پی ایس او کو 6 سال میں بڑی عالمی کمپنی بنانے کا منصوبہ پیش

غیرملکی ذرائع پر انحصار کم کر کے خود انحصاری حاصل کی جائیگی، ایم ڈی کی پریس کانفرنس

غیرملکی ذرائع پر انحصار کم کر کے خود انحصاری حاصل کی جائیگی، ایم ڈی کی پریس کانفرنس فوٹو: فائل

پاکستان اسٹیٹ آئل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر نعیم یحیٰ میر نے پی ایس او کو 6سال کے اندر عالمی مارکیٹ کی بڑی آئل کمپنی بنانے کے حوالے سے اقدامات پر مشتمل وژن پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایس او کو مربوط توانائی کمپنی میں تبدیل کیا جائے گا۔

اس سلسلہ میں تشکیل دی گئی پالیسی پر عملدرآمد کے ذریعے غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم کر کے خود انحصاری حاصل کی جائے گی۔ وہ منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ پی ایس او کو ایک مربوط توانائی کمپنی میں تبدیل کیا جائے گا جس میں پروڈکٹ سپلائی چین کے تمام پہلو یعنی تیل کی دریافت، ری فائننگ، ڈسٹری بیوشن اور شپنگ شامل ہوں گے، اس پالیسی پر عملدرآمد کر کے پی ایس او پی او ایل کی مصنوعات کے حصول میں خود انحصاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی اور غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم ہو جائے گا۔


انہوں نے اپنے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پی ایس او کو 2 سال کے عرصے میں ملک کی سب سے بڑی کمپنی، 4 سال کی مدت میں ریجنل پلیئر اور 6 سال کے عرصے میں عالمی مارکیٹ کی بڑی آئل کمپنیز مثلاً پیٹرو چائنا، پیٹروناس ملائیشیا اور پیٹرو ناس برازیل جیسی کمپنیز کی صف میں شامل کرنا چاہتے ہیں، مو گیس اور ڈیزل میں detergent additives کی شمولیت کے خاتمے سے کمپنی کو تقریباً 635 ملین روپے،پی او ایل مصنوعات درآمد پروار پریمیم انشورنس ختم کرنے سے 450 ملین روپے،مقامی ذرائع ریفائنریز سے پروڈکٹس کی اپ لفٹنگ سے 200 ملین ڈالراور پی این ایس سی کیرئیرز سے فرنس آئل کی ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے500 ملین روپے کی بچت ممکن ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پاکستان اور کینیڈا کی شہریت ہے، حکومت اور پارلیمنٹ کی جانب سے اگر فیصلہ آیا کہ دہری شہریت کا حامل شخص پی ایس او کا منیجنگ ڈائریکٹر نہیں ہو سکتا تو وہ یہ عہدہ بلاتاخیر چھوڑ دیں گے۔
Load Next Story