پاکستانی ڈرامہ نے 5برسوں میں مایوس کیا ہےبشریٰ انصاری
ڈرامہ ہماری شناخت ہے ہمیں چاہیے اپنے کلچر کو زیادہ سے زیادہ فوکس کریں اور اسے ڈرامائی شکل میں پیش کریں۔
ڈرامے میں بے حیائی کا عنصر دکھانا آج ضرورت بن گیا ہے، بشریٰ انصاری ۔ فوٹو : ایکسپریس / فائل
معروف اداکارہ اور میزبان بشری انصاری کا کہنا ہے کے گزشتہ پانچ سالوں سے پاکستانی ڈرامہ ہمیں مایوسی کی طرف لے جارہا ہے کوئی کہانی سمجھ نہیں آتی ڈرامہ کہاں سے آغاز ہوتا ہے کہاں ختم ہوجاتا ہے۔
نمایندہ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری تہذیب ہماری شناخت ہے مگر ڈرامے میں بے حیائی کا عنصر دکھانا آج ضرورت بن گیا ہے انھوں نے بتایا کے جب ہم نے ڈرامہ کیریئر کا آغاز کیا تو بہت سادگی تھی پھر بھی کوئی کردار کرتے تھے لوگوں کے دل میں گھر کر جاتا تھا اس وقت تمیز اور احترام کادائرہ وسیع تھا آج بے حیائی کو فیشن سمجھ لیا ہے ہمارے فنکاروں کو محدود سوسائٹی میں کام نہیں کرنا چاہیئے میں ہر دن کو نئے انداز سے جیتی ہوں اور ماضی سے سیکھتی ہوں مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کے میں مشہور ہونے کے لیے حد سے گزرجاوںآج وہ ڈرامہ زیادریٹینگ پر ہوتا ہے جس میں ٹانگ ٹوٹتی ہوئی دکھائی جائے یا کوئی پھر اس سے بھی زیادہ براکردار ہو اس کے بارے میں زیادہ گفتگو کی جاتی ہے۔
اس میں فنکاروں کا قصور کم ہے لکھنے والوں کا زیادہ ہے جب ہم لکھ رہے ہیں تو سدھار کی بات کرلیں مگر نہیں کرتے میں بھی ڈرامہ ایک عرصہ درازسے لکھ رہی ہوں مگر بہت سی باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے سوچنا پڑتا ہے پھر قلم کا استعمال کیا جاتا ہے ہم نے منو بھائی انتظار حسین اور ضیا محی الد دین جیسے قدآورلوگوں کے ڈرامے دیکھ کر تربیت حاصل کی ہے ہمارے پسندیدہ فنکاروں میں عظمی گیلانی اور روحی بانو جیسے لوگ تھے جن سے ہم نے سیکھنے کی کوشش کی یہ ہمارے آئیڈیل تھے میرا کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کے ہم اگر وہ کام کریں جو ہضم ہوجائے تو کیا ہی اچھا ہے اس لیے کے ڈرامہ ہماری شناخت ہے ہم نے برسوں محنت کی ہے ہمیں چاہیے اپنے کلچر کو زیادہ سے زیادہ فوکس کریں اور اسے ڈرامائی شکل میں پیش کریں۔
نمایندہ ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری تہذیب ہماری شناخت ہے مگر ڈرامے میں بے حیائی کا عنصر دکھانا آج ضرورت بن گیا ہے انھوں نے بتایا کے جب ہم نے ڈرامہ کیریئر کا آغاز کیا تو بہت سادگی تھی پھر بھی کوئی کردار کرتے تھے لوگوں کے دل میں گھر کر جاتا تھا اس وقت تمیز اور احترام کادائرہ وسیع تھا آج بے حیائی کو فیشن سمجھ لیا ہے ہمارے فنکاروں کو محدود سوسائٹی میں کام نہیں کرنا چاہیئے میں ہر دن کو نئے انداز سے جیتی ہوں اور ماضی سے سیکھتی ہوں مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کے میں مشہور ہونے کے لیے حد سے گزرجاوںآج وہ ڈرامہ زیادریٹینگ پر ہوتا ہے جس میں ٹانگ ٹوٹتی ہوئی دکھائی جائے یا کوئی پھر اس سے بھی زیادہ براکردار ہو اس کے بارے میں زیادہ گفتگو کی جاتی ہے۔
اس میں فنکاروں کا قصور کم ہے لکھنے والوں کا زیادہ ہے جب ہم لکھ رہے ہیں تو سدھار کی بات کرلیں مگر نہیں کرتے میں بھی ڈرامہ ایک عرصہ درازسے لکھ رہی ہوں مگر بہت سی باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے سوچنا پڑتا ہے پھر قلم کا استعمال کیا جاتا ہے ہم نے منو بھائی انتظار حسین اور ضیا محی الد دین جیسے قدآورلوگوں کے ڈرامے دیکھ کر تربیت حاصل کی ہے ہمارے پسندیدہ فنکاروں میں عظمی گیلانی اور روحی بانو جیسے لوگ تھے جن سے ہم نے سیکھنے کی کوشش کی یہ ہمارے آئیڈیل تھے میرا کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کے ہم اگر وہ کام کریں جو ہضم ہوجائے تو کیا ہی اچھا ہے اس لیے کے ڈرامہ ہماری شناخت ہے ہم نے برسوں محنت کی ہے ہمیں چاہیے اپنے کلچر کو زیادہ سے زیادہ فوکس کریں اور اسے ڈرامائی شکل میں پیش کریں۔