وافر ذخائر کے باوجود گندم کی قیمت میں 70 روپے کا مصنوعی اضافہ
100 کلو بوری 3080 روپے کی ہو گئی، سٹے باز سپورٹ پرائس بڑھانے کے فیصلے پر سرگرم
گندم کی قلت نہیں، فلور ملز، 28 روپے کلو رسد کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، چکی مالکان۔ فوٹو: فائل
MIRAMSHAH:
حکومت کی جانب سے گندم کی سپورٹ پرائس میں اضافے کے بعد سٹہ مافیا سرگرم ہوگئی ہے اور اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں 70 روپے فی بوری مصنوعی اضافہ کردیا گیا ہے جس سے آٹے کی قیمت میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
حکومت نے گندم کی فصل کے لیے سپورٹ پرائس 1050 روپے فی من سے بڑھا کر 1200روپے فی من مقرر کر دی ہے جس کے بعد عاشورے کی تعطیل کے بعد اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافے کا رجحان رہا، 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت 70 روپے بڑھا کر 3080 روپے کردی گئی ہے جس سے چھوٹی چکی مالکان اور فلور ملوں کو بھی آٹے کی قیمت موجودہ سطح پر برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے چیئرمین ممتاز شیخ کے مطابق سندھ حکومت نے عاشورے سے قبل فلور ملوں کیلیے گندم کی قیمت 28.50روپے فی کلو سے کم کرکے 28 روپے کلو مقرر کرنے کا اعلان کیا جس کا نوٹیفکیشن ایک سے دو روز میں جاری کردیا جائے گا۔
سندھ میں گندم کے 10 لاکھ ٹن سے زائد کے ذخائر موجود ہیں اور نئی فصل کے آنے تک قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے اور نہ ہی قیمتوں کا کوئی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، اب بھی 28.50 روپے قیمت کے چالان پر سرکاری گوداموں سے گندم مل رہی ہے۔ ادھر کراچی آٹا چکی ایسوسی ایشن کے صدر انیس شاہد نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے سپورٹ پرائس میں اضافے کے اعلان کے بعد سے سٹہ مافیا سرگرم ہوگئی ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ممکنہ بحران سے بچنے اور سٹہ مافیا کے عزائم ناکان بنانے کیلیے فی الفور 28روپے کلو پر گندم کی فراہمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے گندم کی سپورٹ پرائس میں اضافے کے بعد سٹہ مافیا سرگرم ہوگئی ہے اور اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں 70 روپے فی بوری مصنوعی اضافہ کردیا گیا ہے جس سے آٹے کی قیمت میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
حکومت نے گندم کی فصل کے لیے سپورٹ پرائس 1050 روپے فی من سے بڑھا کر 1200روپے فی من مقرر کر دی ہے جس کے بعد عاشورے کی تعطیل کے بعد اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافے کا رجحان رہا، 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت 70 روپے بڑھا کر 3080 روپے کردی گئی ہے جس سے چھوٹی چکی مالکان اور فلور ملوں کو بھی آٹے کی قیمت موجودہ سطح پر برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے چیئرمین ممتاز شیخ کے مطابق سندھ حکومت نے عاشورے سے قبل فلور ملوں کیلیے گندم کی قیمت 28.50روپے فی کلو سے کم کرکے 28 روپے کلو مقرر کرنے کا اعلان کیا جس کا نوٹیفکیشن ایک سے دو روز میں جاری کردیا جائے گا۔
سندھ میں گندم کے 10 لاکھ ٹن سے زائد کے ذخائر موجود ہیں اور نئی فصل کے آنے تک قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے اور نہ ہی قیمتوں کا کوئی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، اب بھی 28.50 روپے قیمت کے چالان پر سرکاری گوداموں سے گندم مل رہی ہے۔ ادھر کراچی آٹا چکی ایسوسی ایشن کے صدر انیس شاہد نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے سپورٹ پرائس میں اضافے کے اعلان کے بعد سے سٹہ مافیا سرگرم ہوگئی ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ممکنہ بحران سے بچنے اور سٹہ مافیا کے عزائم ناکان بنانے کیلیے فی الفور 28روپے کلو پر گندم کی فراہمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔