سعودی عرب میں خود کش دھماکے
بھرپور سیکیورٹی اقدامات کے باعث زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا اور دہشت گر اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے
سعودی عرب میں اس قسم کے واقعات اس بنا پر بھی بہت تعجب خیز ہیں کیونکہ یہ علاقہ دنیا بھر میں انتہائی پرامن طور پر مشہور رہا ہے، فوٹو : رائٹرز
سعودی عرب میں گزشتہ روز چار خود کش حملے ہوئے جس نے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ یہ دھماکے مدینہ منورہ، جدہ اور قطیف شہر میں ہوئے، مدینہ منورہ میں مسجد نبویﷺ کے باہرخود کش دھماکے میں4سیکیورٹی اہلکارشہید ہوئے۔ قطیف میں مسجد العمران کے باہر جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر بھی خود کش حملے کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی نیوز چینل العربیہ کے مطابق خود کش بمبار نے مسجد نبویﷺ اور جنت البقیع کے درمیان قائم سیکیورٹی ہیڈکوارٹر کونشانہ بنایا۔ سعودی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایاکہ مسجد نبوی ﷺ سے کچھ دور واقع سیکیورٹی ہیڈکوارٹرمیں افطار سے چند منٹ قبل ایک شخص داخل ہوا، ڈیوٹی پر موجود حکام نے اسے افطار کی دعوت دی تو اس نے خود کودھماکے سے اڑا دیا، حملے میں کوئی شہری جاں بحق یا زخمی نہیں ہوا۔
مدینہ منورہ اور قطیف میں خود کش حملہ کرنے والوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مقامی ہیں جب کہ جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر خود کو اڑانے والے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کے کسی علاقے سے ہے، بہر حال اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم ایک بات طے ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور مسلم امہ کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا ہے، سعودی عرب کے ارد گرد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پورا مشرق وسطیٰ سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی اور خانہ جنگی کا شکار ہے، شام و عراق کے علاقوں پر داعش کی باقاعدہ حکومت قائم ہے اور اس کی جڑیں پورے مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ شمالی افریقہ اور افغانستان تک پھیل چکی ہیں جب کہ سعودی عرب کے ہمسایہ ملک یمن کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا سب کو علم ہے، اس صورت حال میں امریکا اور اسرائیل کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔
ان خود کش حملوں کی ٹائمنگ بھی قابل غور ہے۔ یہ حملے عیدالفطر سے قبل کیے گئے، ماہ رمضان کے آخری ایام مسلمانوں کے لیے انتہائی عقیدت و جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، ماہ صیام کے اختتام پر عیدالفطر منائی جاتی ہے جو مسلمانوں کے لیے انتہائی خوشی اور مسرت کا دن ہوتا ہے لیکن اس سے قبل سعودی عرب کے تین شہروں خصوصاً مدینہ منورہ میں خود کش حملہ کراکے مسلمانوں کو جذباتی طور پرشدید متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان ایام میں خود کش حملوں کا مقصدسعودی عرب ہی نہیں پوری مسلم امہ کو افسردہ اور پریشان کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، رمضان المبارک میں مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ میں لاکھوں مسلمان موجود ہوتے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں بلکہ عام شہری اور زائرین مکمل طور پر محفوظ رہے، کسی پاکستانی کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سیکیورٹی پر مامور افراد شہید ہوئے ہیں، بھرپور سیکیورٹی اقدامات کے باعث زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا اور دہشت گر اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ یقیناً اس موقع پر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کے متمنی ہوں گے لیکن اللہ نے ان کی سازش کو ناکام کیا۔ بہرحال ان واقعات سے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ سعودی عرب میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے مزید سیکیورٹی کی ضرورت ہے تاکہ اسلام اور مسلم دشمن قوتیں کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ادھر پاکستانی حکام کو اس امر کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر خود کش حملہ آور جس کے بارے میں پاکستانی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، یہ شخص کون ہے، کہاں کا رہنے والا ہے، ممکن ہے کہ کسی اور ملک سے تعلق رکھتا ہو اور اس نے پاکستانی پاسپورٹ بنا رکھا ہو، اس لیے حقائق منظرعام پر آنے چاہئیں، اگر وہ شخص پاکستانی نہیں ہے اور اس نے کسی جعل سازی سے پاکستانی پاسپورٹ بنایا ہے تو عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سے پہلے ترکی اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہو چکی ہیں، پاکستان کو اس حوالے سے چوکنا رہنا ہوگا۔سعودی عرب میں دہشت گردوں کی وارداتوں سے پوری امت مسلمہ میں انتہائی تشویش پھیل گئی ہے کیونکہ اسلام کے مقدس ترین حرمین اسی سرزمین پر واقع ہیں جن کی ہر مسلمان کے دل میں ایک خاص اہمیت اور مقام ہے اور ہر مومن کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ ان مقدس مقامات پر حاضری دے ۔ سعودی عرب میں اس قسم کے واقعات اس بنا پر بھی بہت تعجب خیز ہیں کیونکہ یہ علاقہ دنیا بھر میں انتہائی پرامن طور پر مشہور رہا ہے ۔ سعودی حکومت کو ان واقعات کے بعد اور زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
مدینہ منورہ اور قطیف میں خود کش حملہ کرنے والوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مقامی ہیں جب کہ جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر خود کو اڑانے والے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کے کسی علاقے سے ہے، بہر حال اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم ایک بات طے ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور مسلم امہ کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا ہے، سعودی عرب کے ارد گرد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پورا مشرق وسطیٰ سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی اور خانہ جنگی کا شکار ہے، شام و عراق کے علاقوں پر داعش کی باقاعدہ حکومت قائم ہے اور اس کی جڑیں پورے مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ شمالی افریقہ اور افغانستان تک پھیل چکی ہیں جب کہ سعودی عرب کے ہمسایہ ملک یمن کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا سب کو علم ہے، اس صورت حال میں امریکا اور اسرائیل کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔
ان خود کش حملوں کی ٹائمنگ بھی قابل غور ہے۔ یہ حملے عیدالفطر سے قبل کیے گئے، ماہ رمضان کے آخری ایام مسلمانوں کے لیے انتہائی عقیدت و جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، ماہ صیام کے اختتام پر عیدالفطر منائی جاتی ہے جو مسلمانوں کے لیے انتہائی خوشی اور مسرت کا دن ہوتا ہے لیکن اس سے قبل سعودی عرب کے تین شہروں خصوصاً مدینہ منورہ میں خود کش حملہ کراکے مسلمانوں کو جذباتی طور پرشدید متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان ایام میں خود کش حملوں کا مقصدسعودی عرب ہی نہیں پوری مسلم امہ کو افسردہ اور پریشان کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، رمضان المبارک میں مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ میں لاکھوں مسلمان موجود ہوتے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں بلکہ عام شہری اور زائرین مکمل طور پر محفوظ رہے، کسی پاکستانی کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سیکیورٹی پر مامور افراد شہید ہوئے ہیں، بھرپور سیکیورٹی اقدامات کے باعث زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا اور دہشت گر اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ یقیناً اس موقع پر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کے متمنی ہوں گے لیکن اللہ نے ان کی سازش کو ناکام کیا۔ بہرحال ان واقعات سے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ سعودی عرب میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے مزید سیکیورٹی کی ضرورت ہے تاکہ اسلام اور مسلم دشمن قوتیں کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ادھر پاکستانی حکام کو اس امر کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر خود کش حملہ آور جس کے بارے میں پاکستانی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، یہ شخص کون ہے، کہاں کا رہنے والا ہے، ممکن ہے کہ کسی اور ملک سے تعلق رکھتا ہو اور اس نے پاکستانی پاسپورٹ بنا رکھا ہو، اس لیے حقائق منظرعام پر آنے چاہئیں، اگر وہ شخص پاکستانی نہیں ہے اور اس نے کسی جعل سازی سے پاکستانی پاسپورٹ بنایا ہے تو عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سے پہلے ترکی اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہو چکی ہیں، پاکستان کو اس حوالے سے چوکنا رہنا ہوگا۔سعودی عرب میں دہشت گردوں کی وارداتوں سے پوری امت مسلمہ میں انتہائی تشویش پھیل گئی ہے کیونکہ اسلام کے مقدس ترین حرمین اسی سرزمین پر واقع ہیں جن کی ہر مسلمان کے دل میں ایک خاص اہمیت اور مقام ہے اور ہر مومن کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ ان مقدس مقامات پر حاضری دے ۔ سعودی عرب میں اس قسم کے واقعات اس بنا پر بھی بہت تعجب خیز ہیں کیونکہ یہ علاقہ دنیا بھر میں انتہائی پرامن طور پر مشہور رہا ہے ۔ سعودی حکومت کو ان واقعات کے بعد اور زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔