یورو کپ پرتگال جیت گیا

فیفاورلڈکپ کےبعد یوروکپ کوبھی دنیابھرمیں شائقین فٹبال کی ایک بڑی تعداد نےٹیلی وژن پربڑے جوش وخروش اور انہماک سے دیکھا

ویلز کے گاریتھ بیل بھی خوبصورت کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتحیاب نہ کرسکے۔ فوٹو: اے ایف پی

یورو کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میں پرتگال نے فرانس کو ہرا دیا ۔ فاتح ٹیم کے اسٹرائیکر ایڈر نے فیصلہ کن گول کرکے پرتگال کو سبقت دلادی۔ دونوں ٹیموں نے شاندار جارحانہ کھیل پیش کیا جب کہ دونوں گول کیپرز نے کئی یقینی گول بچائے۔ سنسنی خیز معرکے کا فیصلہ اضافی وقت میں ہوا۔ پرتگال کے ''نورنظر'' کرسٹیانو رونالڈو میچ کے دوران زخمی ہوگئے تھے، انھیں اسٹریچر پر باہر لے جایا گیا ۔بلاشبہ فیفا ورلڈ کپ کے بعد یورو کپ کو بھی دنیا بھر میں شائقین فٹبال کی ایک بڑی تعداد نے ٹیلی وژن پر بڑے جوش و خروش اور انہماک سے دیکھا ۔


فٹبال پنڈتوں اور ماہرین کے کئی اندازے غلط ثابت ہوئے، بعض کے تجزیوں کے مطابق اٹلی اور پرتگال کو دوسرے راؤنڈ میں دوڑ سے باہر ہونا تھا جب کہ بیلجیم کو مضبوط ٹیم شمار کیا گیا، انگلینڈ کو شرمناک شکست ہوئی، وائن رونی کچھ نہ کرسکے، اسی طرح سوئیڈن کے عظیم فٹبالر ابراہیمووچ پر سب کی نگاہیں مرکوز تھیں، فرانس کے اسٹرائیکر گریزمین نے تابڑ توڑ کئی حملے کیے لیکن پرتگالی گول کیپر دیوار چین بن کر ڈٹے رہے، گریزمین فرانس کے سب سے زیادہ گول اسکور کرنے والے کھلاڑی تھے ۔ اسی طرح اسپین، اور اٹلی کو فیورٹ قراردیا گیا تھا ، ٹیم گریڈیشن کرنے والے پنڈتوں کے مطابق فرانس ، انگلینڈ، اٹلی اور پرتگال فرسٹ ٹیئر ٹیمیں تھیں، اور اسپین ، بیلجیم اور جرمنی کو مضبوط ترین ٹیموں میں شامل کیا گیا، جو کسی بھی وقت پانسہ پلٹ سکتی تھیں، اسپین نے اس چیمپئن شپ میں اپنا دفاع کرنا تھا مگر ناکام رہا۔ ویلز کے گاریتھ بیل بھی خوبصورت کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتحیاب نہ کرسکے۔

پولینڈ کے اسکورر لیونڈوسکی بھی اپنی سائیڈ کی امیدوں کا مرکز تھے، اور بھی کئی اسٹار فٹبالرز یورو کپ کے افق پر اپنے شاندار کھیل سے شائقین فٹبال کو محظوظ کرتے رہے ۔ کئی سیاہ فام کھلاڑی لاکھوں کروڑوں شائقین کی نظروں کا مرکز بنے رہے مگر ایک سوال اس اہم عالمی کپ کے حوالے سے پاکستان کے فٹبالرز اور اہل وطن کے ذہنوں میں بھی ضرور اٹھا ہوگا کہ ہم عالمی یا ایشیاکپ یا اپنے زون اور خطے کے کسی اہم ٹورنامنٹ میں کس مقام پر ہیں ، کیا ہم کوئی کرسٹیانو رونالڈو اور میسی پیدا نہیں کرسکتے؟ اور وہ وقت کب آئیگا جب قومی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں سرخرو ہونے کا سنگ میل عبور کریگی۔ اس ضمن میں لیاری کا علاقہ یاد آتا ہے جسے کسی زمانے میں فٹبال کی نرسری کہا جاتا تھا۔ فٹبال کے کرتادھرتاؤں کو قومی ٹیم کے احیا پر توجہ دینی چاہیے۔
Load Next Story