زرداری منتخب صدر ہیں شہباز کو سخت بیانات نہیں دینے چاہئیں نواز شریف
صدر سے وزارت عظمیٰ کا حلف لینے پر اعتراض نہیںہوگا،نئے صوبوں کے حوالے سے فیصلہ متفقہ کمیشن کرے، پی پی کی رخصتی قریب ہے
پنجاب پرامن صوبہ ہے جو رحمٰن ملک کو پسند نہیں، جماعت اسلامی سے اتحاد کی باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی، ٹی وی انٹرویو فوٹو: اے ایف پی/ فائل
مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کا کوئی امکان نہیں۔
صدر زرداری سے وزارت عظمی ٰکا حلف لینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، وہ منتخب صدر ہیں، شہباز شریف کو سخت بیانات نہیں دینے چاہئیں، نئے صوبوں کے حوالے سے فیصلہ متفقہ کمیشن کرے، انتخابات کے لیے بلوچستان میں فوج کے آنے سے لوگ تشویش کا شکار ہوں گے پنجاب پرامن صوبہ ہے جو رحمٰن ملک کو پسند نہیں، جماعت اسلامی سے اتحاد کی باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی۔عمران خان تمام لوگوں کی ذمے داری ہم پر ڈال دیتے ہیں وہ حکومت نہیں اپوزیشن کی اپوزیشن کر رہے ہیں، نجی ٹی وی کو انٹرویو میں نواز شریف نے کہاکہ پیپلز پارٹی حکومت کی رخصتی قریب ہے۔
وہ وزیراعظم منتخب ہوئے تو صدر زرداری سے منظور یا نامنظور ہونے کے بارے میں پوچھیں گے۔ وزیراعلی شہباز شریف صدر کے بارے میں اکثر سخت بیانات دے دیتے ہیں جو میرے خیال میں نہیں دینے چاہیں، انھوں نے کراچی کے حوالے سے کہا کہ وہاں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ ہوتا رہتا ہے کیونکہ وہاں لوگوں کو ایک پارٹی سے شکا یات ہیں جو سارے معاملات اپنے ہا تھ میں لے لیتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں، ہمارے دور میں کراچی کے حالات ایسے نہیں تھے، وہاں دہشتگردی نہیں تھی۔ کراچی کے حالات خراب کرنے میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے، ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے اداروں اور انتظامیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
صدر زرداری سے وزارت عظمی ٰکا حلف لینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، وہ منتخب صدر ہیں، شہباز شریف کو سخت بیانات نہیں دینے چاہئیں، نئے صوبوں کے حوالے سے فیصلہ متفقہ کمیشن کرے، انتخابات کے لیے بلوچستان میں فوج کے آنے سے لوگ تشویش کا شکار ہوں گے پنجاب پرامن صوبہ ہے جو رحمٰن ملک کو پسند نہیں، جماعت اسلامی سے اتحاد کی باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی۔عمران خان تمام لوگوں کی ذمے داری ہم پر ڈال دیتے ہیں وہ حکومت نہیں اپوزیشن کی اپوزیشن کر رہے ہیں، نجی ٹی وی کو انٹرویو میں نواز شریف نے کہاکہ پیپلز پارٹی حکومت کی رخصتی قریب ہے۔
وہ وزیراعظم منتخب ہوئے تو صدر زرداری سے منظور یا نامنظور ہونے کے بارے میں پوچھیں گے۔ وزیراعلی شہباز شریف صدر کے بارے میں اکثر سخت بیانات دے دیتے ہیں جو میرے خیال میں نہیں دینے چاہیں، انھوں نے کراچی کے حوالے سے کہا کہ وہاں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ ہوتا رہتا ہے کیونکہ وہاں لوگوں کو ایک پارٹی سے شکا یات ہیں جو سارے معاملات اپنے ہا تھ میں لے لیتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں، ہمارے دور میں کراچی کے حالات ایسے نہیں تھے، وہاں دہشتگردی نہیں تھی۔ کراچی کے حالات خراب کرنے میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے، ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے اداروں اور انتظامیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔