عید کے ایام میں ٹریفک حادثات
عید کے ایام میں نوجوان موٹر سائیکل سوار شہروں میں حادثات کا سبب بنے ہیں۔
عید کے ایام میں نوجوان موٹر سائیکل سوار شہروں میں حادثات کا سبب بنے ہیں۔ فوٹو؛ فائل
BAHAWALPUR:
ملک بھر میں عید کے ایام پرامن رہے جس پر سیکیورٹی ادارے سراہے جانے کے مستحق ہیں تاہم اس عید پر ٹریفک حادثات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے' خصوصاً عید کے ایام میں نوجوان موٹر سائیکل سوار شہروں میں حادثات کا سبب بنے ہیں۔
کئی شہروں میں نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے یا بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حادثے میں مبتلا ہوئے اور ان میں سے کئی موت کا شکار ہو گئے' عید کے ایام میں ایسے سانحات والدین کے لیے انتہائی دکھ اور تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں موٹر سائیکل سوار خصوصاً نوجوان طبقہ ٹریفک قوانین سے آگاہ نہیں ہوتا اور اکثریت روڈ سینس سے بھی نابلد ہوتی ہے جس کی وجہ سے جان لیوا حادثات رونما ہوتے ہیں' صوبائی حکومت اور ٹریفک پولیس کو اس حوالے سے کوئی مربوط پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔
صوبائی حکومت کو پہلی فرصت میں پرائمری اور ہائی اسکول کی سطح پر ٹریفک قوانین کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے' بچوں کو بتلایا جانا چاہیے کہ انھیں سڑک پر پیدل چلتے ہوئے کیا کیا احتیاط کرنی چاہیے اور موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے کیا احتیاط کرنی چاہیے' علماء کرام بھی خطبہ جمعہ میں ٹریفک قوانین کی پابندی کی تلقین کریں' علمائے کرام کا آج کے گئے گزرے دور میں بھی ایک خاص احترام موجود ہے اور ان کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے اور لوگ اس پر عمل بھی کرتے ہیں اس لیے علمائے کرام کو اس قسم کے خصوصی معاملات پر بھی نوجوانوں کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ ٹریفک پولیس کو اتنے فنڈز ضرور مہیا کیے جائیں تا کہ ہر ٹریفک سگنل پر سی سی ٹی وی کیمرے اور سینسر نصب ہوں اس طرح سگنل توڑنے والوں کا پتہ چل سکے گا اور انھیں قانون کے مطابق سزا دینا ممکن ہو سکے گا۔ مغربی مفکرین کا قول ہے کہ کسی قوم کے تہذیبی معیار کا اندازہ لگانے کے لیے سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی پابندی کو ملاحظہ کیا جائے۔ گویا یہی بات اگر نوجوانوں کے ذہن نشین کرا دی جائے کہ ان کی ٹریفک خلاف ورزیاں پوری قوم کی بدنامی کا موجب بنتی ہیں تو اس کا یقیناً ان پر زیادہ اثر ہو گا۔
ملک بھر میں عید کے ایام پرامن رہے جس پر سیکیورٹی ادارے سراہے جانے کے مستحق ہیں تاہم اس عید پر ٹریفک حادثات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے' خصوصاً عید کے ایام میں نوجوان موٹر سائیکل سوار شہروں میں حادثات کا سبب بنے ہیں۔
کئی شہروں میں نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے یا بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حادثے میں مبتلا ہوئے اور ان میں سے کئی موت کا شکار ہو گئے' عید کے ایام میں ایسے سانحات والدین کے لیے انتہائی دکھ اور تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں موٹر سائیکل سوار خصوصاً نوجوان طبقہ ٹریفک قوانین سے آگاہ نہیں ہوتا اور اکثریت روڈ سینس سے بھی نابلد ہوتی ہے جس کی وجہ سے جان لیوا حادثات رونما ہوتے ہیں' صوبائی حکومت اور ٹریفک پولیس کو اس حوالے سے کوئی مربوط پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔
صوبائی حکومت کو پہلی فرصت میں پرائمری اور ہائی اسکول کی سطح پر ٹریفک قوانین کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے' بچوں کو بتلایا جانا چاہیے کہ انھیں سڑک پر پیدل چلتے ہوئے کیا کیا احتیاط کرنی چاہیے اور موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے کیا احتیاط کرنی چاہیے' علماء کرام بھی خطبہ جمعہ میں ٹریفک قوانین کی پابندی کی تلقین کریں' علمائے کرام کا آج کے گئے گزرے دور میں بھی ایک خاص احترام موجود ہے اور ان کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے اور لوگ اس پر عمل بھی کرتے ہیں اس لیے علمائے کرام کو اس قسم کے خصوصی معاملات پر بھی نوجوانوں کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ ٹریفک پولیس کو اتنے فنڈز ضرور مہیا کیے جائیں تا کہ ہر ٹریفک سگنل پر سی سی ٹی وی کیمرے اور سینسر نصب ہوں اس طرح سگنل توڑنے والوں کا پتہ چل سکے گا اور انھیں قانون کے مطابق سزا دینا ممکن ہو سکے گا۔ مغربی مفکرین کا قول ہے کہ کسی قوم کے تہذیبی معیار کا اندازہ لگانے کے لیے سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی پابندی کو ملاحظہ کیا جائے۔ گویا یہی بات اگر نوجوانوں کے ذہن نشین کرا دی جائے کہ ان کی ٹریفک خلاف ورزیاں پوری قوم کی بدنامی کا موجب بنتی ہیں تو اس کا یقیناً ان پر زیادہ اثر ہو گا۔