چترال میں سیلابی ریلے سے ہلاکتیں
ملک میں ہر سال بارشوں کے اس موسم میں سیلاب آتا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی اور ہلاکتیں ہوتی ہیں
سیاسی مفادات اپنی جگہ مگر انھیں ملکی مفادات پر ترجیح نہیں دینا چاہیے
چترال کے علاقے ارسون میں طوفانی بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلوں کے نتیجے میں 43 افراد جاں بحق ہوگئے، درجنوں مکانات اور دیگر املاک تباہ ہوگئیں، صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی، پاک فوج، چترال سکاوٹس، بارڈر پولیس اور چترال پولیس کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن کے دوران متعدد افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں' زخمیوں اور محصور افراد کو طبی مراکز اور محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔
چترال کے ضلع ناظم کے مطابق سیلاب رات دس بجے کے قریب آیا، ارسون گاؤں کے 35 گھر مکمل تباہ ہوگئے جب کہ 48 کو جزوی نقصان پہنچا، ایک مسجد ریلے میں بہہ جانے سے 16 نمازی، ایک فوجی چوکی بہہ جانے سے 8 جوان جاں بحق ہوگئے، مرنیوالوں میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد بھی شامل ہیں۔ ارسون وادی سے آنے والے ریلے نے نشیبی علاقہ نگر میں دریائے چترال کا راستہ بند کردیا ہے اور نگر کا پورا علاقہ بشمول قلعہ نگر متاثر ہے، کئی مکانات مصنوعی جھیل میں ڈوب گئے ہیں اور اس علاقے میں باغات و زمینوں کا کٹاؤ شروع ہوگیا ہے۔
علاقے میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔ قریبی دیہات کو بھی فلڈ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ارسون میں کوئی فلڈ وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی۔وزیر اعظم نواز شریف نے چترال میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ملک میں ہر سال بارشوں کے اس موسم میں سیلاب آتا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی اور ہلاکتیں ہوتی ہیں مگر انتظامیہ نے آج تک سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔ سیلاب آنے کے بعد انتظامیہ متحرک ہوتی ہے مگر تب تک سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔
اس موقع پر حکمران عوام کی مدد کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر جب سیلاب اتر جاتا ہے تو اس کے بعد انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور آیندہ آنے والے سیلاب کے لیے کوئی پیشگی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ انھیں ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کے باعث ہر سال سیلاب کے باعث پورے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چترال کے علاقے ارسون میں آنے والے سیلاب سے پہلے لوگوں کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی یہ انتظامیہ کی نااہلی اور روایتی سستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر شہریوں کو پہلے ہی سے فلڈ وارننگ جاری کر دی جاتی تو وہ اپنی جان و مال بچانے کے لیے انتظامات کر لیتے اور اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتیں نہ ہوتیں۔ دوسری جانب سیلاب اترنے کے بعد کوئی ایسے انتظامات نہیں کیے جاتے اور نہ ہی عمارات کی تعمیر کے حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کی جاتی ہے کہ سیلاب آنے کی صورت میں ان کے گھر تباہ نہ ہوں اور وہ پریشانی سے بچ سکیں۔
انتظامیہ کی جانب سے کوئی رہنمائی نہ ہونے یا قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث لوگ ایسی جگہوں پر گھروں کی تعمیر کرتے ہیں جہاں سے وہ بآسانی سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں۔ خبروں کے مطابق چترال کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ میانوالی کی تحصیل پپلاں کے مختلف علاقوں میں شدید بارش سے نہر کا بند ٹوٹ گیا جس سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ نالہ ڈیک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جب کہ آیندہ چند گھنٹوں میں سیلابی ریلے کا خطرہ ہے' بنوں میں تیز آندھی اور طوفانی بارش سے بجلی اور ٹیلیفون کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
ایک جانب پاکستان میں صاف پانی کی قلت پیدا ہونے سے بہت سے زرخیز علاقے بنجر ہوتے جا رہے ہیں' شہری علاقوں میں بھی پانی کی سطح روز بروز نیچے گرنے سے آیندہ آنے والے چند سالوں میں پانی کا بحران جنم لینے کا خدشہ ہے تو دوسری جانب سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے ذخائر نہ ہونے کے باعث ہر سال بڑی تعداد میں یہ پانی ضایع ہونے کے علاوہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے۔ چین کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں سیلابوں سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی تھی مگر اس نے بہتر منصوبہ بندی کے تحت اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پا لیا۔
مگر پاکستان میں ابھی تک اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی' صورت حال یہ ہے کہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ڈیموں کی تعمیر بھی متنازعہ بن چکی ہے۔ سیاستدانوں کو اس امر کا احساس ہی نہیں کہ ان کی مخالفت کے باعث ملک اور قوم کو کتنے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے، سیاسی مفادات اپنی جگہ مگر انھیں ملکی مفادات پر ترجیح نہیں دینا چاہیے۔ ملک بھر میں شدید بارشیں شروع ہونے کے باعث سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسے انتظامات سامنے نہیں آئے جس سے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے ۔
چترال کے ضلع ناظم کے مطابق سیلاب رات دس بجے کے قریب آیا، ارسون گاؤں کے 35 گھر مکمل تباہ ہوگئے جب کہ 48 کو جزوی نقصان پہنچا، ایک مسجد ریلے میں بہہ جانے سے 16 نمازی، ایک فوجی چوکی بہہ جانے سے 8 جوان جاں بحق ہوگئے، مرنیوالوں میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد بھی شامل ہیں۔ ارسون وادی سے آنے والے ریلے نے نشیبی علاقہ نگر میں دریائے چترال کا راستہ بند کردیا ہے اور نگر کا پورا علاقہ بشمول قلعہ نگر متاثر ہے، کئی مکانات مصنوعی جھیل میں ڈوب گئے ہیں اور اس علاقے میں باغات و زمینوں کا کٹاؤ شروع ہوگیا ہے۔
علاقے میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔ قریبی دیہات کو بھی فلڈ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ارسون میں کوئی فلڈ وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی۔وزیر اعظم نواز شریف نے چترال میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ملک میں ہر سال بارشوں کے اس موسم میں سیلاب آتا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی اور ہلاکتیں ہوتی ہیں مگر انتظامیہ نے آج تک سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔ سیلاب آنے کے بعد انتظامیہ متحرک ہوتی ہے مگر تب تک سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔
اس موقع پر حکمران عوام کی مدد کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر جب سیلاب اتر جاتا ہے تو اس کے بعد انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور آیندہ آنے والے سیلاب کے لیے کوئی پیشگی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ انھیں ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کے باعث ہر سال سیلاب کے باعث پورے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چترال کے علاقے ارسون میں آنے والے سیلاب سے پہلے لوگوں کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی یہ انتظامیہ کی نااہلی اور روایتی سستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر شہریوں کو پہلے ہی سے فلڈ وارننگ جاری کر دی جاتی تو وہ اپنی جان و مال بچانے کے لیے انتظامات کر لیتے اور اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتیں نہ ہوتیں۔ دوسری جانب سیلاب اترنے کے بعد کوئی ایسے انتظامات نہیں کیے جاتے اور نہ ہی عمارات کی تعمیر کے حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کی جاتی ہے کہ سیلاب آنے کی صورت میں ان کے گھر تباہ نہ ہوں اور وہ پریشانی سے بچ سکیں۔
انتظامیہ کی جانب سے کوئی رہنمائی نہ ہونے یا قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث لوگ ایسی جگہوں پر گھروں کی تعمیر کرتے ہیں جہاں سے وہ بآسانی سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں۔ خبروں کے مطابق چترال کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ میانوالی کی تحصیل پپلاں کے مختلف علاقوں میں شدید بارش سے نہر کا بند ٹوٹ گیا جس سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ نالہ ڈیک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جب کہ آیندہ چند گھنٹوں میں سیلابی ریلے کا خطرہ ہے' بنوں میں تیز آندھی اور طوفانی بارش سے بجلی اور ٹیلیفون کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
ایک جانب پاکستان میں صاف پانی کی قلت پیدا ہونے سے بہت سے زرخیز علاقے بنجر ہوتے جا رہے ہیں' شہری علاقوں میں بھی پانی کی سطح روز بروز نیچے گرنے سے آیندہ آنے والے چند سالوں میں پانی کا بحران جنم لینے کا خدشہ ہے تو دوسری جانب سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے ذخائر نہ ہونے کے باعث ہر سال بڑی تعداد میں یہ پانی ضایع ہونے کے علاوہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا ہے۔ چین کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں سیلابوں سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلتی تھی مگر اس نے بہتر منصوبہ بندی کے تحت اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پا لیا۔
مگر پاکستان میں ابھی تک اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی' صورت حال یہ ہے کہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ڈیموں کی تعمیر بھی متنازعہ بن چکی ہے۔ سیاستدانوں کو اس امر کا احساس ہی نہیں کہ ان کی مخالفت کے باعث ملک اور قوم کو کتنے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے، سیاسی مفادات اپنی جگہ مگر انھیں ملکی مفادات پر ترجیح نہیں دینا چاہیے۔ ملک بھر میں شدید بارشیں شروع ہونے کے باعث سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسے انتظامات سامنے نہیں آئے جس سے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے ۔