کیا ہم خونخوار چوہے منتخب کریں گے
ہمارے حکمران کسی واردات پر سیخ پا ہوتے ہیں اور پھر ان کی سیخ پائی کہیں گم ہو جاتی ہے۔
Abdulqhasan@hotmail.com
لکھا تو میں نے کچھ اور تھا جو آپ آگے چل کر پڑھ لیں گے لیکن اس وقت میں یہ پڑھ کر کہ ایک نومولود پاکستانی بچے کو چوہوں نے اسپتال میں کاٹ لیا اور اس کے وارثوں کی آمد پر بچے کو چوہوں سے بچایا گیا۔
یہ بچہ رات کے بارہ بجے پیدا ہوا اور اسے ماں سے الگ کر کے لیبر روم میں رکھ دیا گیا جہاں نومولود بچوں کی دیکھ بھال کے لیے راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال کے منتظمین نے شاید چوہوں کو پال رکھا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر میں اس قدر گھبرا گیا کہ اخبار الگ رکھ کر کہیں گم ہو گیا۔ کسی پاکستانی کے تصور میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ ان کے نومولود بچوں کو اسپتال کے اندر چوہے کاٹیں گے۔ اس اسپتال میں اس دن ایک اور بچے کو بھی چوہے نوچتے رہے جو مردہ پیدا ہوا تھا اور اسی لیبر روم میں رکھا گیا تھا۔
ہمارے قومی زوال کی یہ ایک انتہا ہے، بدعنوانی کے سائے میں عروج پانے والی حکومت نے قوم کو یوں تو کئی نادر تحفے دیے ہیں مگر جاتے جاتے یہ تحفہ دے کر اس نے انتہا کر دی ہے۔ فرض ناشناسی بلکہ حرام خوری کے عام واقعات میں یہ واقعہ سب سے نمایاں کلنگ کا ٹیکہ بن کر ہمارے حکمرانوں کے ماتھوں پر چمکتا رہے گا۔ اس اسپتال کے سربراہ کو زندہ سلامت چوہوں کے سپرد کر دینا چاہیے اور اسے چوہوں کی خوراک بنتے ہوئے اس منظر کو ٹی وی پر نشر کرنا چاہیے۔ میں آپ کو دعوے کے ساتھ بتاتا ہوں کہ اس بھیانک جرم کی کسی کو سزا نہیں ملے گی، شاید کوئی انکوائری ہو گی جس کی کارروائی کی کوئی رپورٹ بھی چھپے گی یا نہیں۔
ہمارے ہاں سزا کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے جو جرائم میں اضافے کا ایک بنیادی سبب ہے۔ ہمارے حکمران کسی واردات پر سیخ پا ہوتے ہیں اور پھر ان کی سیخ پائی کہیں گم ہو جاتی ہے بس اب تو ہماری یہی زندگی ہے جس میں پھول جیسے پاکستانی بچوں کو چوہے کھا جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے ہم اب چوہوں کی خوراک بننے کے لیے زندہ ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان پر خونخوار قسم کے چوہوں کی فرمانروائی ہے جو نوزائیدہ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے کاٹ رہے ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ہمارا کیا بنے گا بلکہ اس نے تو بتا دیا ہے کہ ہماری جیسی قوموں کا کیا بنا کرتا ہے۔ خدائی عذاب کو دعوت دی جاتی ہے، اپنے سنگدلانہ برے اعمال اور اقدامات سے' وہ پیغمبرانہ دعا یاد آتی ہے کہ یا اللہ تو پاک و صاف ہے میں ہی ظالموں میں سے تھا۔
اب وہ جو میں نے پہلے لکھا تھا کہ مبینہ الیکشن جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، ہمارے سیاستدانوں پر ایک دیوانگی کی کیفیت طاری ہوتی جا رہی ہے خصوصاً ان سیاستدانوں پر جو کسی جماعت کی فیملی میں نہیں ہیں اور انھیں الیکشن سے پہلے کسی نہ کسی خاندان کا لے پالک بننا ہے کیونکہ الیکشن کا ٹکٹ کسی گھرانے سے ملتا ہے۔ گھرانے سے موسیقی کے گھرانے یاد آئے اور گھرانے کا لفظ زیادہ تر موسیقاروں کے کسی نامی خاندان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
میاں تان سین کے گھرانے سے یہ سلسلہ شروع ہوا جو شام چوراسی گھرانے کے استاد فتح علی امانت علی خان تک استعمال ہوتا رہا لیکن اب وہ گوئیے نہیں رہے جو موسیقی کے کسی مکتب کے شاگرد یا استاد کہلا سکیں اور اس کی نمایندگی کے اہل ہوں، اب ان گھرانوں کی جگہ سیاسی گھرانوں نے لے لی ہے۔ اب کوئی عمران کی ملہار گانے کی کوشش کر رہا ہے اور کوئی میاں کی ٹوڈی۔ سیاسی مسافر در در پھر رہے ہیں کہ کہیں بار ملے تو وہاں ٹھکانہ کر لیں اور اس گھرانے کے نام پر ووٹروں کے پاس جا سکیں۔ کئی شاگرد پیشہ تو ایسے بھی ہیں کہ اگر کسی گھرانے میں کوئی سلام کا جواب دے دیتا ہے تو وہ وہیں ٹک جاتے ہیں مگر ادھر ادھر جھانکتے بھی رہتے ہیں کہ کسی گھرانے کا نام ذرا اونچا جا رہا ہے چنانچہ وہ ادھر کھسک جاتے ہیں اور ایک بیان جاری کرتے ہیں کہ پہلے گھرانے میں انھیں کیا تکلیف تھی اور اب نئے میں کیا کیا سکھ مل رہا ہے۔
حالت یہ ہے کہ بعض دوست جب ملتے ہیں تو دعا سلام کے بعد ذہن پر زور دینا پڑتا ہے کہ وہ اب کس آستانے پر فروکش ہو چکے ہیں کیونکہ کل تک وہ جس گھرانے کے در پر پڑے تھے اب وہ وہاں سے کسی دوسری جگہ موسم کے مطابق بستر لے کر پہنچ گئے ہیں۔ ذرا انتظار کرنا پڑتا ہے کہ وہ گفتگو میں اب کسی لیڈر یا جماعت کا ذکر کرتے ہیں تا کہ ان کا نیا پتہ اور تعارف معلوم ہوسکے۔ ہماری سیاست جن حالات سے گزر رہی ہے، وہ مسافرانہ ہیں، لوگ کسی قافلے میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتا کہ عین ممکن ہے وہ پھر لوٹ آئیں۔ ان دنوں جلسوں جلوسوں کی تیاریوں پر زور ہے اور جب کہیں کوئی ایک جلسہ ہوتا ہے تو کسی دوسری جگہ اس سے بڑا جلسہ کرنے کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے۔ سچ پوچھئے تو کروڑوں روپے جلسوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سیاستدان حتی الوسیع جیب سے خرچ نہیں کرتے۔
متمول کاروباری لوگوں کو پھنساتے ہیں جو کسی نہ کسی لالچ از قسم کوئی کاروباری رعایت پرمٹ وغیرہ میں حسب ضرورت چندہ دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ جذباتی کارکن اپنی حد تک اپنا اور چند ساتھیوں کا خرچ اٹھاتے ہیں اور جتنا بڑا ہلا گلا کرنے میں کامیابی ہوتی ہے اسے دیکھ کر عام لوگ بھی جلسہ گاہ میں آ نکلتے ہیں۔ آپ غور کریں کہ ان دنوں تفریح تماشہ کا فقدان ہے، فلمیں بہت کم ہیں اور کئی سینما گھر دکانیں بن چکے ہیں ،کلب وغیرہ ہمارے ہاں ہیں نہیں، اگر شیشہ گھر آباد کیے جاتے ہیں تو پولیس پکڑ لیتی ہے، تفریح نہ ہوئی قابل دست اندازی پولیس کوئی جرم ہو گئی۔ کسی حکمران کو کبھی اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو کیا تفریح مہیا کر رہے ہیں کہ وہ جرائم کی طرف راغب نہ ہوں۔ یہ ایک الگ مسئلہ فی الحال سیاست جو کسی حد تک ڈانواں ڈول بھی ہے۔
ایک تو ملکی حالات پر نگاہ ڈالیں تو ان میں الیکشن کے آزادانہ ہنگامے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پہلی شرط امن و امان ہے اور ملک میں اگر کوئی چیز نہیں ہے تو وہ امن ہے۔ آپ نے میں نے ہم سب نے عشرہ محرم کی مجلسیں دیکھیں، جلوس دیکھے جو پولیس کی ممکنہ حد تک نگرانی میں تمام ہوئے اور ہر دم دھڑکا لگا رہا کہ کچھ ہو نہ جائے، جلوسوں کے راستوں سے ہٹ کر دھماکے ہوتے رہے لیکن عزا دار محفوظ رہے۔ یہی حال عام مسجدوں کا ہوتا ہے جس مذہبی مزاج کے ملک میں عبادت پر سکون ماحول میں نہ ہو سکے، اس ملک میں الیکشن کیسے ہو گا۔
ملک کے اندر اور باہر ایسی طاقتیں سرگرم ہیں جو پاکستان میں الیکشن نہیں چاہتیں تا کہ یہ ملک کسی راستے پر نہ چل نکلے اور اس انتشار اور افراتفری سے باہر نکل جائے۔ ملک کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جن کو الیکشن فی الحال وارا نہیں کھاتا ،اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ الیکشن کے خلاف سب سے بڑی وجہ تو یہ دھماکے ہیں جو کسی بھی ہجوم میں ہو سکتے ہیں اور یہ تو ہماری بدقسمتی سے ایک معمول بنتے جا رہے ہیں، ہمارے حکمرانوں کو بیان جاری کرنے کے سوا ان کے اسباب پر غور کا وقت نہیں یا وہ ایسا ہی چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گلی کوچوں کے لڑائی جھگڑوں جن کی وجہ عام بے چینی ہے پھر ٹریفک کے حادثے اور آتشزدگی جن میں بڑی تعداد میں جانیں ضایع ہوتی ہیں،کسی غلط دوائی سے کسی دن سولہ سترہ جوان مر جاتے ہیں اور بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے جو جانیں لے جاتا ہے، ان حالات میں الیکشن کہاں۔ الیکشن کا جائز مطالبہ کرنے والے پہلے اس کے لیے فضا ساز گار بنائیں اور کام کے امید وار بھی۔
یہ بچہ رات کے بارہ بجے پیدا ہوا اور اسے ماں سے الگ کر کے لیبر روم میں رکھ دیا گیا جہاں نومولود بچوں کی دیکھ بھال کے لیے راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال کے منتظمین نے شاید چوہوں کو پال رکھا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر میں اس قدر گھبرا گیا کہ اخبار الگ رکھ کر کہیں گم ہو گیا۔ کسی پاکستانی کے تصور میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ ان کے نومولود بچوں کو اسپتال کے اندر چوہے کاٹیں گے۔ اس اسپتال میں اس دن ایک اور بچے کو بھی چوہے نوچتے رہے جو مردہ پیدا ہوا تھا اور اسی لیبر روم میں رکھا گیا تھا۔
ہمارے قومی زوال کی یہ ایک انتہا ہے، بدعنوانی کے سائے میں عروج پانے والی حکومت نے قوم کو یوں تو کئی نادر تحفے دیے ہیں مگر جاتے جاتے یہ تحفہ دے کر اس نے انتہا کر دی ہے۔ فرض ناشناسی بلکہ حرام خوری کے عام واقعات میں یہ واقعہ سب سے نمایاں کلنگ کا ٹیکہ بن کر ہمارے حکمرانوں کے ماتھوں پر چمکتا رہے گا۔ اس اسپتال کے سربراہ کو زندہ سلامت چوہوں کے سپرد کر دینا چاہیے اور اسے چوہوں کی خوراک بنتے ہوئے اس منظر کو ٹی وی پر نشر کرنا چاہیے۔ میں آپ کو دعوے کے ساتھ بتاتا ہوں کہ اس بھیانک جرم کی کسی کو سزا نہیں ملے گی، شاید کوئی انکوائری ہو گی جس کی کارروائی کی کوئی رپورٹ بھی چھپے گی یا نہیں۔
ہمارے ہاں سزا کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے جو جرائم میں اضافے کا ایک بنیادی سبب ہے۔ ہمارے حکمران کسی واردات پر سیخ پا ہوتے ہیں اور پھر ان کی سیخ پائی کہیں گم ہو جاتی ہے بس اب تو ہماری یہی زندگی ہے جس میں پھول جیسے پاکستانی بچوں کو چوہے کھا جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے ہم اب چوہوں کی خوراک بننے کے لیے زندہ ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان پر خونخوار قسم کے چوہوں کی فرمانروائی ہے جو نوزائیدہ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے کاٹ رہے ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ہمارا کیا بنے گا بلکہ اس نے تو بتا دیا ہے کہ ہماری جیسی قوموں کا کیا بنا کرتا ہے۔ خدائی عذاب کو دعوت دی جاتی ہے، اپنے سنگدلانہ برے اعمال اور اقدامات سے' وہ پیغمبرانہ دعا یاد آتی ہے کہ یا اللہ تو پاک و صاف ہے میں ہی ظالموں میں سے تھا۔
اب وہ جو میں نے پہلے لکھا تھا کہ مبینہ الیکشن جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، ہمارے سیاستدانوں پر ایک دیوانگی کی کیفیت طاری ہوتی جا رہی ہے خصوصاً ان سیاستدانوں پر جو کسی جماعت کی فیملی میں نہیں ہیں اور انھیں الیکشن سے پہلے کسی نہ کسی خاندان کا لے پالک بننا ہے کیونکہ الیکشن کا ٹکٹ کسی گھرانے سے ملتا ہے۔ گھرانے سے موسیقی کے گھرانے یاد آئے اور گھرانے کا لفظ زیادہ تر موسیقاروں کے کسی نامی خاندان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
میاں تان سین کے گھرانے سے یہ سلسلہ شروع ہوا جو شام چوراسی گھرانے کے استاد فتح علی امانت علی خان تک استعمال ہوتا رہا لیکن اب وہ گوئیے نہیں رہے جو موسیقی کے کسی مکتب کے شاگرد یا استاد کہلا سکیں اور اس کی نمایندگی کے اہل ہوں، اب ان گھرانوں کی جگہ سیاسی گھرانوں نے لے لی ہے۔ اب کوئی عمران کی ملہار گانے کی کوشش کر رہا ہے اور کوئی میاں کی ٹوڈی۔ سیاسی مسافر در در پھر رہے ہیں کہ کہیں بار ملے تو وہاں ٹھکانہ کر لیں اور اس گھرانے کے نام پر ووٹروں کے پاس جا سکیں۔ کئی شاگرد پیشہ تو ایسے بھی ہیں کہ اگر کسی گھرانے میں کوئی سلام کا جواب دے دیتا ہے تو وہ وہیں ٹک جاتے ہیں مگر ادھر ادھر جھانکتے بھی رہتے ہیں کہ کسی گھرانے کا نام ذرا اونچا جا رہا ہے چنانچہ وہ ادھر کھسک جاتے ہیں اور ایک بیان جاری کرتے ہیں کہ پہلے گھرانے میں انھیں کیا تکلیف تھی اور اب نئے میں کیا کیا سکھ مل رہا ہے۔
حالت یہ ہے کہ بعض دوست جب ملتے ہیں تو دعا سلام کے بعد ذہن پر زور دینا پڑتا ہے کہ وہ اب کس آستانے پر فروکش ہو چکے ہیں کیونکہ کل تک وہ جس گھرانے کے در پر پڑے تھے اب وہ وہاں سے کسی دوسری جگہ موسم کے مطابق بستر لے کر پہنچ گئے ہیں۔ ذرا انتظار کرنا پڑتا ہے کہ وہ گفتگو میں اب کسی لیڈر یا جماعت کا ذکر کرتے ہیں تا کہ ان کا نیا پتہ اور تعارف معلوم ہوسکے۔ ہماری سیاست جن حالات سے گزر رہی ہے، وہ مسافرانہ ہیں، لوگ کسی قافلے میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتا کہ عین ممکن ہے وہ پھر لوٹ آئیں۔ ان دنوں جلسوں جلوسوں کی تیاریوں پر زور ہے اور جب کہیں کوئی ایک جلسہ ہوتا ہے تو کسی دوسری جگہ اس سے بڑا جلسہ کرنے کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے۔ سچ پوچھئے تو کروڑوں روپے جلسوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سیاستدان حتی الوسیع جیب سے خرچ نہیں کرتے۔
متمول کاروباری لوگوں کو پھنساتے ہیں جو کسی نہ کسی لالچ از قسم کوئی کاروباری رعایت پرمٹ وغیرہ میں حسب ضرورت چندہ دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ جذباتی کارکن اپنی حد تک اپنا اور چند ساتھیوں کا خرچ اٹھاتے ہیں اور جتنا بڑا ہلا گلا کرنے میں کامیابی ہوتی ہے اسے دیکھ کر عام لوگ بھی جلسہ گاہ میں آ نکلتے ہیں۔ آپ غور کریں کہ ان دنوں تفریح تماشہ کا فقدان ہے، فلمیں بہت کم ہیں اور کئی سینما گھر دکانیں بن چکے ہیں ،کلب وغیرہ ہمارے ہاں ہیں نہیں، اگر شیشہ گھر آباد کیے جاتے ہیں تو پولیس پکڑ لیتی ہے، تفریح نہ ہوئی قابل دست اندازی پولیس کوئی جرم ہو گئی۔ کسی حکمران کو کبھی اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو کیا تفریح مہیا کر رہے ہیں کہ وہ جرائم کی طرف راغب نہ ہوں۔ یہ ایک الگ مسئلہ فی الحال سیاست جو کسی حد تک ڈانواں ڈول بھی ہے۔
ایک تو ملکی حالات پر نگاہ ڈالیں تو ان میں الیکشن کے آزادانہ ہنگامے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پہلی شرط امن و امان ہے اور ملک میں اگر کوئی چیز نہیں ہے تو وہ امن ہے۔ آپ نے میں نے ہم سب نے عشرہ محرم کی مجلسیں دیکھیں، جلوس دیکھے جو پولیس کی ممکنہ حد تک نگرانی میں تمام ہوئے اور ہر دم دھڑکا لگا رہا کہ کچھ ہو نہ جائے، جلوسوں کے راستوں سے ہٹ کر دھماکے ہوتے رہے لیکن عزا دار محفوظ رہے۔ یہی حال عام مسجدوں کا ہوتا ہے جس مذہبی مزاج کے ملک میں عبادت پر سکون ماحول میں نہ ہو سکے، اس ملک میں الیکشن کیسے ہو گا۔
ملک کے اندر اور باہر ایسی طاقتیں سرگرم ہیں جو پاکستان میں الیکشن نہیں چاہتیں تا کہ یہ ملک کسی راستے پر نہ چل نکلے اور اس انتشار اور افراتفری سے باہر نکل جائے۔ ملک کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جن کو الیکشن فی الحال وارا نہیں کھاتا ،اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ الیکشن کے خلاف سب سے بڑی وجہ تو یہ دھماکے ہیں جو کسی بھی ہجوم میں ہو سکتے ہیں اور یہ تو ہماری بدقسمتی سے ایک معمول بنتے جا رہے ہیں، ہمارے حکمرانوں کو بیان جاری کرنے کے سوا ان کے اسباب پر غور کا وقت نہیں یا وہ ایسا ہی چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گلی کوچوں کے لڑائی جھگڑوں جن کی وجہ عام بے چینی ہے پھر ٹریفک کے حادثے اور آتشزدگی جن میں بڑی تعداد میں جانیں ضایع ہوتی ہیں،کسی غلط دوائی سے کسی دن سولہ سترہ جوان مر جاتے ہیں اور بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے جو جانیں لے جاتا ہے، ان حالات میں الیکشن کہاں۔ الیکشن کا جائز مطالبہ کرنے والے پہلے اس کے لیے فضا ساز گار بنائیں اور کام کے امید وار بھی۔