ججز تقرری کیس وزیراعظم کی شفاف ریفرنس تیار کرنیکی ہدایت

وزیرقانون سے ملاقات میں صدارتی ریفرنس پر تفصیلی بات چیت، پوچھے جانے والے سوالات کا جائزہ لیا،راجاپرویز اشرف

صدر کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری نہ کیے جانے کے باعث سابق ججز نور الحق اور شوکت عزیز مقدمات کے تفصیلی فیصلے اورآرڈر جاری نہیں کر سکتے،رجسٹرار کا ریٹائرڈ ججز کو خط . فوٹو :اے ایف پی/فائل

وزیراعظم راجا پرویز اشرف سے یہاں وزیراعظم ہائوس میں وفاقی وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور فاروق ایچ نائیک نے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے معاملے پر رائے حاصل کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے سامنے صدر مملکت کی طرف سے پیش کیے جانے والے مجوزہ ریفرنس پر تفصیلی بات چیت کی۔

ملاقات کے دوران سپریم کورٹ کی رائے معلوم کرنے کیلیے پوچھے جانے والے سوالات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے وزیر قانون کو ہدایت کی کہ آئین کی روح کے مطابق شفاف انداز میں تمام ایشوز کو حل کرنے کیلیے ریفرنس تیار کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ آئین کا احترام کیا اور جب بھی ایسا کوئی مسئلہ پیدا ہوا جب ریاست کے کسی ستون یا کسی نکتہ قانون کا سوال ہو حکومت نے آئین کے مطابق رجوع کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے وزیر قانون کے مشورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسے نہ صرف عدلیہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ ججوں کی تقرری کا عمل بھی واضح ہو گا اور حکومت کی اس پالیسی کا اعادہ ہو گا کہ تمام اداروں کو ایک دوسرے کے امور میں مداخلت کے بغیر آپس میں ہم آہنگی اور مشاورت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔


وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ریفرنس دائر کرنے سے عام آدمی کی نگاہ میں ریاست کے اداروں کے احترام میں اضافہ ہو گا جس سے جمہوریت اور ریاستی ادارے مستحکم ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی کنفرمیشن کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ کی ایڈوائس حاصل کرنے کیلیے ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔وقائع نگارخصوصی کے مطابق آئندہ چند روز کے اندر سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے معاملے پر رائے لینے کیلیے صدر مملکت کی طرف سے ریفرنس عدالت عظمیٰ میں دائر کیا جائیگا۔ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سے وزیر داخلہ رحمن ملک نے ایوان وزیراعظم میں ملاقات کی اور انھیں عاشورہ کے دوران ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کیلیے اپنی وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کیلیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر علمائے کرام اور تمام شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے افراد کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام نے اس امر کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلیے تیار ہیں۔

رکن قومی اسمبلی سردار محمد مشتاق خان سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سماجی و اقتصادی فلاح و بہبود کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو سابق ججز جن کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا تھا ان سے مقدمات کی فائلیں رجسٹرار ہائی کورٹ کے پاس جمع کرانے کا لیٹر جاری کیا گیا ہے۔ رجسٹرار آفس ذرائع کے مطابق لکھے گئے خط میں واضح کیا گیا کہ تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث فاضل ججز مقدمات کے تفصیلی فیصلے اور ان پر آرڈر جاری نہیں کر سکتے لہٰذا مقدمات کی فائلیں رجسٹرار آفس کو بھیج دی جائیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس نور الحق قریشی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا تھا۔ واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مستقل کرنے اور جسٹس نور الحق قریشی کو بطور ایڈیشنل جج چھ ماہ توسیع کی سفارش کی تھی جس کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی توثیق کر دی تھی لیکن صدر کی جانب سے ان دونوں ججز کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اب سپریم کورٹ کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کیلیے صدر کو دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ دوہفتوں میں ریفرنس دائر نہیں کیا جاتا تو معاملہ سماعت کیلیے سپریم کورٹ کے فاضل بینچ کے سامنے لگایا جائے تاہم پیر کو رجسٹرار ہائی کورٹ نے معاملہ فوری حل نہ ہونے کے باعث فاضل ججز سے فائلیں رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔آن لائن نے نجی ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے سیکڑوں مقدمات کے فیصلے رکوا دیے۔ سابق ججز سے مقدمات کا ریکارڈ بھی منگوا لیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے دو سابق ججز جسٹس نور الحق قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے نام ایک خط میں کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججز نہ تو تفصیلی فیصلے جاری کر سکتے ہیں اور نہ ہی وجوہ بیان کر سکتے ہیں ۔

Recommended Stories

Load Next Story