ٹی او آرز سیاست دانوں کے لیے کڑا امتحان

اگر ہم سیاستدانوں کے بیانات کو سامنے رکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب نے نیام سے تلواریں باہر نکال لی ہیں

پاکستان کے عوام نے جمہوریت کی بحالی اور بقا کے لیے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں، تمام سیاسی جماعتیں ان قربانیوں کی لاج رکھیں تاکہ جمہوریت ڈی ریل نہ ہو۔ فوٹو: آن لائن/فائل

اہل وطن آج کل گرمی بازارسیاست دیکھ رہے ہیں، وزیراعظم دل کے کامیاب آپریشن کے بعد وطن لوٹ آئے ہیں، جب کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرچکی ہیں، وجہ تنازع اس بار'پانامہ لیکس' ہے۔ایک جانب حکومت کے جانے کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں، دوسری جانب حکومتی وزراء، حکومت کو مستحکم دیکھ رہے ہیں، تیسری جانب مارشل لاء کی ''بینر جاتی''خبریں بھی گرم ہیں۔

چوتھی جانب عوام ہیں جو اپنے سیاستدانوں کی باہم لڑائی میں پس رہے ہیں ۔ایک عجیب بے یقینی کی صورتحال ہے جس پرسب فکرمند ہیں۔اگراس بار جمہوریت کو نقصان پہنچا تو یقیناً اس کی تمام تر ذمے داری بھی سیاستدانوں پرعائد ہوگی۔ عمران خان اپنی احتجاجی تحریک کا مورچہ اس بار لاہور میں لگائیں گے۔ وزیراعظم اس معاملے پر ایک حکومتی ٹیم تشکیل دے کرگئے تھے، جس نے اپوزیشن سے مذاکرات کیے، لیکن یہ سارے اجلاس بے معنی ثابت ہوئے اور ٹی او آرز پرکسی بھی قسم کا اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق وزیراعظم اپنی مکمل صحتیابی تک لاہورہی میں قیام کریں گے، گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت کیمپ آفس میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈارکو وزیراعظم نواز شریف نے ٹی اوآرز کے معاملے پر مفاہمت کی ایک اورکوشش کرنے کی واضح ہدایت کی۔وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ کوشش کریں معاملے کو مفاہمت سے سلجھا لیا جائے اوراسحاق ڈار خورشید شاہ سے رابطوں کو نتیجہ خیزبنائیں۔


ایک ایسے موقعے پرجب فضاخاصی بوجھل ہے، ایسے میں وزیراعظم نواز شریف کا ٹی او آرز کے مسئلے پر اپوزیشن کو منانے کی خواہش کا اظہارکرنا امید افزاء پیغام ہے ۔وزیراعظم نوازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاہتے ہیں کہ ملکی ترقی اورخوشحالی کے لیے اپوزیشن ہمارا ساتھ دے۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں، پاناما لیکس کے ٹی او آرز پر ڈیڈ لاک کا خاتمہ حکومت پر منحصرہے، اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں۔ وزیراعظم ٹی او آرز پر ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے خود سامنے آ کر مداخلت کریں اور اپنے اوپر الزامات کو کلیئر کرائیں ورنہ معاملہ نظرانداز کرنے سے حالات سنگین ہو جائیں گے، اگر کسی نے ڈیل کی تو یہ جمہوریت کے لیے درست نہیں ہوگا۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی حکومت پر خاصے برہم ہیں۔

اگر ہم سیاستدانوں کے بیانات کو سامنے رکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب نے نیام سے تلواریں باہر نکال لی ہیں اور وہ جنگ وجدل کے لیے تیارہیں، لیکن یہی وقت سیاستدانوں کی فہم وفراست اورتدبرکے کڑے امتحان کا ہے کہ وہ معاملات کو جوش کے بجائے ہوش سے حل کرتے ہیں یا ذاتی اناء کے بت میں قید ہوکرکوئی ایسا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں جس پر پچھتاوے اور شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے ۔یہ بات درست ہے کہ کرپشن وطن عزیز کے تمام اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اوراس کے لیے ایک ایسا واضح اور دو ٹوک نظام اتفاق رائے سے نافذکیا جائے جو سب کا احتساب کرے، اس میں شاہ وگدا کی تفریق نہ ہو ۔ پاکستان کے عوام نے جمہوریت کی بحالی اور بقا کے لیے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں، تمام سیاسی جماعتیں ان قربانیوں کی لاج رکھیں تاکہ جمہوریت ڈی ریل نہ ہو۔
Load Next Story