گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی بحران برقرار پاور جنریٹرز کی درآمد173ارب روپے پہنچ گئی

جولائی تا مئی  11ماہ میں 39فیصداضافہ ہوا، اسی عرصے میں 121ارب روپے کی پاور جنریٹنگ مشینری درآمد کی گئی تھی

جولائی تا مئی  11ماہ میں 39فیصداضافہ ہوا،مالی سال 2014-15کے اسی عرصے میں 121ارب روپے کی پاور جنریٹنگ مشینری درآمد کی گئی تھی فوٹو: فائل

ملک میں بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے بجلی پیدا کرنے والی مشینری(جنریٹرز) کی درآمد میں گزشتہ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 39فیصد اضافہ ہوا ہے اور مجموعی طور پر 173ارب روپے سے زائد کی پاور جنریٹنگ مشینری درآمد کی گئی ہے۔


سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا مئی کے دوران بجلی پیدا کرنے والی مشینری کی درآمد میں مالی سال 2014-15کے مقابلے میں 39فیصد تک اضافہ عمل میں آیا ہے۔ مالی سال 2014-15کے اسی عرصے میں 121.41ارب روپے کی پاور جنریٹنگ مشینری درآمد کی گئی تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق پاور جنریٹنگ مشینری کی درآمد پر پاکستان ہر سال ایک ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ خرچ کررہا ہے۔

مالی سال 2014-15کے اسی عرصے کے دوران پاور جنریٹنگ مشینری کی درآمد پر ایک ارب 19کروڑ 80لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ مالی کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران ایک ارب 66کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ بجلی کی قلت پوری کرنے کے لیے پاور جنریٹنگ مشینری کی درآمد پر خرچ کیا گیا ہے۔ صرف مئی 2016کے مہینے میں 12ارب 39کروڑ روپے سے زائد کی پاور جنریشن مشینری درآمد کی گئی ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ملک کے صنعتی اور کمرشل شعبے کے علاوہ گھریلو سطح پر بھی جنریٹرز کی مانگ میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے گھریلو سطح پر زیادہ تر چینی ساختہ جنریٹرز استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ کمرشل اور صنعتی استعمال کے لیے امریکی، کورین، جاپانی اور جرمن ساختہ مشینری درآمد کی جاتی ہے۔
Load Next Story