ترک پاور ادائیگی کیے بغیر گیا تو ذمے دار چئیر مین نیب ہونگے چیف جسٹس
بجلی کی قیمت منہاکرکے باقی رقم لی جائے، عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن نہیں رکتی تو تشویشناک بات ہوگی، ریمارکس
کارکے پلانٹ کے ذمے11ارب ہیں، ترک سفیرنے رابطہ کیا،نیب وکیل،،ملک لوٹ کر جانیکی اجازت نہیں دے سکتے،جسٹس افتخار فوٹو: فائل
LONDON:
نیب نے ایک دفعہ پھر سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بحری جہاز پرقائم ترکی کے رینٹل پاورپلانٹ کارکے سے واجبات وصول کیے بغیراسے ملک سے جانے نہیں دیاجا ئے گا۔
جبکہ چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ اگر جہاز ادائیگی کیے بغیر ملک سے با ہرگیا تو ذمے داری چیئرمین نیب پر ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ملک لوٹ کر چلا جائے۔ چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے رینٹل پاورکیس میں ذمے داران کیخلاف کارروائی اور رقم کی وصولی کے مقدمے کی سماعت کی ۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے بتایاکہ کارکے کے ذمے 12کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں، اس سے پیشتر نیب کا موقف تھا کہ کارکے کے ذمے ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر واجب الادا ہیں جبکہ فیصل صالح حیات نے بتایا کہ ان کے حساب کے مطابق 12کروڑ 80لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا نیب کی موجودہ اور پہلی رپورٹ میں واضح فرق ہے، اگر رقم میںکوئی ردوبدل ہوا تو نیب ذمہ دار ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہااس رقم سے بجلی کی قیمت منہا کر کے باقی رقم کمپنی سے وصولی کی جائے ۔نیب نے تحریری طور پر عدالت کو بتایا کہ تمام رقم کی وصولی کیلئے قابل قبول بینک گارنٹی حاصل کرنے کے بعد پلانٹ کو لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا بدعنوانی کے مقدمات پر عملدرآمدکا مقصد آئندہ کیلئے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کر نا ہے لیکن اگر عدالت کے فیصلوں کے باوجود بدعنوانی کا سلسلہ نہیں رکتا تو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک بات ہوگی۔کے کے آغا نے کہا رقم وصول نہیں ہوئی توکارروائی کریںگے۔عدالت نے درخواست کونمٹاتے ہوئے قراردیاکہ فیصلے کے بعداضافی رقم نکلنے پر ادائیگی چیئرمین نیب کی ذمے داری ہوگی۔ آئی این پی کے مطابق چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب شہزاد اکبر بھٹی کا دستخط شدہ بیان جمع کرایا گیا۔
جس میں نیب نے تسلیم کیا کہ کارکے کے ذمہ تقریباً11ارب روپے واجب الادا ہیں، چیف جسٹس نے کہا یہ لین دین کا معاملہ ہے، کیس کے دیوانی اور فوجداری دونوں پہلو دیکھے جائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کارکے سے گارنٹی لے کر جانے کی اجازت دی جائے، گارنٹی اس سے لی جائے جورقم ادا کردے ، رقم ادا کئے بغیرکارکے جہاز روانہ ہوا تو چیئرمین نیب ذمہ دار ہوںگے۔نیب کارکے کے ذمہ تمام رقم ریکور کرے ۔عدالت نے فیصل صالح حیات کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بڑاسکینڈل بے نقاب کیاہے ۔پراسیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ ترکی کے سفیر نے بھی کارکے کے حوالے سے رابطہ کیا ہے جس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ توکیا پورا پاکستان ترکی کودیدیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے تمام منصوبہ کالعدم قرار دے کر ایڈوانس کی رقم واپس لینے کا حکم دیا تھا، فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے، نیب فیصلوںکی اپنی تشریح نہیں کرسکتا۔کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ ایڈوانس کی رقم چودہ فیصد تھی، سات فیصد واپس آئی ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ فیصلے کے آ ٹھ ماہ بعد بھی نیب حساب کتاب میں الجھا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین نیب کو ادارتی احترام کی وجہ سے نہیں بلا رہے ہیں ورنہ ان کیخلاف شکایتیں بہت ہیں۔
نیب نے ایک دفعہ پھر سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بحری جہاز پرقائم ترکی کے رینٹل پاورپلانٹ کارکے سے واجبات وصول کیے بغیراسے ملک سے جانے نہیں دیاجا ئے گا۔
جبکہ چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ اگر جہاز ادائیگی کیے بغیر ملک سے با ہرگیا تو ذمے داری چیئرمین نیب پر ہوگی،چیف جسٹس نے کہا کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ملک لوٹ کر چلا جائے۔ چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے رینٹل پاورکیس میں ذمے داران کیخلاف کارروائی اور رقم کی وصولی کے مقدمے کی سماعت کی ۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے بتایاکہ کارکے کے ذمے 12کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں، اس سے پیشتر نیب کا موقف تھا کہ کارکے کے ذمے ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر واجب الادا ہیں جبکہ فیصل صالح حیات نے بتایا کہ ان کے حساب کے مطابق 12کروڑ 80لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا نیب کی موجودہ اور پہلی رپورٹ میں واضح فرق ہے، اگر رقم میںکوئی ردوبدل ہوا تو نیب ذمہ دار ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہااس رقم سے بجلی کی قیمت منہا کر کے باقی رقم کمپنی سے وصولی کی جائے ۔نیب نے تحریری طور پر عدالت کو بتایا کہ تمام رقم کی وصولی کیلئے قابل قبول بینک گارنٹی حاصل کرنے کے بعد پلانٹ کو لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا بدعنوانی کے مقدمات پر عملدرآمدکا مقصد آئندہ کیلئے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کر نا ہے لیکن اگر عدالت کے فیصلوں کے باوجود بدعنوانی کا سلسلہ نہیں رکتا تو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک بات ہوگی۔کے کے آغا نے کہا رقم وصول نہیں ہوئی توکارروائی کریںگے۔عدالت نے درخواست کونمٹاتے ہوئے قراردیاکہ فیصلے کے بعداضافی رقم نکلنے پر ادائیگی چیئرمین نیب کی ذمے داری ہوگی۔ آئی این پی کے مطابق چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب شہزاد اکبر بھٹی کا دستخط شدہ بیان جمع کرایا گیا۔
جس میں نیب نے تسلیم کیا کہ کارکے کے ذمہ تقریباً11ارب روپے واجب الادا ہیں، چیف جسٹس نے کہا یہ لین دین کا معاملہ ہے، کیس کے دیوانی اور فوجداری دونوں پہلو دیکھے جائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کارکے سے گارنٹی لے کر جانے کی اجازت دی جائے، گارنٹی اس سے لی جائے جورقم ادا کردے ، رقم ادا کئے بغیرکارکے جہاز روانہ ہوا تو چیئرمین نیب ذمہ دار ہوںگے۔نیب کارکے کے ذمہ تمام رقم ریکور کرے ۔عدالت نے فیصل صالح حیات کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بڑاسکینڈل بے نقاب کیاہے ۔پراسیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ ترکی کے سفیر نے بھی کارکے کے حوالے سے رابطہ کیا ہے جس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ توکیا پورا پاکستان ترکی کودیدیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے تمام منصوبہ کالعدم قرار دے کر ایڈوانس کی رقم واپس لینے کا حکم دیا تھا، فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے، نیب فیصلوںکی اپنی تشریح نہیں کرسکتا۔کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ ایڈوانس کی رقم چودہ فیصد تھی، سات فیصد واپس آئی ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ فیصلے کے آ ٹھ ماہ بعد بھی نیب حساب کتاب میں الجھا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین نیب کو ادارتی احترام کی وجہ سے نہیں بلا رہے ہیں ورنہ ان کیخلاف شکایتیں بہت ہیں۔