتال کے مکمل رابطے میں رہے جس سے اسپتال کے شعبہ حادثات میںکام کرنے والے پیرا میڈیکل عملہ، ڈاکٹروں کو سراہا ، انھوں نے بتایا کہ کراچی میں دہشت گردی کی اطلاعات کے باوجود اسپتال کا عملہ ہائی الرٹ رہا لیکن خوف اور شدید دباؤ میں اپنے فرائض انجام دیے۔