عامر پھر نو بال نہ کر دینا

گوروں کے دیس میں جب میں نے کسی کو اردو میں مخاطب کرتے دیکھا تو فوراً اس کی جانب متوجہ ہوا

مصباح الحق کو تو یقین ہے کہ پیسر اور ٹیم پر ان معاملات کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
''بات سنیں بھائی''

گوروں کے دیس میں جب میں نے کسی کو اردو میں مخاطب کرتے دیکھا تو فوراً اس کی جانب متوجہ ہوا، اس نے کہا کہ ''آپ کا کارڈ پڑھ کر علم ہواکہ پاکستانی صحافی ہیں، یقیناً آپ کی عامر تک پہنچ بھی ہو گی وہ ملے تو ضرور کہے گا کہ پھر نو بال نہ کر دینا''


یہ باتیں سننے کے بعد میرے ذہن میں ماضی کی یادیں تازہ ہو گئیں،2010 کا وہ ٹور جب اسپاٹ فکسنگ کا واقعہ ہوا اس وقت لارڈز ٹیسٹ کے دوران تو میں موجود نہ تھا البتہ جب ون ڈے سیریز میں آیا تو ماحول ہی الگ پایا، وہ پاکستانی جن کے ہاتھ ٹیم کی فتح کیلیے اٹھے ہوتے تھے ان کی نگاہیں شرم سے جھکی ہوئی تھیں، گورے اور بھارتی انھیں بے ایمان کہہ کر چھیڑتے تھے، ٹیم کی ساکھ صفر رہ گئی تھی، میچز میں کسی نے زیادہ دلچسپی نہیں لی، انگلینڈ کی بھی کوشش تھی کہ کسی طرح سیریز پوری کر کے جان چھڑائی جائے، بعد میں سلمان، عامر اور آصف کو جب لندن کرائون کورٹ نے جیل بھیجا تو بھی میں وہاں موجود تھا،اپنے ہم وطنوں کی اس رسوائی پر دل خون کے آنسو رو رہا تھا،اب اس دعا کے ساتھ برطانیہ آیا ہوں کہ اس بار کچھ برا نہ ہو بلکہ ٹیم جیت کر واپس جائے تاکہ ناخوشگوار یادیں دل سے نکالنے میں مدد ملے۔

اس وقت جب میں لارڈز کے کیپسول نما میڈیا سینٹر میں بیٹھا یہ لکھ رہا ہوں میرے سامنے گرائونڈ میں موجود پاکستانی ٹیم فٹبال کھیل رہی ہے، ہلکی بارش کے سبب پچ کو ڈھک دیا گیا ہے ، عامر بھی بیحد پُرجوش نظر آرہے ہیں، زندگی میں ہر کسی کو دوسرا موقع نہیں ملتا خوش قسمتی سے عامر کو مل گیا انھیں اب دونوں ہاتھوں سے اسے تھامنا چاہیے،کچھ دیر قبل پریس کانفرنس ہوئی جس میں انگلش کپتان الیسٹر کک اور پاکستانی قائد مصباح الحق سے بیشتر سوالات عامر کے بارے میں ہی ہوئے، ایسا لگتا ہے کہ انگلینڈ بمقابلہ پاکستان نہیں بلکہ انگلینڈ کا عامر سے میچ ہو رہا ہے، ہرطرف بہت زیادہ نیگیٹیوٹی چھائی ہوئی ہے، نجانے جمعرات کو میچ کے وقت شائقین کا رویہ کیسا ہوا، حالات بہت اچھے نظر نہیں آتے مگر عامر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیحد مضبوط ہے،کچھ دیر قبل شاہد آفریدی سے فون پر بات ہوئی تو وہ بھی یہی کہہ رہے تھے، اسے لیے بڑے بڑے طوفان جھیل کر عامر ٹیم میں واپس آ گئے ، دیکھتے ہیں کہ اب وہ کیسے اس امتحان سے نکلتے ہیں۔


مصباح الحق کو تو یقین ہے کہ پیسر اور ٹیم پر ان معاملات کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، لارڈز میں جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ فتح کیلیے خاصے پُرعزم دکھائی دیے، ابھی ہماری بات چیت جاری تھی کہ وہاں الیسٹرکک بھی آ گئے ، پھر دونوں ٹرافی کی رونمائی کیلیے باہر چلے گئے۔ ادھر ہی ٹیم کے میڈیا منیجر نمبر ون آغا اکبر بھی دکھائی دیے ، ٹیم کو تو کوئی انجری مسائل نہیں مگر وہ انجرڈ تھے، انھوں نے بتایا کہ پھسلنے کی وجہ سے چہرے پر چوٹ لگ گئی، آغااکبر کو نمبر ون ان کے کام کی وجہ سے نہیں کہہ رہا بلکہ باری کے حساب سے کہا ابھی دیگر دو کو بھی آنا ہے ، سوشل میڈیا کے عون بھی یہاں موجود ہیں، اس کے باوجود دلچسپ بات یہ ہے کہ میچ کی12 رکنی ٹیم کا اعلان لاہور سے واٹس ایپ پر کیا گیا، ایسے میں ذہن میں یہ سوال ضرور آیا کہ لاکھوں روپے خرچ کر کے یہاں آفیشلز کی فوج کو کیا موسم سے لطف اندوز ہونے کیلیے بھیجا گیا ہے۔

یہ ٹیم چند گھنٹے پہلے ہی میں اپنے ذرائع سے معلوم کر کے اپنے ساتھی عباس رضا کو بتا چکا تھا، جتنی رقم بورڈ نے اس ٹور پر آفیشلز کو بھیج کرخرچ کی اس سے آدھے پیسوں میں 1،2 نوجوان کرکٹرز کو صرف سیکھنے کیلیے بھیجا جا سکتا تھا، سنا ہے چیف سلیکٹر انضمام الحق بھی لاہور کے گرم موسم سے تنگ آ کر یہاں آئے ہوئے ہیں، اکیڈمی چیف مدثر نذر بھی آنے والے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بڑا بورڈ آفیشل مفت کی ان چھٹیوں کو چھوڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم کیسا پرفارم کرتی ہے،اوپننگ پیئر اب تک بڑی شراکتیں بنانے میں کامیاب نہیں رہا، جب میں نے مصباح سے اس بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ''آپ درست کہہ رہے ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ حفیظ جلد بڑی اننگز کھیلنے لگیں گے،شان مسعود بھی اچھی فارم میں ہیں''۔

پاکستانی مڈل آرڈر بیٹنگ خاصی مضبوط دکھائی دیتی ہے، مصباح الحق، یونس خان، اظہر علی، اسد شفیق اور سرفراز احمد سے شائقین کو بڑی اننگز کی توقعات وابستہ ہوں گی، سیمنگ کنڈیشنز میں یہ سب کیسا پرفارم کرتے ہیں یہ دیکھنا ہو گا، البتہ اس کا عامر سمیت وہاب ریاض اور راحت علی عمدگی سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں،اسپنر یاسر شاہ بھی مدد کیلیے موجود ہوںگے، گذشتہ ٹور کے مقابلے میں کاغذ پر تو پاکستانی ٹیم تگڑی ہے مگر میدان میں اترنے پر ہی پتا چلے گا کہ قبل از وقت بھیج کر تیاریوں کے نام پر جو لاکھوں روپے خرچ کیے گئے ان کا کیا فائدہ ہوا؟ اس وقت کوئی ظاہر تو نہیں کر رہا مگر عامر سے جڑے واقعات کی وجہ سے ٹیم دبائو کا شکار ہے، انگلش میڈیا اور سابق کرکٹرز مسلسل منفی باتیں کرتے رہے نجانے پی سی بی نے جس پی آر فرم کی خدمات حاصل کی تھیں اس نے کئی کروڑ روپے کا چیک وصول کرنے کے بعد کیا کیا؟

اس لفظی جنگ سے ہمارے پلیئرز ضرور متاثر ہوئے ہیں، اس سے دو باتیں ہو سکتی ہیں یا وہ اس دبائو کا شکار ہو کر کچھ نہ کر سکیں یا پھر شاندار کارکردگی سے انگلینڈ کو منہ توڑ جواب دیں، ماضی کے تنازعات کی وجہ سے اس بار مقامی شائقین نے تاحال سیریز میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی ہے ، جس شخص کے بارے میں ابتدا میں بتایا وہ اور ایک اور لڑکا ہی اسٹیڈیم کے باہر پلیئرز کو دیکھنے کیلیے موجود تھے، صرف ایک چیز ہی تمام منفی باتوں کا خاتمہ کر سکتی ہے اور وہ ہے کارکردگی، گرین کیپس کا عمدہ کھیل نہ صرف مقامی پاکستانیوں کا کھویا ہوا اعتماد واپس لا سکتا ہے بلکہ انھیں ان کی نظروں میں دوبارہ ہیرو بھی بنا دے گا،اب سب کچھ کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں،عامر پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ انھیں بھی اب تیسرا موقع نہیں ملے گا۔
Load Next Story