تاجروں کے بعد ٹرانسپورٹروں کی من مانی
پردیسیوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹرانسپورٹرز نے بھی کمر کس لی ہے اور سرعام اوور چارجنگ کی جا رہی ہے
تمام تر حکومتی دعووں کے باوجود اوور چارجنگ نہیں روکی جا سکی ہے۔ فوٹو : محمد عظیم
MULTAN:
رمضان المبارک میں تاجروں اور دکانداروں کی روائیتی لوٹ مار کے بعد اب عید کی چھٹیوں میں ٹرانسپورٹروں کی طرف سے بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جانے والے مسافروں سے دوگنے تین گنے کرایے وصول کر کے موقع سے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا رہا ہے جب کہ ذمے دار سرکاری حکام کی طرف سے روائتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے کہ موقع سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے ٹرانسپورٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ان کی بسیں بند کر دی جائیں گی وغیرہ۔ ان ایام میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ وغیرہ کے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشن پر بے پناہ رش ہے، پردیسیوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹرانسپورٹرز نے بھی کمر کس لی ہے اور سرعام اوور چارجنگ کی جا رہی ہے۔
دور دراز کے علاقوں کے رہنے والے پردیسیوں نے جمعۃالوداع سے ہی بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کو واپسی شروع کر دی، عید پر اپنے گھروں کو جانے والوں میں سے کچھ افراد نے تو ایڈوانس بکنگ کرا رکھی ہے انھیں ٹکٹ کے حصول کے لیے موقع پر زیادہ مشکل سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تاہم مسافروں کی اکثریت اس سہولت سے محروم رہی جس کی وجہ سے موقع پر ٹکٹ کا حصول ان کے لیے شدید مشکل کا باعث بنا۔
مسافروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بس اڈوں پر من مانے کرائے وصول کیے جا رہے ہیں۔ مسافروں سے بس کے آخری اسٹاپ کا کرایہ وصول کیا جا رہا ہے خواہ سواری نے آدھے راستے میں ہی اترنا ہو۔ تمام تر حکومتی دعووں کے باوجود اوور چارجنگ نہیں روکی جا سکی ہے۔
رمضان المبارک میں تاجروں اور دکانداروں کی روائیتی لوٹ مار کے بعد اب عید کی چھٹیوں میں ٹرانسپورٹروں کی طرف سے بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جانے والے مسافروں سے دوگنے تین گنے کرایے وصول کر کے موقع سے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا رہا ہے جب کہ ذمے دار سرکاری حکام کی طرف سے روائتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے کہ موقع سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے ٹرانسپورٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ان کی بسیں بند کر دی جائیں گی وغیرہ۔ ان ایام میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ وغیرہ کے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشن پر بے پناہ رش ہے، پردیسیوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹرانسپورٹرز نے بھی کمر کس لی ہے اور سرعام اوور چارجنگ کی جا رہی ہے۔
دور دراز کے علاقوں کے رہنے والے پردیسیوں نے جمعۃالوداع سے ہی بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کو واپسی شروع کر دی، عید پر اپنے گھروں کو جانے والوں میں سے کچھ افراد نے تو ایڈوانس بکنگ کرا رکھی ہے انھیں ٹکٹ کے حصول کے لیے موقع پر زیادہ مشکل سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تاہم مسافروں کی اکثریت اس سہولت سے محروم رہی جس کی وجہ سے موقع پر ٹکٹ کا حصول ان کے لیے شدید مشکل کا باعث بنا۔
مسافروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بس اڈوں پر من مانے کرائے وصول کیے جا رہے ہیں۔ مسافروں سے بس کے آخری اسٹاپ کا کرایہ وصول کیا جا رہا ہے خواہ سواری نے آدھے راستے میں ہی اترنا ہو۔ تمام تر حکومتی دعووں کے باوجود اوور چارجنگ نہیں روکی جا سکی ہے۔