سعودی عرب میں دہشت گردی مسلم ممالک کیخلاف سازش

داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی غیرمسلم قوتیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پشت پناہی کر رہی ہیں

داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی غیرمسلم قوتیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پشت پناہی کر رہی ہیں- فوٹو: فائل

PESHAWAR:
سعودی عرب میں عید سے قبل ہونے والے خود کش دھماکوں کی تحقیقات جاری ہے اور اس سلسلے میں مختلف افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے' سعودی وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے دھماکوں کے الزام میں 19افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں 12پاکستانی بھی شامل ہیں' بیان کے مطابق ایک چھبیس سالہ شخص نائر مسلم حماد نے مدینہ میں مسجد نبویؐ کے قریب خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑایا تھا' نائر منشیات کا عادی تھا جب کہ بیس سالہ عبدالکریم' تئیس سالہ عبدالرحمان العمر اور بیس سالہ ابراہیم العمر نے قطیف میں دھماکے کیے۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے سعودی عرب میں ہونے والے خود کش حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دلی افسوس اور دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام سعودی عرب میں دہشت گردی کے واقعات پر غمزدہ ہیں' مشکل کی اس گاڑی میں پاکستان سعودی عوام کے ساتھ ہے' دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے' مسلم امہ اور عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کو ٹیلی فون کرکے اظہار افسوس کیا۔ مسلم امہ اور عالمی برادری کی جانب سے بھی دھماکوں کی شدید مذمت کی گئی۔

منگل کو مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ کے باہر خود کش دھماکے میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے' اسی طرح قطیف میں مسجد العمران کے باہر اور جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر بھی خود کش حملے کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملہ آوروں کے بارے میں متضاد خبریں آتی رہیں' عرب میڈیا کے مطابق مدینہ منورہ میں حملہ کرنے والے خود کش بمبار کی عمر 18سال تھی اور اس کا تعلق طائف کے ایک قبیلے سے تھا۔ بعد میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ امریکی قونصل خانے کے قریب حملہ کرنے والا شخص پاکستانی شہری عبداللہ گلزار خان تھا جو بارہ برس سے سعودی عرب میں مقیم اور ڈرائیور کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔


سعودی عرب میں ہونے والے خود کش حملے انتہائی افسوسناک ہیں' خاص طور پر مدینہ منورہ کے قریب ہونے والے حملے سے پوری امت مسلمہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور اس کی بھرپور مذمت کی گئی۔ ان حملوں کا کیا مقصد تھا اور کن تنظیموں نے یہ کارروائی کی ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہو سکی تاہم تحقیقات جاری ہے' تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی منظرنامہ نمایاں ہو گا کہ کن لوگوں نے یہ مذموم کارروائی کی۔ چند روز قبل ترکی میں استنبول ایئرپورٹ پر خود کش حملے ہوئے اس کے علاوہ بنگلہ دیش میں بھی دہشت گردی کی کارروائی ہوئیں۔

تجزیہ نگار ان کارروائیوں کا تعلق داعش سے جوڑ رہے ہیں جو مختلف اسلامی ممالک میں دہشت گردی کر رہی ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ داعش اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی اعانت آخر کون کر رہا ہے اور ان قوتوں کے مقاصد کیا ہیں' آخر مسلم ممالک ہی اتنی بڑی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں۔ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی غیرمسلم قوتیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پشت پناہی کر رہی ہیں جس کا مقصد براہ راست جنگ کیے بغیر مسلمان ممالک کو تباہ کرنا ہے۔ عراق' شام اور یمن کی صورت حال سب کے سامنے ہے' ان ممالک میں جاری خانہ جنگی اور دہشت گردانہ کارروائیوں نے وہاں کا انفرااسٹرکچر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

ایک منصوبہ بندی کے تحت خوشحال مسلم ممالک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ترکی ایک ماڈرن اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے مگر وہاں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے انفرااسٹرکچر کو برباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب جیسا خوشحال اور پرامن ملک بھی مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ سعودی عرب میں ہونے والے خود کش دھماکے میں ایک پاکستانی شخص کو ملوث کرنا کسی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے علاوہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات خراب کرنا بھی ہو سکتا ہے' خود کش دھماکے میں پاکستانی کا نام آنے کے بعد وہاں مقیم دیگر پاکستانیوں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔

اسی طرح وہاں ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو بھی ویزے کے حصول میں دشواریاں پیش آ سکتی ہیں۔ ایسی خبریں بھی منظرعام پر آ چکی ہیں کہ پاکستان میں مقیم بہت سے غیرملکیوں نے جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں' جب یہ لوگ کسی غیر ملک میں کوئی منفی کام سرانجام دیتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے' حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں بھی سوچنا چاہیے اور ایسی سخت پالیسی تشکیل دینی چاہیے کہ کوئی بھی غیر ملکی پاکستانی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ حاصل نہ کر سکے۔بہرحال ایسا لگتا ہے کہ مسلم ممالک میں دہشت گردی ایک ایسی سازش کے تحت کرائی جا رہی ہے جس کا مقصد مسلم ممالک کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کر کے انھیں دنیاکے بدحال ترین ممالک میں شمار کرانا ہے۔
Load Next Story