فل کورٹ اجلاس کی اہم معروضات
دہشتگرد اوراغواکارعناصرریاستی رٹ اورقانون کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کے درپے ہیں اور یہ وائرس پاکستان تک محدود نہیں،
ضرورت اس امر کی ہے کہ ججز کے آیندہ کے لائحہ عمل سے قبل اویس شاہ کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے فوٹو: فائل
KARACHI:
سندھ ہائیکورٹ کے ججوں کے فل کورٹ اجلاس نے آیندہ کا لائحہ عمل بیرسٹر اویس علی شاہ کی بازیابی سے متعلق پیش رفت سے مشروط کر دیا ہے، ججوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ناکامی سے ججوں اور ان کے اہل خانہ میں تحفظ کا احساس ختم ہو رہا ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس واقعے سے ان پر ناخوشگوار واقعات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اس سے عوام میں بھی احساس عدم تحفظ پیدا ہو گا، یہ عدلیہ کی آزادی کے بھی خلاف ہے، ججوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے اس معاملے میں اپناکردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کے اغوا کے تناظر میں منعقد ہونے والے فل کورٹ اجلاس نے پیدا شدہ صورتحال پر جس تشویش کا اظہار کیا ہے اس کی ہولناکی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کیونکہ اغوا کی یہ واردات در حقیقت عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ دہشت گردوں نے 20 جون کو کراچی کے ایک مصروف اور معروف تجارتی مرکز سے اویس شاہ کو یوں اغوا کیا کہ کئی گھنٹوں تک اعلیٰ حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس میکنزم کو اس واردات کی خبر ہی نہ ہوئی اور انھیں مغوی کے اہل خانہ کی طرف سے اطلاع دی گئی مگر دہشت گرد اور اغوا کاروں کا منظم نیٹ ورک اتنا فعال، ناقابل شکست اور برق رفتار ثابت ہوا کہ اویس کو 24 دن گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔
لہٰذا اس اجتماعی ناکامی پر فل کورٹ اجلاس کا اضطراب اسی میکنزم پر عدم اعتماد کا مظہر ہے جسے دہشت گرد ہر واردات میں انتہائی سرعت، چابکدستی اور گھناؤنے عزائم کے ساتھ ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ جمعرات کی دوپہر ایک بجے ججز لائبریری میں سینئر جج احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے ججوںکا اجلاس ہوا جس میں کراچی میں موجود 20 سے زائد ججوں نے شرکت کی۔ ذرایع کے مطابق تقریباً تمام ججوں نے24 یوم گزر جانے کے باوجود چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے بیرسٹر اویس شاہ کی محفوظ بازیابی میں ناکامی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے تاہم ججز انصاف کی فراہمی کا عمل کسی بھی خوف اور دباؤکے بغیر جاری رکھیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشتگرد اور اغوا کار عناصر ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کے درپے ہیں، اور یہ وائرس پاکستان تک محدود نہیں، دہشتگردانہ کارروائی کا افق عالمگیریت کے طرز پر پھیل رہا ہے، پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر کے اغوا اور پراسرار بازیابی کے بعد اویس شاہ کا اتنے روز تک اغوا کاروں کی تحویل میں رہنا سلامتی کے امور پر مامور اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہی نہیں ایک اہم ترین چیلنج بھی ہے، ملک پہلے ہی لاپتہ اور اغوا ہونے والوں کے درد انگیز گرداب میں پھنسا ہوا ہے، کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں دہشتگردوں کے پھر سے اکٹھا ہونے کی اطلاعات ہیں، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا گیا ہے، 13 دہشتگرد تباہی مچانا چاہتے تھے، ایسا ہی کریک ڈاؤن آیندہ کی مجوزہ حکمت عملی کا سنگ بنیاد بننا چاہیے۔
کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگردوں اور اغوا کاروں کے خلاف جنگی جذبہ سے نمٹنا ہو گا، ارباب اختیار کو وطن عزیز کے 20 کروڑ نفوس کو تحفظ کا احساس دلانے کے لیے خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑیگا، پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے جب کہ دہشگردی سے نمٹنے کے لیے قوم اسی یقین دہانی کی منتظر ہے جس کی امید فاضل ججوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے وابستہ کی ہے۔ اویس شاہ کی فوری بازیابی اس سیاق و سباق میں اس لیے ناگزیر ہے کہ اس بریک تھرو سے دہشتگردوں کے عزائم خاک میں مل جائیں گے اور سیکیورٹی فورسز ان پر غلبہ پا لیں گی۔ کراچی سے ایک دوسرے صوبہ میں کسی ہائی پروفائل شخصیت کی جبری منتقلی ظالمانہ فعل ہے، جس کا سدباب آپریشن ضرب عضب کے جذبہ اور حکمت عملی سے کیا جانا چاہیے۔ ججز میں یہ اتفاق خوش آیند ہے کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا اور بازیابی میں ناکامی کے سلسلے میں وکلا نے سپریم کورٹ میںجو درخواستیںدائر کی ہیں ان کے نتیجے کا انتظارکرنا چاہیے اور توقع ظاہر کی کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اویس شاہ کی جلد اور محفوظ بازیابی یقینی بنائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ججوں نے اپنے اہل خانہ کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے ناکافی اقدامات اور رونما ہونے والے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کر کے حکمرانوں کو سوچنے کا موقع دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کے ججز کا یہ جرات مندانہ کردار لائق ستائش ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے بلا خوف و طمع عدلیہ کی آزادی اور عوام کو فراہمی انصاف کے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ججز کے آیندہ کے لائحہ عمل سے قبل اویس شاہ کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، جس کے لیے ناگزیر ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم کی پالیسی پر سختی سے اور بلا امتیاز عملدرآمد کیا جائے۔
سندھ ہائیکورٹ کے ججوں کے فل کورٹ اجلاس نے آیندہ کا لائحہ عمل بیرسٹر اویس علی شاہ کی بازیابی سے متعلق پیش رفت سے مشروط کر دیا ہے، ججوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ناکامی سے ججوں اور ان کے اہل خانہ میں تحفظ کا احساس ختم ہو رہا ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس واقعے سے ان پر ناخوشگوار واقعات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اس سے عوام میں بھی احساس عدم تحفظ پیدا ہو گا، یہ عدلیہ کی آزادی کے بھی خلاف ہے، ججوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے اس معاملے میں اپناکردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کے اغوا کے تناظر میں منعقد ہونے والے فل کورٹ اجلاس نے پیدا شدہ صورتحال پر جس تشویش کا اظہار کیا ہے اس کی ہولناکی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کیونکہ اغوا کی یہ واردات در حقیقت عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ دہشت گردوں نے 20 جون کو کراچی کے ایک مصروف اور معروف تجارتی مرکز سے اویس شاہ کو یوں اغوا کیا کہ کئی گھنٹوں تک اعلیٰ حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس میکنزم کو اس واردات کی خبر ہی نہ ہوئی اور انھیں مغوی کے اہل خانہ کی طرف سے اطلاع دی گئی مگر دہشت گرد اور اغوا کاروں کا منظم نیٹ ورک اتنا فعال، ناقابل شکست اور برق رفتار ثابت ہوا کہ اویس کو 24 دن گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔
لہٰذا اس اجتماعی ناکامی پر فل کورٹ اجلاس کا اضطراب اسی میکنزم پر عدم اعتماد کا مظہر ہے جسے دہشت گرد ہر واردات میں انتہائی سرعت، چابکدستی اور گھناؤنے عزائم کے ساتھ ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ جمعرات کی دوپہر ایک بجے ججز لائبریری میں سینئر جج احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے ججوںکا اجلاس ہوا جس میں کراچی میں موجود 20 سے زائد ججوں نے شرکت کی۔ ذرایع کے مطابق تقریباً تمام ججوں نے24 یوم گزر جانے کے باوجود چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے بیرسٹر اویس شاہ کی محفوظ بازیابی میں ناکامی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے تاہم ججز انصاف کی فراہمی کا عمل کسی بھی خوف اور دباؤکے بغیر جاری رکھیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشتگرد اور اغوا کار عناصر ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کے درپے ہیں، اور یہ وائرس پاکستان تک محدود نہیں، دہشتگردانہ کارروائی کا افق عالمگیریت کے طرز پر پھیل رہا ہے، پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر کے اغوا اور پراسرار بازیابی کے بعد اویس شاہ کا اتنے روز تک اغوا کاروں کی تحویل میں رہنا سلامتی کے امور پر مامور اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہی نہیں ایک اہم ترین چیلنج بھی ہے، ملک پہلے ہی لاپتہ اور اغوا ہونے والوں کے درد انگیز گرداب میں پھنسا ہوا ہے، کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں دہشتگردوں کے پھر سے اکٹھا ہونے کی اطلاعات ہیں، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا گیا ہے، 13 دہشتگرد تباہی مچانا چاہتے تھے، ایسا ہی کریک ڈاؤن آیندہ کی مجوزہ حکمت عملی کا سنگ بنیاد بننا چاہیے۔
کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگردوں اور اغوا کاروں کے خلاف جنگی جذبہ سے نمٹنا ہو گا، ارباب اختیار کو وطن عزیز کے 20 کروڑ نفوس کو تحفظ کا احساس دلانے کے لیے خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑیگا، پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے جب کہ دہشگردی سے نمٹنے کے لیے قوم اسی یقین دہانی کی منتظر ہے جس کی امید فاضل ججوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے وابستہ کی ہے۔ اویس شاہ کی فوری بازیابی اس سیاق و سباق میں اس لیے ناگزیر ہے کہ اس بریک تھرو سے دہشتگردوں کے عزائم خاک میں مل جائیں گے اور سیکیورٹی فورسز ان پر غلبہ پا لیں گی۔ کراچی سے ایک دوسرے صوبہ میں کسی ہائی پروفائل شخصیت کی جبری منتقلی ظالمانہ فعل ہے، جس کا سدباب آپریشن ضرب عضب کے جذبہ اور حکمت عملی سے کیا جانا چاہیے۔ ججز میں یہ اتفاق خوش آیند ہے کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا اور بازیابی میں ناکامی کے سلسلے میں وکلا نے سپریم کورٹ میںجو درخواستیںدائر کی ہیں ان کے نتیجے کا انتظارکرنا چاہیے اور توقع ظاہر کی کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اویس شاہ کی جلد اور محفوظ بازیابی یقینی بنائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ججوں نے اپنے اہل خانہ کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے ناکافی اقدامات اور رونما ہونے والے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کر کے حکمرانوں کو سوچنے کا موقع دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کے ججز کا یہ جرات مندانہ کردار لائق ستائش ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے بلا خوف و طمع عدلیہ کی آزادی اور عوام کو فراہمی انصاف کے مشن کو جاری رکھیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ججز کے آیندہ کے لائحہ عمل سے قبل اویس شاہ کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، جس کے لیے ناگزیر ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم کی پالیسی پر سختی سے اور بلا امتیاز عملدرآمد کیا جائے۔