مارکسزم اور آج کی دنیا

کتاب کا پہلا باب کارل مارکس کی زندگی سے متعلق ہے

tauceeph@gmail.com

ب تک استحصال کا کوندا لپکے گا، کارل مارکس کی فکرکا سورج چمکے گا۔ اسلم گورداسپوری بنیادی طور پر سیاسی کارکن ہیں۔ نوجوانی میںکارل مارکس کے نظریات کے اسیر ہوئے اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اپنے نظریات کی آدرش کے لیے انھوں نے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور جلاوطن بھی ہوئے۔ اسلم گورداسپوری نے طالب علمی کے دور سے شاعری شروع کی، ظہیرکاشمیری ان کے استاد تھے۔ پیپلز پارٹی کے جلسوں میں انقلابی نظمیں پڑھیں۔ آج بھی ان کی شاعری نئے خیالات اور جوش وخروش سے بھرپور ہے۔ اسلم گورداسپوری نے ہمیشہ اپنی سیاسی مصروفیات کے ساتھ کتابوں کے مطالعے کو بھی اہمیت دی اور سیاسی موضوعات پرکتابیں تحریرکیں۔ انھوں نے مارکسزم اور آج کی دنیا کے عنوان سے ایک معلومات سے بھرپور کتاب تحریر کی۔ یہ کتاب 4ابواب اور 225 صفحات پر مشتمل ہے۔

کتاب کا پہلا باب کارل مارکس کی زندگی سے متعلق ہے۔ کارل مارکس 1818ء میں مئی کے مہینے میں جرمنی کی ایک ریاست ٹرالر میں پیدا ہوا تھا۔ مارکس نے برلن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ اس کا باپ ہنرخ مارکس ایک مشہور وکیل تھا وہ یہودی النسل تھا۔ جب جرمنی میں یہودیوں کا قتل عام ہوا تو اس نے عیسیائیت قبول کر لی تھی وہ اپنے بیٹے کو قانون دان بنانا چاہتا تھا مگر کارل مارکس فطری طور پر فلسفی، مفکر اور ایک نئی دنیا اور نئے سماج کا تصور اپنے دماغ میں رکھتا تھا۔کارل مارکس بنیادی طور پر فلسفی، شاعر اور ایک دیدہ ور انسان تھا مگر کارل مارکس نے اپنے باپ کی خواہش کے مطابق برلن یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔

کارل مارکس ایک شاعر بھی تھا۔ مصنف جو خود بھی شاعر ہیں لکھتے ہیں کہ شاعر اوریجنل انسان ہوتا ہے۔ شاعر انسانی زندگی کو بغیرکسی مذہبی، سماجی، سائنسی یا اصلاحی حوالے کے ایک حسین خوبصورت زندگی دیکھنے کا تصور رکھتا ہے۔ انسانی سماج اور خود انسان کے اندر ایک حسن پیدا کرنے کی سعی کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مارکس اپنی ڈاکٹریٹ (Ph.D) کے مقالے میں یونان کے معروف فلسفی کا یہ جملہ نقل کرتا ہے ''کسی نوجوان کو فلسفہ سے آشنا ہونے میں دیر نہ کرنے دو'' اس دور میں جرمن فلسفی ہیگل کا فلسفہ سر چڑھ کر بول رہا تھا۔

مارکس پہلے ہیگل سے متاثر تھا مگر جب مارکس نے عیسائیت کو غیر اخلاقی کہا تو ہیگل کے ماننے والے چوکنے ہوئے۔ مارکس نے استعماراور سامراجی قوتوں کے نظام زرکی قدر زائد کی چوری کا بھانڈہ پھوڑ دیا تھا۔ کارل مارکس نے استعمار اور سامراجی قوتوں کے نظام زرکی قدر زائد کی چوری کا بھانڈہ پھوڑکر انسانوں کے استحصال کا پردہ چاک کیا تھا۔ مارکس کو سامراجی قوتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وہ روپے پیسے کی سفاکی کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ مارکس کو عملی طور پر روپے پیسے کی استحصالی نوعیت کا عملی طور پر اس وقت جھٹکا لگا جب مارکس کی والدہ نے مارکس کو والد کے ترکے سے حصہ دینے سے انکارکر دیا تھا۔ اس کی ماں کا کہنا تھا کہ مارکس فضول خرچ، ناکام اور نکما انسان ہے۔ والدہ کے اس رویے کا اس کی ہونے والی رفیق حیات جینی کے ویسٹ فاسن خاندان پر برا اثر پڑا تھا مگر جینی کی محبت نے استحکام سے صورتحال پر قابو پا لیا تھا۔ یہ جینی کا شعوری فیصلہ تھا جس کا شکوہ وہ کبھی اپنی زبان پر نہیں لائی۔

کارل مارکس نے پریس کی آزادی اور آزادئ فکرکے عنوان سے لکھا کہ لوگ اخبار اور صحافت کو روزمرہ کی باتوں اور واقعات کے زمرے میں لیتے ہیں جو ایک منطقی بات ہوتی ہے۔ اخبارات اور ریڈیو لوگوں کو تعلیم فراہم کرنے والے ادارے ہیں۔ جب ان اداروں کو ریاست کے مفادات کے پیش نظر سرکاری طور پر چلایا جاتا ہے تو ان اداروں کا تعلیم وتدریس کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ادارے شخصی اور ریاستی مقاصد کے خالی ڈھول بن جاتے ہیں جن کو پیٹنے سے لوگوں کو تعلیم یافتہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پریس کی آزادی عوام الناس کی عمومی ذہنی آزادی کا مظہر ہوتی ہے۔ لہٰذا پریس کی آزادی کی غیر موجودگی سے پیدا ہونے والی صورتحال تمام فطری اور اجتماعی آزادیوں کو ایک واہمہ بنا دیتی ہے۔


یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب دانشور اور قلمکار لوگ ریاستی بداخلاقی کا ذکر کے ساتھ سمجھوتا کرنے لگ جاتے ہیں ۔ کارل مارکس نے اپنی ریاست کے جعلی بناوٹی قانون واخلاق کا پورا پورا مذاق اڑایا تھا۔ اس کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ریاستی اہلکار عوام کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے ہیں۔ مارکس نے سرمایہ داری نظام کے بحران کے تناظر میں لکھا ہے کہ نجی ملکیت کے مفادات کی منطق ریاست کی تمام اتھارٹی کو مالکان کی غلامی میں تبدیل کر دیتی ہے۔ کارل مارکس ایک سچا نظریاتی سائنس دان تھا۔

مارکس کا کہنا ہے کہ سرمایہ داری نظام ہی اصل قیامت ہے۔ مارکس کا کہنا ہے کہ نجی ملکیت کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ یکدم ختم کر دی جائے۔ کارل مارکس پیچیدہ سماجی تصادموں کو بڑی حکمت اور دانائی کی آنکھ سے دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ انسانی معاشرے اور ماحول کی اونچ نیچ کے تضادات ایک وقت تک دھیمی آنچ کی طرح حرارت پیدا کرتے ہیں، پھر سلگنا شروع ہو جاتے ہیں اور جب معاشی ناہمواری اور تفاوت کا کوئی تدارک نہیں کیا جاتا تو یہ الاؤ بن جاتے ہیں اور معاشرے کی تمام اقدار کو جلا کر راکھ کر دیتے ہیں جس کی مثال آج مدارس اور طالبان کی شکل میں موجود ہے۔ ان مدارس کی پیداوار غربت، جہالت اور افلاس اور غیر برابری کی زندگی کے نظام سے ہوتی ہے۔

اسلم گورداسپوری لکھتے ہیں کہ کارل مارکس کو رجعت پسندوں کے علاوہ خودساختہ کمیونسٹوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ یہ حلقہ ''دی فری''یعنی آزاد حلقہ کہلاتا تھا۔ اس حلقے میں نوجوان شعراء،ادیب اور دانشور انقلاب برپا کردیتے تھے اور سرعام سیکس کو روشن خیالی قرار دیتے تھے۔ کارل مارکس نے اس انقلابی پرولتاریہ فلسفے کے مضامین سے امراء میں نفرت پیدا ہوئی اور دولت مند طبقے نے اس اخبارکے خلاف محاذ بنایا جہاں مارکس کے مضامین شایع ہوتے تھے، یوں اخبارمشکلا ت کا شکار ہوا۔

اخبار کے مالک نے کارل مارکس کو تنخواہ کی شکل میں اخبار کی کاپیاں دینا شروع کیں، یعنی مارکس اپنا اخبار فروخت کر کے اپنی تنخواہ کے پیسے پورے کرتے۔ کارل مارکس نے اپنی کتاب '' داس کیپیٹل '' میں نہایت سائنٹیفک اصولوں اور ضابطوں سے ثابت کیا کہ بنی نوع انسان کی ساری تاریخ کی توضیح اور تشریح کو مادی رشتوں میں تلاش کرنا چاہیے۔ مارکس کا کہنا ہے کہ اس سماج میں جس کو بورژوا کہا جاتا ہے صرف پیسے کو اہمیت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس نظام میں بغیر پیسے کے انسان کی کچھ اہمیت نہیں ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ کارل مارکس نے یورپ کے صنعتی نظام کو جب پھیلتے دیکھا تو وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ صنعتی سرمایہ داری کا نظام ایک اندھا نظام ہے جس میں مزدوروں کو 16، 16 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے، بعض جگہ پر اس سے بھی زیادہ کام مزدوروں سے لیا جاتا ہے اور چھوٹے بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔

مارکس نے پیش گوئی کی تھی کہ سب سے پہلے مزدوروں اور محنت کشوں کا انقلاب انگلینڈ میں آئے گا مگر یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔ مارکس کی فکر بڑی صادق فکر تھی۔ وہ صنعتی انقلاب سوشلسٹ انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیتا ہے۔ جب کسی ملک میں صنعتی انقلاب آتا ہے تو اس ملک کی سوسائٹی کا انفرا اسٹرکچر خودبخود وجود میں آتا ہے۔ محنت کشوں میں محنت کی افادیت کا شعور بڑھتا ہے، مزدوروں کا رابطہ دوسرے شہروں کے مزدوروں سے ہوتا ہے۔ اجتماعی شعور میں استحصال کے خلاف احتجاج کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

جس احتجاج کا پہلا نمونہ شکاگو شہر میں دیکھنے میں آیا جس میں سیکڑوں مزدوروں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ ان مزدوروں کی قربانی کے نتیجے میں اوقات کارکو 9 گھنٹوں تک لایا گیا۔ شکاگو کا واقعہ پرولتاریہ کی جدوجہد کی پہلی فتح تھی اور انقلاب کا آئینہ بھی تھی ۔کارل مارکس نے اشتراکی ریاست کے تصور کو 3 درجوں میں تقسیم کیا تھا۔ پہلا درجہ ایک ریاست میں صنعتی انقلاب کا آنا تھا، دوسرے درجے پر پرولتاریہ نظام قائم ہونا تھا اورتیسرا درجہ سوشلزم کے نظام کا درجہ تھا۔ آخری درجہ کمیونزم کا درجہ تھا جس میں ریاست کے قوانین ساکت ہوجاتے ہیں، ہر فرد ریاست بن جاتا ہے، ہر فرد قانون بن سکتا ہے۔ مارکس کے فلسفے کی بناء پر یورپ میں فلاحی ریاست کا تصورآیا تھا۔

اس کتاب میں مارکس سے متعلق تمام معلومات موجود ہیں ۔اسلم گورداسپوری نے اپنی بیماری کے باوجود محنت سے یہ کتاب لکھی ہے۔اس کتاب کے مطالعے سے مارکس سے متعلق بہت سے حقائق سے آگہی ہوتی ہے۔ مصنف قابل مبارکباد ہیں کہ غیرعلمی ماحول میں انھوں نے ایک علمی کتاب تحریرکی۔
Load Next Story