فرانس میں دہشت گردی کا واقعہ

فرانس میں دہشت گردی کےواقعات کااثرپورے یورپ میں پڑتا ہےاوروہاں تمام ممالک میں سیکیورٹی کے اقدامات سخت کر دیے جاتے ہیں

یورپی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرنا ہو گی، فوٹو

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں جمعرات کی شب فرانس کے قومی دن کے موقع پر جشن منانے والوں پر ایک شخص نے تیز رفتار ٹرک چڑھا دیا جس سے 84 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، مرنے والوں میں دس بچے، روسی، امریکی اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔ ٹرک ڈرائیور ہجوم کے اندر دو کلومیٹر تک لوگوں کو کچلتا ہوا چلا گیا۔ پولیس کے مطابق ٹرک ڈرائیور نے شہریوں پر فائرنگ بھی کی جب کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں وہ خود بھی مارا گیا' ٹرک سے بندوقیں اور دستی بم بھی برآمد ہوئے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق ٹرک ڈرائیور 31سالہ تیونسی نژاد فرانسیسی شہری تھا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ملک میں نافذ ایمرجنسی میں مزید تین ماہ کا اضافہ کر دیا اور تین روزہ قومی سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔ قومی دن کی تقریبات کے موقع پر شہریوں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی اور وہ آتش بازی کے مظاہرے سے محظوظ ہو رہے تھے کہ اچانک ایک تیز رفتار ٹرک نے ان پر چڑھائی کر دی۔ اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں اصل صورت حال تو تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو گی۔ فرانس میں دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔


تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت پوری دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں آ رہی ہے، فرانس جو کبھی بہت پرامن ملک تصور کیا جاتا تھا وہ بھی اب دہشت گردوں سے محفوظ نہیں رہا۔ فرانس میں دہشت گردی کے واقعات کا اثر پورے یورپ میں پڑتا ہے اور وہاں تمام ممالک میں سیکیورٹی کے اقدامات سخت کر دیے جاتے ہیں۔ فرانس میں مراکش، تیونس اور الجزائر کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ جس شخص نے یہ واردات کی ہے، وہ فرانسیسی شہری ہے اور اس کا نسلی تعلق تیونس سے ہے، اب یہ شخص کون ہے، اس کے مقاصد کیا تھے اور اس کا ماسٹر مائنڈ کون ہے، اس کے بارے میں تا حال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ٹرک ڈرائیور کو فرانسیسی پولیس نے موقع پر ہلاک کر دیا ہے، اس وقت مشرق وسطیٰ، افریقہ، وغیرہ کے ممالک بدترین اندرونی خلفشار اور دہشت گردی کا شکار ہیں، فرانس میں مقیم تارکین وطن کی بڑی تعداد امریکا کے ساتھ فرانس کو ان ممالک میں خلفشار پیدا کرنے کا ذمے دار سمجھتے ہیں۔ شام، عراق اور افغانستان کی صورت حال سب کے سامنے ہے جنھیں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے مل کر تباہی کا شکار کیا ہے۔

شاید انھی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں میں امریکا اور یورپی ممالک کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ داعش بڑی تیزی سے یورپ اور امریکا میں اپنے قدم جما رہی ہے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ دہشت گردی کے ذمے دار خود یہ یورپی ممالک بھی ہیں جو دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کی دولت مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے ہاں جمع کر رہے جس سے ان ممالک میں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جب تک دہشت گردی کے اسباب ختم نہیں ہوتے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ یورپی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرنا ہو گی۔
Load Next Story