اے ٹی ایم خدمات کے پست معیار سے نقد لین دین کے رجحان میں اضافہ

رقوم کی عدم دستیابی اور مسئلے کے حل کیلیے اقدامات نہ کیے جانا اسٹیٹ بینک کی کارکردگی پر سوالیہ بن گیا

رقوم کی عدم دستیابی اور مسئلے کے حل کیلیے اقدامات نہ کیے جانا اسٹیٹ بینک کی کارکردگی پر سوالیہ بن گیا فوٹو: فائل

پاکستان میں اہم تہواروں کے موقع پر بینکوں کی ناقص حکمت عملی اور اے ٹی ایم کے ذریعے رقوم کی ادائیگیوں کے نظام میں تعطل ملک میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے پانچ سالہ منصوبے ''ویژن 2020'' کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ بن چکی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے سرگرم ہے تاہم عید، بقرعید اور دیگر اہم تہواروں کے موقع پر اے ٹی ایمز کے ذریعے رقوم کی عدم دستیابی بینکاری نظام پر عوام کا اعتماد کم کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے جس سے خود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی فعالیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ پاکستان میں بینکوں کی جانب سے عوام کو دھڑا دھڑ بینک کارڈز تو جاری کیے جارہے ہیں تاہم اے ٹی ایمز کی تعداد بڑھانے اور عوام کی طلب کے مطابق اے ٹی ایمز میں رقوم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات نہیں کیے جارہے۔

اس ضمن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔ اے ٹی ایمز کی بندش کے ہر دورانیے میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کو رسمی ہدایات جاری کی جاتی ہیں تاہم عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے والے بینکوں کے خلاف تادیبی کارروائی کے بارے میں کبھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی جاتیں۔ عوام اور ماہرین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ بینکوں کے ڈپازٹس اور بینکنگ انڈسٹری کو منافع بخش بنانے کے بجائے عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور خدمات کا معیار بہتر بنانے پر توجہ دی جائے تاکہ عوام کا بینکاری نظام پر اعتماد قائم ہوسکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکوں کی صلاحیت بڑھانے میں ناکام ہے جس کا اندازہ ملک میں نصب اے ٹی ایمز مشینوں کی تعداد سے کیا جاسکتا ہے۔


سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے اختتام تک ملک بھر میں نصب اے ٹی ایمز مشینوں کی تعداد 10ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے، اس کے مقابلے میں بینکوں نے 3کروڑ 27لاکھ سے زائد اے ٹی ایمز کارڈز، ڈیبٹ کارڈز اور کریڈٹ کارڈز جاری کررکھے ہیں۔ اس طرح ملک میں زیر گرد بینک کارڈز کی تعداد کے مقابلے میں اے ٹی ایمز کی تعداد انتہائی محدود ہے، خطے کے دیگر ملکوں اور ترقی پذیر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کا شمار ہر ایک ہزار کارڈز کے مقابلے میں اے ٹی ایم کی کم ترین تعداد کے حامل ملکوں میں کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں زیر گردش بینک کارڈز کی تعداد کے لحاظ سے ہر 3 ہزار کارڈز کے مقابلے میں ایک اے ٹی ایم موجود ہے۔ بینکوں نے اپنے ڈپازٹس بڑھانے کے لیے عوام سے کھاتوں میں رقوم تو جمع کروالی ہیں تاہم ان رقوم کی آسان ادائیگی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کھاتے داروں کی تعداد بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ اکاؤنٹ کھولنے پر توانائیاں صرف کررہا ہے جبکہ کمرشل بینکوں کے آپریشنز کو بہتر بنانے، اے ٹی ایمز کی تعداد میں اضافے بالخصوص بینکوں کے آئی ٹی انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر توجہ نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے آئے دن بینکوں کے نیٹ ورک ڈاؤن رہنے، اے ٹی ایمز کے لنک میں خرابی جیسے واقعات پیش آتے ہیں ۔

جس سے صارفین خود اپنی ہی جمع شدہ رقوم کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اے ٹی ایمز کے ذریعے ماہانہ بنیادوں پر 250سے 260ارب روپے کی رقوم نکلوائی جاتی ہیں، سہ ماہی بنیادوں پر اے ٹی ایمز کے ذریعے 800سے 900ارب روپے کی رقوم نکلوائی جاتی ہیں، اس طرح زیر گردش بینک کارڈز کی تعداد کے لحاظ سے ہر اے ٹی ایم، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے مہینے میں اوسطاً 22ہزار روپے کی رقوم نکلوائی جاتی ہیں۔

ملک بھر میں نصب 10ہزار کے لگ بھگ اے ٹی ایمز میں سے ہر ایک اے ٹی ایم سے ماہانہ بنیادوں پر ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ رقوم نکلوائی جاتی ہیں۔ ادھر صارفین کا کہنا ہے کہ اہم تہواروں پر اے ٹی ایمز کی بندش کی وجہ سے عوام میں نقد رقوم رکھنے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ تہواروں اور عیدین کے علاوہ بھی اکثر اوقات بینکوں کے اے ٹی ایمز سے متعلق عوامی شکایات بڑھ رہی ہیں جن کے ازالے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا جس سے عوام میں نقد رقوم کے لین دین کا رجحان مقبولیت اختیار کررہا ہے۔
Load Next Story