انرجی سیکیورٹی کیلیے مربوط پالیسی ضروری ہے ڈاکٹر شاہد ستار
پلاننگ کمیشن کے ممبرانرجی کا پائیڈ سینٹر فیلوزیاد اللہ داد کے تحقیقی مقالے کی رونمائی پر خطاب۔
پلاننگ کمیشن کے ممبرانرجی کا پائیڈ سینٹر فیلوزیاد اللہ داد کے تحقیقی مقالے کی رونمائی پر خطاب۔ فوٹو: فائل
منصوبہ بندی کمیشن کے ممبر انرجی ڈاکٹر شاہد ستار نے کہا ہے کہ انرجی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے توانائی کی مربوط پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات انہوں نے گزشتہ روزپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس(پائیڈ) کے زیر اہتمام عالمی بینک کے سابق ڈائریکٹر آپریشنز اور پائیڈ سینٹر فیلو زیاد اللہ داد کے شائع کردہ ریسرچ پیپر کی کی افتتاحی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ عالمی بینک کے سابق ڈائریکٹر کے ریسرچ پیپر''پاکستان انرجی سیکٹر، فرام کرائسز ٹو کرائسز بریکنگ دی چین'' میں پاکستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش مسائل اور ان کے خاتمے کیلیے تجاویز دی گئی ہیں۔
اس موقع پر زیاد اللہ داد نے کہا کہ معاشی ترقی کیلیے انرجی سیکیورٹی انتہائی ضروری ہے اور حالیہ ڈی ایٹ کانفرنس میں بھی توانائی کے شعبے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور انرجی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے اس کو بنیادی اہمیت دینے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر بحران کے بعد ایک موقع بھی دستیاب ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی کئی مواقع دستیاب ہیں، توانائی کے بحران کے خاتمے اور شعبے کی ترقی کیلیے انرجی پلاننگ اینڈ پالیسی فارمولیشن کی ضرورت ہے جس سے سسٹم کی بہتری اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
یہ بات انہوں نے گزشتہ روزپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس(پائیڈ) کے زیر اہتمام عالمی بینک کے سابق ڈائریکٹر آپریشنز اور پائیڈ سینٹر فیلو زیاد اللہ داد کے شائع کردہ ریسرچ پیپر کی کی افتتاحی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ عالمی بینک کے سابق ڈائریکٹر کے ریسرچ پیپر''پاکستان انرجی سیکٹر، فرام کرائسز ٹو کرائسز بریکنگ دی چین'' میں پاکستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش مسائل اور ان کے خاتمے کیلیے تجاویز دی گئی ہیں۔
اس موقع پر زیاد اللہ داد نے کہا کہ معاشی ترقی کیلیے انرجی سیکیورٹی انتہائی ضروری ہے اور حالیہ ڈی ایٹ کانفرنس میں بھی توانائی کے شعبے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور انرجی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے اس کو بنیادی اہمیت دینے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر بحران کے بعد ایک موقع بھی دستیاب ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی کئی مواقع دستیاب ہیں، توانائی کے بحران کے خاتمے اور شعبے کی ترقی کیلیے انرجی پلاننگ اینڈ پالیسی فارمولیشن کی ضرورت ہے جس سے سسٹم کی بہتری اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔