بینکوں میں صارفین کی مشکلات

یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اس بار بار ہونے والی خرابی کو دور کرنے کے لیے کوئی ’’بیک اپ‘‘ بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا؟

ادھر پاکستان کو اب سرکاری ملازمین کی چھٹیوں کے حوالے سے بھی نئے رولز اینڈ ریگولیشنز بنانے پر توجہ دینی چاہیے فوٹو: فائل

ملک بھر میں مختلف بینکوں کے آن لائن لنکس ڈاؤن ہونے سے ہزاروں اے ٹی ایم مشینیں عید کی چھٹیوں سے پہلے ہی خراب ہو گئیں جس سے صارفین، سرکاری ملازمین اور بوڑھے پنشنرز سخت پریشان ہوئیِ۔ کراچی، لاہور، پشاور اور بعض دیگر مقامات پر سرکاری ملازمین اور صارفین نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ اسٹیٹ بینک نے ملک کے تمام سرکاری اور نجی بینکوں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ عیدالفطر کے پیش نظر صارفین کو بلا تعطل بینکاری کی سہولت فراہم کی جائے اور تمام بینکوں کی تمام شاخیں چھٹی کے باوجود ہفتے کو کھلی رہیں تاہم گزشتہ روز کئی بینکوں کے آن لائن لنکس ڈاؤن ہو گئے۔

اس حوالے سے یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اس بار بار ہونے والی خرابی کو دور کرنے کے لیے کوئی ''بیک اپ'' بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا؟ اخباری اطلاعات کے مطابق ہفتے کے دن بینک سے تنخواہ اور پنشن وصول کرنیوالے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور عام صارفین کی بڑی تعداد بینکو ں کے کھلنے سے قبل ہی پہنچ گئی جس سے طویل قطاریں لگ گئیں۔


صارفین اور بوڑھے پنشنرز کو اس وقت شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑا جب پتہ چلا کہ انھیں پیسے نہیں مل سکیں گے۔ زیادہ بہتر ہوتا اگر حکومت کم از کم پنشن کی رقوم 10 روز قبل بینکوں میں ٹرانسفر کر دیتی تا کہ پنشنرز حضرات آسانی سے اپنی رقوم حاصل کر لیتے، اب چونکہ عید میں چند روز باقی ہیں، اس لیے بینکوں میں رش بڑھ گیا ہے۔

ادھر پاکستان کو اب سرکاری ملازمین کی چھٹیوں کے حوالے سے بھی نئے رولز اینڈ ریگولیشنز بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ مفاد عامہ کے اداروں کے دفاتر بند ہی نہیں ہونے چاہئیں، ملک کا مالیاتی نظام پورا ہفتہ جاری و ساری رہنا چاہیے، ملازمین روٹیٹڈ چھٹیاں کریں، اس طرح کام بھی جاری رہے گا اور ملازمین کو چھٹیاں کرنے کا حق بھی حاصل رہے گا، ملک کی ترقی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔
Load Next Story