توانائی بحران اور بدامنی سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہے جاپانی قونصل جنرل
49 کمپنیوں کی فروٹ، ٹیکسٹائل وآٹو سیکٹر میں دلچسپی ہے، پانی بجلی گیس اور سیکیورٹی مسائل کے باعث پاکستان نہیں آ رہیں۔
49 کمپنیوں کی فروٹ، ٹیکسٹائل وآٹو سیکٹر میں دلچسپی ہے، پانی بجلی گیس اور سیکیورٹی مسائل کے باعث پاکستان نہیں آ رہیں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
پاکستان میں حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل، انفرااسٹرکچرل مسائل، توانائی بحران اور امن وامان کی غیرتسلی بخش صورتحال جاپان کی مزید سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
یہ بات کراچی میں تعینات جاپان کے قونصل جنرل اکیرا اوچی نے منگل کو کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمدہارون اگرودیگر عہدیداروں سے بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں جاپان کی 49 کمپنیاں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں کیونکہ پاکستان کے فروٹ، ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل سیکٹرمیں منافع بخش سرمایہ کاری کے وسیع مواقع دستیاب ہیں لیکن سیکیورٹی مسائل، پانی، بجلی اور گیس کی قلت کے باعث خواہش کے باوجود نئی جاپانی کمپنیاں پاکستان آنے سے گریزاں ہیں لیکن اس کے باوجود جاپانی قونصلیٹ کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے حوالے سے پھیلائے جانے والے منفی تاثر کے اثرات جاپانی سرمایہ کاروں پر بھی مرتب ہورہے ہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں اور انہی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپانی قونصلیٹ پاکستان کے مثبت تاثر کو اجاگر کرے گا۔ انہوں نے بتایاکہ جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں پرکشش سرمایہ کاری وتجارت کے مواقع کی حقیقی معلومات سے عدم واقفیت کے سبب بھی پاکستان میں جاپان کی نئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے، جاپانی سرمایہ کاروں کی اکثریت پاکستان کے آٹوموبائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت پورٹ قاسم میں جاپان کے پہلے اسپیشل اکنامک زون پر کام جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس زون میں جاپانی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی جائے۔ اکیرا اوچی نے کہا کہ جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق معلومات کی فراہمی کیلیے دسمبر2012 میں جاپان میں ایک سیمینار منعقد کیا جارہا ہے۔ جاپانی قونصل جنرل نے کراچی چیمبر کو تجویز دی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان شعبہ جاتی بنیادوں پر تجارت وسرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق سفارشات مرتب کرے تاکہ باہمی تجارت کے حجم کو وسعت دی جاسکے۔
اس موقع پر کراچی چیمبر کے صدر ہارون اگر نے کہا کہ پاک جاپان تجارت کا حجم انتہائی کم ہے، باہمی تجارت کو وسعت دینے کیلیے دونوں ممالک کی تاجر برادری کے درمیان باہمی رابطوں کے فروغ اور تجارتی ایوانوں کے درمیان کاروباری مواقع سے متعلق درست معلومات کے تبادلوں کا میکنزم متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل، انفرااسٹرکچرل مسائل، توانائی بحران اور امن وامان کی غیرتسلی بخش صورتحال جاپان کی مزید سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
یہ بات کراچی میں تعینات جاپان کے قونصل جنرل اکیرا اوچی نے منگل کو کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمدہارون اگرودیگر عہدیداروں سے بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں جاپان کی 49 کمپنیاں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں کیونکہ پاکستان کے فروٹ، ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل سیکٹرمیں منافع بخش سرمایہ کاری کے وسیع مواقع دستیاب ہیں لیکن سیکیورٹی مسائل، پانی، بجلی اور گیس کی قلت کے باعث خواہش کے باوجود نئی جاپانی کمپنیاں پاکستان آنے سے گریزاں ہیں لیکن اس کے باوجود جاپانی قونصلیٹ کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے حوالے سے پھیلائے جانے والے منفی تاثر کے اثرات جاپانی سرمایہ کاروں پر بھی مرتب ہورہے ہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں اور انہی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپانی قونصلیٹ پاکستان کے مثبت تاثر کو اجاگر کرے گا۔ انہوں نے بتایاکہ جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں پرکشش سرمایہ کاری وتجارت کے مواقع کی حقیقی معلومات سے عدم واقفیت کے سبب بھی پاکستان میں جاپان کی نئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے، جاپانی سرمایہ کاروں کی اکثریت پاکستان کے آٹوموبائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت پورٹ قاسم میں جاپان کے پہلے اسپیشل اکنامک زون پر کام جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس زون میں جاپانی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی جائے۔ اکیرا اوچی نے کہا کہ جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق معلومات کی فراہمی کیلیے دسمبر2012 میں جاپان میں ایک سیمینار منعقد کیا جارہا ہے۔ جاپانی قونصل جنرل نے کراچی چیمبر کو تجویز دی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان شعبہ جاتی بنیادوں پر تجارت وسرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق سفارشات مرتب کرے تاکہ باہمی تجارت کے حجم کو وسعت دی جاسکے۔
اس موقع پر کراچی چیمبر کے صدر ہارون اگر نے کہا کہ پاک جاپان تجارت کا حجم انتہائی کم ہے، باہمی تجارت کو وسعت دینے کیلیے دونوں ممالک کی تاجر برادری کے درمیان باہمی رابطوں کے فروغ اور تجارتی ایوانوں کے درمیان کاروباری مواقع سے متعلق درست معلومات کے تبادلوں کا میکنزم متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔