سستی بجلی کی بلاتعطل فراہمی ترقی کیلیے ضروری ہے سارک چیمبر

2020 تک طلب دگنی، سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، سیمینارسے وکرم، طارق سعیدودیگر کا خطاب۔

2020 تک طلب دگنی، سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، سیمینارسے وکرم، طارق سعیدودیگر کا خطاب۔ فوٹو: فائل

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے جنوبی ایشیا میں خطے کی پائیدار اقتصادی ترقی کیلیے توانائی کے شعبے میں پیداواری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سارک چیمبر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ مشاہدات ''جنوبی ایشیا میں تعاون برائے توانائی'' کے عنوان سے نئی دہلی بھارت میں منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے سارک چیمبر کے صدر وکرم جیت سنگھ نے کہا کہ ارزاں نرخوں پر بلاتعطل توانائی کی فراہمی پائیدار اقتصادی ترقی کے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کے شکار جنوبی ایشیا کو توانائی میں خود انحصار خطے میں بدلنے کیلیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔


اس موقع پر سارک چیمبر کے سابق صدر طارق سعید نے کہا کہ جنوبی ایشیا 1 لاکھ 50 ہزار میگاواٹ ہائیڈرو پاور، 5 لاکھ میگاواٹ سولر اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ یہ خطہ 50 ہزار میگاواٹ بجلی کے بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2020 تک خطے میں بجلی کی طلب میں دگنا اضافہ ہوجائے گا جس سے نمٹنے کیلیے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

بھارتی سیکریٹری وزارت توانائی برائے نئے و متبادل ذرائع گریش بی پرادھن نے زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں ترقی کیلیے تعاون کی ضرورت ہے۔ صدر بھارتی توانائی کمپنی پی ایس بامی نے واضح کیاکہ توانائی کے شعبے میں خاطر خواہ پیداواری صلاحیت کے باوجود بھارت میں 30 کروڑ لوگوں کو بجلی تک رسائی حاصل نہیں۔

اس موقع پر کاروباری طبقے سے تعلق رکھنے والے دوسرے رہنمائوں نے بھی لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلیے توانائی کی پیداواری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
Load Next Story