چھوٹے تاجر تصادم کی راہ پر این ٹی این آویزاں نہ کرنے کا اعلان
ایف بی آر حکام مارکیٹس میں سروے ٹیمیں بھیجنے سے قبل ماضی کے نتائج مدنظر رکھیں۔
ٹیکس نظام میں اصلاحات کے بغیر حکمنامہ قبول نہیں، اعتماد میں لیاجائے،عتیق میر فوٹو: فائل
چھوٹے تاجروں نے مجوزہ اصلاحات کے بغیر اپنی دکانوں پر نیشنل ٹیکس نمبر آویزاں نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام متنبہ کیا ہے کہ وہ تجارتی مراکز اور مارکیٹس میں ٹیکس سروے ٹیموں کو بھیجنے سے قبل ماضی کے نتائج کو ضرور مدنظر رکھے۔
اس ضمن میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے ایف بی آر پر واضح کیا ہے کہ کراچی کے چھوٹے تاجرٹیکس نظام میں مجوزہ اصلاحات کے بغیر نیشنل ٹیکس نمبر دکانوں پر آویزاں کرنے کا کوئی بھی حکمنامہ قبول نہیں کرینگے، البتہ چھوٹے تاجروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے مشاورت کے ساتھ پالیسیاں وضع کی گئیں تووہ ضرورتعاون کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجرحکومت کے ہر قسم کی مراعات وترغیبات سے محروم رہنے کے باوجود بھاری شرح کے ساتھ ٹیکسوں ادائیگیاں کررہے ہیں، ٹیکس نیٹ میں نئے ٹیکس دہندگان کی محدود پیمانے میں شمولیت دراصل ایف بی آر اور پالیسی سازوں کی غلط حکمت عملیوں کا شاخسانہ ہے۔
عتیق میر نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے اس طرز کی پالیسیاں متعارف کرائی جارہی ہیں جس پرعمل درآمد کرتے ہوئے متعلقہ ٹیکس دہندہ رشوت اور غلط بیانی پرمجبورہوتا ہے اور انہی حقائق کے باعث انکم ٹیکس گوشواروں میں حقیقی معلومات وتفصیلات ظاہر کرنے کے تمام دروازے بندہوگئے ہیں، ایف بی آر بارہا دعوئوں کے باوجود متنازع شقیں ختم کر کے اردو زبان میں ایک صفحے پر مشتمل گوشوارہ جاری کرنے میں ناکام رہا ہے، ڈی فارم میں دریافت کیے گئے سوالات اشتعال انگیز اور غیرحقیقت پسندانہ ہیں، یوٹیلیٹی بلوں میں وصول کیا گیا ٹیکس گوشوارے میں منہا کرنے کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ طریقہ کار کی بحالی میں تاخیر ٹیکس نیٹ کی تباہی کا سبب بن رہی ہے، ٹیکس کلچر کے فروغ کیلیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایف بی آرمیں سرگرم آئی ایم ایف کے ایجنٹ ٹیکس دہندگان کو خوفزدہ کرکے ٹیکس کے رائج نظام کوتباہ کرنے کی سازش کررہے ہیں تاکہ پاکستان میں مزید بیرونی قرضوں کی راہ ہموار ہوسکے اور ملک پر مکمل طور پر سود خور مالیاتی اداروں کی اجارہ داری قائم ہوجائے۔
اس ضمن میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے ایف بی آر پر واضح کیا ہے کہ کراچی کے چھوٹے تاجرٹیکس نظام میں مجوزہ اصلاحات کے بغیر نیشنل ٹیکس نمبر دکانوں پر آویزاں کرنے کا کوئی بھی حکمنامہ قبول نہیں کرینگے، البتہ چھوٹے تاجروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے مشاورت کے ساتھ پالیسیاں وضع کی گئیں تووہ ضرورتعاون کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجرحکومت کے ہر قسم کی مراعات وترغیبات سے محروم رہنے کے باوجود بھاری شرح کے ساتھ ٹیکسوں ادائیگیاں کررہے ہیں، ٹیکس نیٹ میں نئے ٹیکس دہندگان کی محدود پیمانے میں شمولیت دراصل ایف بی آر اور پالیسی سازوں کی غلط حکمت عملیوں کا شاخسانہ ہے۔
عتیق میر نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے اس طرز کی پالیسیاں متعارف کرائی جارہی ہیں جس پرعمل درآمد کرتے ہوئے متعلقہ ٹیکس دہندہ رشوت اور غلط بیانی پرمجبورہوتا ہے اور انہی حقائق کے باعث انکم ٹیکس گوشواروں میں حقیقی معلومات وتفصیلات ظاہر کرنے کے تمام دروازے بندہوگئے ہیں، ایف بی آر بارہا دعوئوں کے باوجود متنازع شقیں ختم کر کے اردو زبان میں ایک صفحے پر مشتمل گوشوارہ جاری کرنے میں ناکام رہا ہے، ڈی فارم میں دریافت کیے گئے سوالات اشتعال انگیز اور غیرحقیقت پسندانہ ہیں، یوٹیلیٹی بلوں میں وصول کیا گیا ٹیکس گوشوارے میں منہا کرنے کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ طریقہ کار کی بحالی میں تاخیر ٹیکس نیٹ کی تباہی کا سبب بن رہی ہے، ٹیکس کلچر کے فروغ کیلیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایف بی آرمیں سرگرم آئی ایم ایف کے ایجنٹ ٹیکس دہندگان کو خوفزدہ کرکے ٹیکس کے رائج نظام کوتباہ کرنے کی سازش کررہے ہیں تاکہ پاکستان میں مزید بیرونی قرضوں کی راہ ہموار ہوسکے اور ملک پر مکمل طور پر سود خور مالیاتی اداروں کی اجارہ داری قائم ہوجائے۔