طالب علم کا الم ناک قتل
کسی نوجوان کی جان کا اس طرح زیاں کسی المیے سے کم نہیں
بہر حال تحقیقات کا سب انتظار کریں جب کہ کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ فوٹو؛ فائل
ISLAMABAD:
کراچی میں گزشتہ روز پولیس کے ہاتھوں ایک طالب علم ابرار کے قتل نے اندوہ ناک صورتحال پیدا کی جسے سلجھانے کے لیے پولیس کے سامنے خود اس کے اہلکاروں کی ناسمجھی اور غیر پیشہ ورانہ عجلت کی سی سی ٹی وی فوٹیج سارا بھانڈا پھوڑ گئی، واقعہ یہ تھا کہ ایک مشکوک شخص دل نواز نے موبائل فون کی رقم کے بدلے مقتول طالب علم کو جعلی پرائز بانڈ دیے، مقتول نے احتجاج کی کوشش کی لیکن مشکوک شخص کار اسٹارٹ کرکے فرار ہورہا تھا کہ مقتول طالب علم دوڑ کر اس کی کار سے لٹک گیا، راستے میں پولیس اہلکاروں نے طالب علم کو ڈاکو سمجھ کر گولی ماردی۔
قتل کے اس الم ناک واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، فائرنگ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ میں تعینات اہلکاروں نے کی، ابرار کے قتل کے 4 ذمے دارزیر حراست ہیں ، پولیس دل نواز اور عینی شاہدین کے بیانات بھی لیے ہیں تاہم واقعہ کی سنگینی ایک شفاف تحقیقات کی متقاضی ہے، کراچی کی سماجی حالت کے پیش نظر جہاں کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے اس واقعہ میں فائرنگ کے اضطراری عمل کی ضرورت، اس کے الم ناک انسانی پہلو اور پولیس اہلکاروں کی کوتاہ اندیشی یا نا تجربہ کاری کے تناظر میں مقتول طالب علم کی قیمتی جان کے ضیاع اور غمزدہ خاندان کے دکھ کا بھی ادراک کیا جانا چاہیے۔
امید کی جانی چاہیے کہ اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہوگی، پولیس کو جو حقائق دل نواز کے بارے میں حاصل ہوئے ہیں، ان کی بھی چھان پھٹک ہونی چاہیے اور پورے معاملہ کو شہر کی مجموعی صورتحال کے سیاق وسباق میں دیکھنا چاہیے۔ کسی نوجوان کی جان کا اس طرح زیاں کسی المیے سے کم نہیں۔ بہر حال تحقیقات کا سب انتظار کریں جب کہ کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔
کراچی میں گزشتہ روز پولیس کے ہاتھوں ایک طالب علم ابرار کے قتل نے اندوہ ناک صورتحال پیدا کی جسے سلجھانے کے لیے پولیس کے سامنے خود اس کے اہلکاروں کی ناسمجھی اور غیر پیشہ ورانہ عجلت کی سی سی ٹی وی فوٹیج سارا بھانڈا پھوڑ گئی، واقعہ یہ تھا کہ ایک مشکوک شخص دل نواز نے موبائل فون کی رقم کے بدلے مقتول طالب علم کو جعلی پرائز بانڈ دیے، مقتول نے احتجاج کی کوشش کی لیکن مشکوک شخص کار اسٹارٹ کرکے فرار ہورہا تھا کہ مقتول طالب علم دوڑ کر اس کی کار سے لٹک گیا، راستے میں پولیس اہلکاروں نے طالب علم کو ڈاکو سمجھ کر گولی ماردی۔
قتل کے اس الم ناک واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، فائرنگ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ میں تعینات اہلکاروں نے کی، ابرار کے قتل کے 4 ذمے دارزیر حراست ہیں ، پولیس دل نواز اور عینی شاہدین کے بیانات بھی لیے ہیں تاہم واقعہ کی سنگینی ایک شفاف تحقیقات کی متقاضی ہے، کراچی کی سماجی حالت کے پیش نظر جہاں کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے اس واقعہ میں فائرنگ کے اضطراری عمل کی ضرورت، اس کے الم ناک انسانی پہلو اور پولیس اہلکاروں کی کوتاہ اندیشی یا نا تجربہ کاری کے تناظر میں مقتول طالب علم کی قیمتی جان کے ضیاع اور غمزدہ خاندان کے دکھ کا بھی ادراک کیا جانا چاہیے۔
امید کی جانی چاہیے کہ اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہوگی، پولیس کو جو حقائق دل نواز کے بارے میں حاصل ہوئے ہیں، ان کی بھی چھان پھٹک ہونی چاہیے اور پورے معاملہ کو شہر کی مجموعی صورتحال کے سیاق وسباق میں دیکھنا چاہیے۔ کسی نوجوان کی جان کا اس طرح زیاں کسی المیے سے کم نہیں۔ بہر حال تحقیقات کا سب انتظار کریں جب کہ کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔