سیاسی تصادم معاملہ فہمی اور تدبر کی ضرورت
سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو کارکنوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کی جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے
آزاد کشمیر جیسے حساس علاقے میں کشیدگی کا فائدہ شرانگیز پڑوسی کو پہنچ سکتا ہے، فوٹو : آن لائن
ISLAMABAD:
آزاد کشمیر کے حلقے ایل اے 16 حویلی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے تصادم کے بعد علاقے میں کشیدگی کی جو لہر پھیل رہی ہے وہ نہایت افسوسناک ہے جس پر نہایت تدبر اور معاملہ فہمی سے حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے لیکن جس طرح متنازعہ اور اشتعال انگیز سیاسی بیانات سے معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھایا جارہا ہے وہ سیاستدانوں کی کوتاہ بینی اور عاقبت نااندیشی کا مظہر ہے۔
تصادم کا واقعہ ہفتہ کو پیش آیا جب دونوں پارٹیوں کے کارکنوں میں نعرے بازی کے بعد مسلح تصادم میں 2 کارکن جاں بحق جب کہ 10 افراد زخمی ہوگئے، اس واقعے کے بعد ضلع حویلی میں جگہ جگہ تصادم شروع ہوگیا، اور اتوار کو دوسرے روز بھی علاقے میں حالات کشیدہ رہے۔ گداڑ میں مشتعل مظاہرین نے 35 دکانیں جلادیں جب کہ متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ کشیدگی کے باعث علاقے میں بازار اور کاروباری مراکز بند رہے، ٹریفک کا نظام بھی جزوی معطل رہا۔ امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں فوج طلب کرلی گئی جب کہ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی جب کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس معاملے میں یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ شر انگیزی اور حالات کشیدہ کرنے میں کوئی تیسرا ہاتھ بھی ملوث ہوسکتا ہے۔ دوران انتخابات سیاسی پارٹیوں اور کارکنوں کے مابین تلخ کلامی اور جھگڑے کوئی نئی بات نہیں لیکن اختلافات میں تشدد کا پہلو یقیناً قابل مذمت ہے، سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو کارکنوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کی جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات رونما نہ ہوسکیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ کارکنان تو ایک طرف اہم عہدوں پر فائز سینئر سیاستدان بھی معاملہ فہمی اور تدبر اختیار کرنے کے بجائے اختلاف برائے اختلاف کے پیش نظر اشتعال انگیز اور ذاتیات پر مبنی بیانات کے باعث حالات کو مزید خراب کرنے کا موجب بنتے ہیں۔
مذکورہ واقعے کے بعد جس طرح کی بیان بازی دیکھنے میں آرہی ہے وہ سیاستدانوں کی کج ذہنی کی عکاس ہے۔ صائب ہوگا کہ پارٹی لیڈران اس معاملے میں وزرا اور کارکنوں کو سنبھالیں نیز عوام کو بھی پرامن رہنے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر جیسے حساس علاقے میں کشیدگی کا فائدہ شرانگیز پڑوسی کو پہنچ سکتا ہے، اس لیے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کرنا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر کے حلقے ایل اے 16 حویلی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے تصادم کے بعد علاقے میں کشیدگی کی جو لہر پھیل رہی ہے وہ نہایت افسوسناک ہے جس پر نہایت تدبر اور معاملہ فہمی سے حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے لیکن جس طرح متنازعہ اور اشتعال انگیز سیاسی بیانات سے معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھایا جارہا ہے وہ سیاستدانوں کی کوتاہ بینی اور عاقبت نااندیشی کا مظہر ہے۔
تصادم کا واقعہ ہفتہ کو پیش آیا جب دونوں پارٹیوں کے کارکنوں میں نعرے بازی کے بعد مسلح تصادم میں 2 کارکن جاں بحق جب کہ 10 افراد زخمی ہوگئے، اس واقعے کے بعد ضلع حویلی میں جگہ جگہ تصادم شروع ہوگیا، اور اتوار کو دوسرے روز بھی علاقے میں حالات کشیدہ رہے۔ گداڑ میں مشتعل مظاہرین نے 35 دکانیں جلادیں جب کہ متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ کشیدگی کے باعث علاقے میں بازار اور کاروباری مراکز بند رہے، ٹریفک کا نظام بھی جزوی معطل رہا۔ امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں فوج طلب کرلی گئی جب کہ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی جب کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس معاملے میں یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ شر انگیزی اور حالات کشیدہ کرنے میں کوئی تیسرا ہاتھ بھی ملوث ہوسکتا ہے۔ دوران انتخابات سیاسی پارٹیوں اور کارکنوں کے مابین تلخ کلامی اور جھگڑے کوئی نئی بات نہیں لیکن اختلافات میں تشدد کا پہلو یقیناً قابل مذمت ہے، سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو کارکنوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کی جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات رونما نہ ہوسکیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ کارکنان تو ایک طرف اہم عہدوں پر فائز سینئر سیاستدان بھی معاملہ فہمی اور تدبر اختیار کرنے کے بجائے اختلاف برائے اختلاف کے پیش نظر اشتعال انگیز اور ذاتیات پر مبنی بیانات کے باعث حالات کو مزید خراب کرنے کا موجب بنتے ہیں۔
مذکورہ واقعے کے بعد جس طرح کی بیان بازی دیکھنے میں آرہی ہے وہ سیاستدانوں کی کج ذہنی کی عکاس ہے۔ صائب ہوگا کہ پارٹی لیڈران اس معاملے میں وزرا اور کارکنوں کو سنبھالیں نیز عوام کو بھی پرامن رہنے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر جیسے حساس علاقے میں کشیدگی کا فائدہ شرانگیز پڑوسی کو پہنچ سکتا ہے، اس لیے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کرنا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔