قومی ٹوئنٹی 20 کرکٹ پلیئرز کے ارمانوں پر ’’اوس‘‘ پڑنے کا خدشہ
مسئلے سے بچنے کیلیے تمام مقابلے دن میں ہی کرانے کی تجویز زیرغور،تینوں وینیوز پر روزانہ 2،2میچز ہونگے۔
پنجاب حکومت کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، مختلف ادارے ہر ممکن مددکیلیے تیار ہیں، مقابلوں سے کھلاڑیوں کو دورئہ بھارت کی تیاری کا بہترین موقع ملے گا،جاوید میانداد فوٹو: فائل
قومی ٹوئنٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ کے میچز اوس سے متاثر ہونے کا خدشہ سامنے آ گیا، اس سے سلیکٹرز کو متاثر کرنے کے خواہاں پلیئرز کے ارمانوں پر بھی اوس پڑ سکتی ہے۔
پی سی بی اس حقیقت سے واقف اور اسی لیے تمام میچز دن میں ہی کرانے کی تجویز زیرغور ہے، تینوں وینیوز پر روزانہ دو، دو میچز ہوں گے، ایل سی سی اے اور لاہور جیمخانہ 14،14 جبکہ قذافی اسٹیڈیم دونوں سیمی فائنلز اور فائنل سمیت 17میچز کا میزبان ہوگا، ایونٹ کیلیے سپورٹنگ وکٹیں تیار کی جارہی ہیں، تیاریوں میں بھی تیزی آگئی، ضلعی حکومت کے مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے آفیشلز نے انتظامی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پاکستان کرکٹ بورڈ جاوید میانداد کے مطابق پنجاب حکومت کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، مختلف ادارے ہر ممکن مددکیلیے تیار ہیں، قبل از وقت شیڈول کیے جانے والے ڈومیسٹک مقابلوں سے کھلاڑیوں کو دورئہ بھارت کی تیاری کا بہترین موقع ملے گا۔تفصیلات کے مطابق قومی ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ آئندہ ماہ کے اوائل میں لاہور میں منعقد ہو گا۔
تاہم اوس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پی سی بی بھی اس مسئلے سے نمٹنے کیلیے مختلف تجاویز پر غور کر رہا اور اس میں سے ایک میچز کا دن کی روشنی میں انعقاد بھی ہے، ایونٹ کے قریب آنے پر پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں خصوصی میٹنگ میں ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد، ڈائریکٹر ڈومیسٹک ذاکر خان،ضلعی حکومت کے نمائندہ فہد انیس، تحصیل میونسپل آفیسر، واسا، ریسکیو 1122، شہری دفاع، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر شرکاء نے ایونٹ کے دوران ضروری انتظامی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جاوید میانداد نے کہا کہ مقابلوں کے کامیاب انعقاد کیلیے مختلف محکموں کے تعاون کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس ضمن میں گفتگو خاصی حوصلہ افزا رہی ہے، تمام اداروں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی،گاڑیوں کے روٹس، پارکنگ، صفائی ، لائٹس، میڈیکل اور دیگر انتظامی امور کے سلسلے میں حکام ہر چیلنج قبول کرنے کیلیے تیار ہیں۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ خوشگوار اور دیرینہ تعلقات ہیں، پنجاب حکومت سے بھی کوئی مسائل نہیں، سب چاہتے ہیں کہ ملک میں کرکٹ کو فروغ ملے اور انٹرنیشنل مقابلے بھی بحال ہوں، انتظامات کے حوالے سے کمیٹی دن رات کام کر رہی ہے، تھوڑی بہت مشکلات ہوئیں بھی تو مل جل کر حل کرلیں گے۔ڈی جی پی سی بی نے کہا کہ قبل از وقت شیڈول کیے جانے والے مقابلے دورئہ بھارت کی تیاری اور ٹیم سلیکشن کے حوالے سے خاص اہمیت کے حامل ہیں،امید ہے کہ قومی کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع اور شائقین کو بہترین تفریح میسر آئے گی۔ذرائع کے مطابق ایونٹ میں مجموعی طور پر45 میچز کھیلے جائیں گے،ایل سی سی اے اور لاہور جیمخانہ گرائونڈز پر 14،14 میچز شیڈول کیے گئے ہیں، روزانہ دو میچز کھیلے جائیں گے۔
پہلا 9:15 ، دوسرا1:15 پر شروع ہوگا۔ قذافی اسٹیڈیم میں دونوں سیمی فائنلز اور فائنل سمیت17 میچز ہونگے، پہلے مقابلے کا آغاز 10:30، دوسرے کا2:30 پر ہوگا،اس وینیو پر میچز کے دوران آخری گھنٹے میں مصنوعی روشنیوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے، صرف قذافی اسٹیڈیم کے میچز ہی براہ راست نشر کئے جائیں گے، ایونٹ کیلیے سپورٹنگ وکٹیں تیار کی جارہی ہیں جن پر بیٹسمینوں اور بولرز دونوں کیلیے صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع ہونگے، گذشتہ روز قذافی اسٹیڈیم میں پچز پر سے زیادہ تر گھاس صاف کرکے ہیوی رولرز چلائے جارہے تھے جس کے بعد توقع ہے کہ وکٹ پر قیام کرنے والے اچھی تکنیک کے حامل بیٹسمین کھل کر اسٹروکس کھیل سکیں گے،اچھی لائن ولینتھ پر بولنگ کرنے والے پلیئرز بھی مایوس نہیں ہونگے۔
پی سی بی اس حقیقت سے واقف اور اسی لیے تمام میچز دن میں ہی کرانے کی تجویز زیرغور ہے، تینوں وینیوز پر روزانہ دو، دو میچز ہوں گے، ایل سی سی اے اور لاہور جیمخانہ 14،14 جبکہ قذافی اسٹیڈیم دونوں سیمی فائنلز اور فائنل سمیت 17میچز کا میزبان ہوگا، ایونٹ کیلیے سپورٹنگ وکٹیں تیار کی جارہی ہیں، تیاریوں میں بھی تیزی آگئی، ضلعی حکومت کے مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے آفیشلز نے انتظامی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پاکستان کرکٹ بورڈ جاوید میانداد کے مطابق پنجاب حکومت کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، مختلف ادارے ہر ممکن مددکیلیے تیار ہیں، قبل از وقت شیڈول کیے جانے والے ڈومیسٹک مقابلوں سے کھلاڑیوں کو دورئہ بھارت کی تیاری کا بہترین موقع ملے گا۔تفصیلات کے مطابق قومی ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ آئندہ ماہ کے اوائل میں لاہور میں منعقد ہو گا۔
تاہم اوس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پی سی بی بھی اس مسئلے سے نمٹنے کیلیے مختلف تجاویز پر غور کر رہا اور اس میں سے ایک میچز کا دن کی روشنی میں انعقاد بھی ہے، ایونٹ کے قریب آنے پر پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں خصوصی میٹنگ میں ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد، ڈائریکٹر ڈومیسٹک ذاکر خان،ضلعی حکومت کے نمائندہ فہد انیس، تحصیل میونسپل آفیسر، واسا، ریسکیو 1122، شہری دفاع، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر شرکاء نے ایونٹ کے دوران ضروری انتظامی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جاوید میانداد نے کہا کہ مقابلوں کے کامیاب انعقاد کیلیے مختلف محکموں کے تعاون کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس ضمن میں گفتگو خاصی حوصلہ افزا رہی ہے، تمام اداروں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی،گاڑیوں کے روٹس، پارکنگ، صفائی ، لائٹس، میڈیکل اور دیگر انتظامی امور کے سلسلے میں حکام ہر چیلنج قبول کرنے کیلیے تیار ہیں۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ خوشگوار اور دیرینہ تعلقات ہیں، پنجاب حکومت سے بھی کوئی مسائل نہیں، سب چاہتے ہیں کہ ملک میں کرکٹ کو فروغ ملے اور انٹرنیشنل مقابلے بھی بحال ہوں، انتظامات کے حوالے سے کمیٹی دن رات کام کر رہی ہے، تھوڑی بہت مشکلات ہوئیں بھی تو مل جل کر حل کرلیں گے۔ڈی جی پی سی بی نے کہا کہ قبل از وقت شیڈول کیے جانے والے مقابلے دورئہ بھارت کی تیاری اور ٹیم سلیکشن کے حوالے سے خاص اہمیت کے حامل ہیں،امید ہے کہ قومی کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع اور شائقین کو بہترین تفریح میسر آئے گی۔ذرائع کے مطابق ایونٹ میں مجموعی طور پر45 میچز کھیلے جائیں گے،ایل سی سی اے اور لاہور جیمخانہ گرائونڈز پر 14،14 میچز شیڈول کیے گئے ہیں، روزانہ دو میچز کھیلے جائیں گے۔
پہلا 9:15 ، دوسرا1:15 پر شروع ہوگا۔ قذافی اسٹیڈیم میں دونوں سیمی فائنلز اور فائنل سمیت17 میچز ہونگے، پہلے مقابلے کا آغاز 10:30، دوسرے کا2:30 پر ہوگا،اس وینیو پر میچز کے دوران آخری گھنٹے میں مصنوعی روشنیوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے، صرف قذافی اسٹیڈیم کے میچز ہی براہ راست نشر کئے جائیں گے، ایونٹ کیلیے سپورٹنگ وکٹیں تیار کی جارہی ہیں جن پر بیٹسمینوں اور بولرز دونوں کیلیے صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع ہونگے، گذشتہ روز قذافی اسٹیڈیم میں پچز پر سے زیادہ تر گھاس صاف کرکے ہیوی رولرز چلائے جارہے تھے جس کے بعد توقع ہے کہ وکٹ پر قیام کرنے والے اچھی تکنیک کے حامل بیٹسمین کھل کر اسٹروکس کھیل سکیں گے،اچھی لائن ولینتھ پر بولنگ کرنے والے پلیئرز بھی مایوس نہیں ہونگے۔