ڈوبنے کے حادثات میں اضافہ احتیاط لازم
حکومت کی جانب سے سمندر میں نہانے کی پابندی کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد قانونی شکنی پر آمادہ دکھائی دیتی ہے
حکومت کی جانب سے سمندر میں نہانے کی پابندی کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد قانونی شکنی پر آمادہ دکھائی دیتی ہے، فوٹو:فائل
گرمی کے موسم میں ملک کے تمام حصوں سے ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جو نہایت تشویش ناک امر ہے۔ گزشتہ روز بھی کراچی میں گڈاپ کے تھڈو ڈیم میں نہاتے ہوئے ایک ہی خاندان کی 3 لڑکیاں اور ایک لڑکا ڈوب کر ہلاک ہوگئے جب کہ اندرون سندھ، صوبہ پنجاب اور بلوچستان کے علاقوں میں بھی واٹر کورس، دریا، تالاب، جھیلوں اور برساتی نالوں میں بچوں اور نوجوانوں کے ڈوب کر مرنے کے اعداد و شمار حالات کی سنگینی کو ظاہر کررہے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ حکومت کی جانب سے سمندر میں نہانے کی پابندی کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد قانونی شکنی پر آمادہ دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے حادثات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
راست ہوگا کہ ڈوبنے کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدنظر حکومت فوری حرکت میں آئے اور ایسے تمام تفریحی مقامات پر نہ صرف حفاظتی انتظامات کیے جائیں بلکہ مناسب تعداد میں لائف گارڈز کا بھی بندوبست کیا جائے نیز عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر واقعات لاپرواہی اور غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں، اگر عوام خود حفاظتی کے تحت گہرے پانی میں جانے سے گریز کریں اور پانی میں جاتے ہوئے لائف جیکٹ کا استعمال کریں تو حادثات کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔ ڈوبنے کے واقعات میں کمی کے لیے عوام اور حکومت دونوں کو اپنی اپنی ذمے داریاں نبھانی ہوں گی۔
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ حکومت کی جانب سے سمندر میں نہانے کی پابندی کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد قانونی شکنی پر آمادہ دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے حادثات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
راست ہوگا کہ ڈوبنے کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدنظر حکومت فوری حرکت میں آئے اور ایسے تمام تفریحی مقامات پر نہ صرف حفاظتی انتظامات کیے جائیں بلکہ مناسب تعداد میں لائف گارڈز کا بھی بندوبست کیا جائے نیز عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر واقعات لاپرواہی اور غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں، اگر عوام خود حفاظتی کے تحت گہرے پانی میں جانے سے گریز کریں اور پانی میں جاتے ہوئے لائف جیکٹ کا استعمال کریں تو حادثات کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔ ڈوبنے کے واقعات میں کمی کے لیے عوام اور حکومت دونوں کو اپنی اپنی ذمے داریاں نبھانی ہوں گی۔