امریکا میں نسلی تعصب کا شعلہ بھڑک اٹھا
امریکا کے سفید فام افریقی نژاد باشندوں اور ایشیائیوں کو تحقیر آمیز سلوک کا نشانہ بناتے ہیں
امریکا کے سفید فام افریقی نژاد باشندوں اور ایشیائیوں کو تحقیر آمیز سلوک کا نشانہ بناتے ہیں - فوٹو: فائل
امریکا میں دو سیاہ فام نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف مظاہرہ پر تشدد بلوے کی صورت اختیار کر گیا۔ مشتعل احتجاجی ہجوم کے طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں پانچ پولیس افسر ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہو گئے۔ دو سیاہ فام نوجوانوں کی ہلاکت کا واقعہ ڈیلاس شہر میں پیش آیا جس کے بعد شہر میں پولیس کے خلاف پُر تشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران فائرنگ سے تین مزید پولیس والے ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
پولیس پر فائرنگ کرنے والوں کی تلاش میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے جو آخری خبریں موصول ہونے تک جاری تھا۔ منی سوٹا اور لیوزیانا میں بھی امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے جہاں پولیس اور مظاہرین میں خونریز جھڑپوں کی اطلاع ہے۔ امریکا فی الوقت بلا شرکت غیرے دنیا کی واحد سپر طاقت ہے اور کئی شعبوں میں اس کی فوقیت کے لیے کوئی چیلنج نہیں لیکن اندرونی طور پر امریکا نسلی تعصبات سے آزاد نہیں ہو سکا۔ اگرچہ امریکیوں نے سیکڑوں سال پیشتر افریقی ممالک سے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو اغوا کر کے بحری جہازوں کے ذریعے نو دریافت شدہ امریکی سرزمین پر لانے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا تا کہ ان سے کھیت مزدوروں کے طور پر کام لیا جائے۔
ان سیاہ فام غلاموں کی جس وسیع بنیادوں پر تجارت امریکا نے کی اس کی انسانی تاریخ میں اور کوئی مثال نظر نہیں آتی اگرچہ غلاموں کی تجارت کے آثار ہمیں قبل از تاریخ کے زمانوں میں بھی ملتے ہیں لیکن اس انسانیت سوز تجارت کو انتہائی وسعت امریکا نے ہی دی ویسے یہ الگ بات ہے کہ غلاموں کی تجارت کا قانونی طور پر خاتمہ بھی امریکا میں ہی ہوا جس کا سہرا امریکی صدر ابراہام لنکن کے سر باندھا جاتا مگر صدر لنکن کو غلام گردی کے حامیوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
غلامی کے قانونی طور پر خاتمے کے بعد امریکا کے آزادانہ ماحول میں سیاہ فاموں نے حیرت انگیز طور پر ترقی کی اور کئی شعبوں میں ان کی اجارہ داری قائم ہو گئی جن میں اسپورٹس اور میوزک کے شعبوں میں سیاہ فام ہی عروج پر ہیں مگر اس کے باوجود بھی سیاہ فاموں کے ساتھ عمومی طور پر سخت امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے البتہ امریکا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام صدر کا انتخاب کر کے اپنے نسلی تعصب کو زیر نگیں لانے کی ایک نمایاں شعوری کوشش کی مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع بموقع اپنی حدود سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مختلف شہروں میں سیاہ فاموں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکتوں پر احتجاج کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے۔
امریکا کے اندر یہ تضاد گہرا ہوتا جا رہا ہے' امریکا کے سفید فام افریقی نژاد باشندوں اور ایشیائیوں کو تحقیر آمیز سلوک کا نشانہ بناتے ہیں خصوصاً پولیس فورس کے سفید فام افسروں میں تعصب زیادہ ہے' جس کی وجہ سے تازہ ہنگامے ہوئے۔
پولیس پر فائرنگ کرنے والوں کی تلاش میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے جو آخری خبریں موصول ہونے تک جاری تھا۔ منی سوٹا اور لیوزیانا میں بھی امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے جہاں پولیس اور مظاہرین میں خونریز جھڑپوں کی اطلاع ہے۔ امریکا فی الوقت بلا شرکت غیرے دنیا کی واحد سپر طاقت ہے اور کئی شعبوں میں اس کی فوقیت کے لیے کوئی چیلنج نہیں لیکن اندرونی طور پر امریکا نسلی تعصبات سے آزاد نہیں ہو سکا۔ اگرچہ امریکیوں نے سیکڑوں سال پیشتر افریقی ممالک سے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو اغوا کر کے بحری جہازوں کے ذریعے نو دریافت شدہ امریکی سرزمین پر لانے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا تا کہ ان سے کھیت مزدوروں کے طور پر کام لیا جائے۔
ان سیاہ فام غلاموں کی جس وسیع بنیادوں پر تجارت امریکا نے کی اس کی انسانی تاریخ میں اور کوئی مثال نظر نہیں آتی اگرچہ غلاموں کی تجارت کے آثار ہمیں قبل از تاریخ کے زمانوں میں بھی ملتے ہیں لیکن اس انسانیت سوز تجارت کو انتہائی وسعت امریکا نے ہی دی ویسے یہ الگ بات ہے کہ غلاموں کی تجارت کا قانونی طور پر خاتمہ بھی امریکا میں ہی ہوا جس کا سہرا امریکی صدر ابراہام لنکن کے سر باندھا جاتا مگر صدر لنکن کو غلام گردی کے حامیوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
غلامی کے قانونی طور پر خاتمے کے بعد امریکا کے آزادانہ ماحول میں سیاہ فاموں نے حیرت انگیز طور پر ترقی کی اور کئی شعبوں میں ان کی اجارہ داری قائم ہو گئی جن میں اسپورٹس اور میوزک کے شعبوں میں سیاہ فام ہی عروج پر ہیں مگر اس کے باوجود بھی سیاہ فاموں کے ساتھ عمومی طور پر سخت امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے البتہ امریکا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام صدر کا انتخاب کر کے اپنے نسلی تعصب کو زیر نگیں لانے کی ایک نمایاں شعوری کوشش کی مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع بموقع اپنی حدود سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مختلف شہروں میں سیاہ فاموں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکتوں پر احتجاج کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے۔
امریکا کے اندر یہ تضاد گہرا ہوتا جا رہا ہے' امریکا کے سفید فام افریقی نژاد باشندوں اور ایشیائیوں کو تحقیر آمیز سلوک کا نشانہ بناتے ہیں خصوصاً پولیس فورس کے سفید فام افسروں میں تعصب زیادہ ہے' جس کی وجہ سے تازہ ہنگامے ہوئے۔