کسٹمز ویلیوایشن ڈائریکٹریٹ کم قدر تشخیص کے ساتھ آئی پی رائٹس کی خلاف ورزی کا انکشاف
کسٹم ایکٹ کی شق15 کے برخلاف کثیر قومی کمپنیوں کی اجازت والی برانڈڈ مصنوعات کی ویلیوایشن رولنگز دی جارہی ہیں۔
مشہور برانڈز کے کاسمیٹکس،شیمپو،آٹوپارٹس،گھڑیاں والیکٹرانکس آئٹمزکی رشوت لے کرکم ویلیوایسسمنٹ،ٹیکس چوری سے خزانے کوبھاری نقصان کا خدشہ۔ فوٹو: فائل
محکمہ کسٹمز کے ڈائریکٹریٹ ویلیوایشن میں کسٹم ایکٹ کی شق 15 کے تحت انٹیلیکچول پراپرٹی رائٹس کی خلاف ورزری اور ملک میں تیار ہونے والی برانڈڈ مصنوعات کی کم سے کم ویلیو ایسسمنٹ کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹریٹ کسٹمز ویلیوایشن کے حکام کی چند بااثر تاجروں کے ساتھ مبینہ طور پر طے شدہ ڈیل کے تحت ایسی برانڈڈ مصنوعات کی ویلیوایشن رولنگز جاری کی جارہی ہیں جن کی کسٹم ایکٹ کی شق 15 کے تحت مشروط انداز میں درآمدات کی اجازت ہے اور ایسی برانڈڈ فنشڈ مصنوعات کوصرف کثیرقومی کمپنیاں یا انکی اجازت سے ہی تجارتی پیمانے پر درآمد کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے مشہور برانڈز کے کاسمیٹکس، شیمپوز، جوتوں، گارمنٹس، کپڑے، آٹو پارٹس، چشمے، گھڑیاں، ویڈیوگیمز، ٹیلی وژن سیٹس، موبائل فون چارجرز سمیت دیگر الیکٹرانکس مصنوعات کی کلیئرنس تیز رفتار ہو گئی ہے جو مخصوص اسپیڈ منی کے عوض اور حقیقی ویلیو کے برعکس انتہائی کم ویلیوایشن رولنگ پر کی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں برانڈڈ مصنوعات کے مینوفیکچررز عدم تحفظ سے دوچار ہوگئے ہیں جبکہ حکومت کو کسٹم ریونیو کی مد میں بھاری خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ چین سمیت دیگرممالک سے درآمدہونے والے کراکری کنسائمنٹس کی کلیرنس کیلیے ایک مخصوص اجارہ دار مافیانے بھاری اسپیڈ منی کے عوض گلاس ویئراورپورسلین کی 20 فیصد کی کمی کے ساتھ نئی ویلیوایشن رولنگ جاری کرادی ہے، نئی ویلیوایشن رولنگ نمبر 495/2012 منگل 27 نومبر 2012 کو جاری کی گئی ہے، محکمہ کسٹمزکے ڈائریکٹریٹ ویلیوایشن کے حکام مخصوص مقاصد کے حصول کیلیے گزشتہ چندماہ سے کراکری، کاسمیٹکس، صابن سمیت دیگر اشیا کی کم ویلیو پر نئی ویلیوایشن رولنگ جاری کرنے میں مستعد ہوگیا ہے لیکن ڈائریکٹریٹ کسٹمز ویلیوایشن کے اس طرز عمل کے سبب قومی خزانے کوماہانہ کروڑوں روپے مالیت کے محصولات کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ 27نومبر2012کوجاری کی جانے والی گلاس ویئر اور پورسلین کی نئی ویلیویشن رولنگ ایک مخصوص مافیا نے اپنے مفادات کے حصول کیلیے کم کرائی تاکہ انہیں قانونی طریقے سے ڈیوٹی و ٹیکسوںکی چوری میں آسانی ہوسکے،شعبہ ویلیوایشن کی جانب سے جاری کی جانے والی رولنگ نمبر 495/2012کے مطابق گلاس ویئرکی نئی درآمدی ویلیو 0.82 ڈالرسے کم کرکے0.70ڈالرفی کلوگرام اورپورسلین کی نئی درآمدی ویلیو0.62ڈالر سے کم کرکے 0.52 ڈالر فی کلوگرام کی گئی ہے۔
جبکہ گلاس ویئر کے برتن کے مقابلے میں پورسلین سے تیارکردہ برتن زیادہ مہنگے ہوتے ہیں اورچین سے 90 فیصد اعلیٰ معیارکے پورسلین سے تیارکردہ برتن اور 10 فیصد گلاس ویئر سے تیار شدہ برتن درآمدکیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود پورسلین کی درآمدی ویلیو گلاس ویئرکی درآمدی ویلیوسے کم مقرر کی گئی ہے تاکہ ایک مخصوص مافیا زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گلاس ویئر اورپورسلین کی ویلیویشن رولنگ کے اجرا سے قبل کراکری کے 20 سے زائد کنسائمنٹس بندرگاہ پرموجودتھے جن کی کلیئرنس نئی ویلیو ایشن رولنگ کے اجرا پر کرائی جانی تھی جبکہ مذکورہ کراکری کے کنسائنمنٹس کلیئرنس نئی ویلیوایشن رولنگ پر کیے جانے پر قومی خزانے کو لاکھوں روپے مالیت کے محصولات کی کمی کا سامناکرناپڑے گا۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹریٹ کسٹمز ویلیوایشن کے حکام کی چند بااثر تاجروں کے ساتھ مبینہ طور پر طے شدہ ڈیل کے تحت ایسی برانڈڈ مصنوعات کی ویلیوایشن رولنگز جاری کی جارہی ہیں جن کی کسٹم ایکٹ کی شق 15 کے تحت مشروط انداز میں درآمدات کی اجازت ہے اور ایسی برانڈڈ فنشڈ مصنوعات کوصرف کثیرقومی کمپنیاں یا انکی اجازت سے ہی تجارتی پیمانے پر درآمد کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے مشہور برانڈز کے کاسمیٹکس، شیمپوز، جوتوں، گارمنٹس، کپڑے، آٹو پارٹس، چشمے، گھڑیاں، ویڈیوگیمز، ٹیلی وژن سیٹس، موبائل فون چارجرز سمیت دیگر الیکٹرانکس مصنوعات کی کلیئرنس تیز رفتار ہو گئی ہے جو مخصوص اسپیڈ منی کے عوض اور حقیقی ویلیو کے برعکس انتہائی کم ویلیوایشن رولنگ پر کی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں برانڈڈ مصنوعات کے مینوفیکچررز عدم تحفظ سے دوچار ہوگئے ہیں جبکہ حکومت کو کسٹم ریونیو کی مد میں بھاری خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ چین سمیت دیگرممالک سے درآمدہونے والے کراکری کنسائمنٹس کی کلیرنس کیلیے ایک مخصوص اجارہ دار مافیانے بھاری اسپیڈ منی کے عوض گلاس ویئراورپورسلین کی 20 فیصد کی کمی کے ساتھ نئی ویلیوایشن رولنگ جاری کرادی ہے، نئی ویلیوایشن رولنگ نمبر 495/2012 منگل 27 نومبر 2012 کو جاری کی گئی ہے، محکمہ کسٹمزکے ڈائریکٹریٹ ویلیوایشن کے حکام مخصوص مقاصد کے حصول کیلیے گزشتہ چندماہ سے کراکری، کاسمیٹکس، صابن سمیت دیگر اشیا کی کم ویلیو پر نئی ویلیوایشن رولنگ جاری کرنے میں مستعد ہوگیا ہے لیکن ڈائریکٹریٹ کسٹمز ویلیوایشن کے اس طرز عمل کے سبب قومی خزانے کوماہانہ کروڑوں روپے مالیت کے محصولات کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ 27نومبر2012کوجاری کی جانے والی گلاس ویئر اور پورسلین کی نئی ویلیویشن رولنگ ایک مخصوص مافیا نے اپنے مفادات کے حصول کیلیے کم کرائی تاکہ انہیں قانونی طریقے سے ڈیوٹی و ٹیکسوںکی چوری میں آسانی ہوسکے،شعبہ ویلیوایشن کی جانب سے جاری کی جانے والی رولنگ نمبر 495/2012کے مطابق گلاس ویئرکی نئی درآمدی ویلیو 0.82 ڈالرسے کم کرکے0.70ڈالرفی کلوگرام اورپورسلین کی نئی درآمدی ویلیو0.62ڈالر سے کم کرکے 0.52 ڈالر فی کلوگرام کی گئی ہے۔
جبکہ گلاس ویئر کے برتن کے مقابلے میں پورسلین سے تیارکردہ برتن زیادہ مہنگے ہوتے ہیں اورچین سے 90 فیصد اعلیٰ معیارکے پورسلین سے تیارکردہ برتن اور 10 فیصد گلاس ویئر سے تیار شدہ برتن درآمدکیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود پورسلین کی درآمدی ویلیو گلاس ویئرکی درآمدی ویلیوسے کم مقرر کی گئی ہے تاکہ ایک مخصوص مافیا زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گلاس ویئر اورپورسلین کی ویلیویشن رولنگ کے اجرا سے قبل کراکری کے 20 سے زائد کنسائمنٹس بندرگاہ پرموجودتھے جن کی کلیئرنس نئی ویلیو ایشن رولنگ کے اجرا پر کرائی جانی تھی جبکہ مذکورہ کراکری کے کنسائنمنٹس کلیئرنس نئی ویلیوایشن رولنگ پر کیے جانے پر قومی خزانے کو لاکھوں روپے مالیت کے محصولات کی کمی کا سامناکرناپڑے گا۔