کیا عامرکو انگلش کرائوڈ نے معاف کردیا
ایک اچھی بات یہ تھی کہ توقعات کے برعکس عامر کو کراؤڈ کے منفی رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ایک اچھی بات یہ تھی کہ توقعات کے برعکس عامر کو کراؤڈ کے منفی رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ فوٹو : فائل
''ارے خان صاحب اسٹیڈیم آ گئے''ایکدم سے میڈیا سینٹر میں جہاں پاکستانی صحافی بیٹھے تھے ہلچل سی مچ گئی،ملکی ٹی وی چینلز کے برطانیہ میں موجود نمائندے الرٹ نظر آئے، پتا چلا کہ عمران خان اپنے بیٹے کے ساتھ میچ دیکھنے آئے ہوئے ہیں، دنیا میں بڑے بڑے کرکٹرز گذرے مگر جتنی عزت عمران خان کو ملی اتنی کسی اور کے حصے میں شاید ہی آئی ہو، اب بطور سیاستدان ان کی مقبولیت مزید بڑھ چکی ہے،لارڈز میں بھی وہ توجہ کا مرکز بنے رہے۔
آج کا کھیل پاکستانی ٹیم کے ہی نام رہا،''ویل پلیڈ پاکستان، دے آر مچ بیٹردین سری لنکا''اسٹیڈیم میں جب ایک عمررسیدہ گورے کے منہ سے یہ الفاظ سنے تو بہت اچھا محسوس ہوا،دیار غیر میں کوئی آپ کے ملک کی تعریف کرے تو اس کی خوشی ہی الگ ہوتی ہے، اس کا موقع مصباح الحق اور یاسر شاہ نے فراہم کیا، دونوں نے لارڈز آنر بورڈ پر نام درج کرا لیا، قدیم روایت کے تحت تاریخی گراؤنڈ پر سنچری بنانے یا 5 وکٹیں لینے والے کھلاڑی کا نام مذکورہ بورڈ پر درج کیا جاتا ہے۔
2010میں لارڈز میں آسٹریلیا نے پاکستان کو150رنز سے ہرایا تھا،اسی سال ایم سی سی نے اوے ڈریسنگ روم کے باہر2نئے آنرز بورڈز نصب کرائے، مصباح سے قبل لارڈز میں سنچری بنانے پر پاکستانی جاوید برکی،نسیم الغنی، حنیف محمد، محسن خان، انضمام الحق اور محمد یوسف کا نام اس بورڈ پر درج تھا، محسن، انضمام، یوسف نے تو ڈبل سنچریوں کا اعزاز پایا تھا، بولرز میں یاسر سے پہلے خان محمد، مدثر نذر، وقار یونس اور مشتاق احمد کے ساتھ عامر کا نام بھی آنرز بورڈز پر درج ہو چکا، مگر 2010 کے اسی میچ میں وہ اسپاٹ فکسنگ کے مرتکب ہو کر ذلت کی گہرائی میں گر گئے تھے، اب انھیں اس کے ازالے کا اچھا موقع ملا ہے، حفیظ اور سرفراز احمد نے کیچز ڈراپ کر کے وکٹ کیلیے عامر کا انتظار بڑھایا مگر پھر انھوں نے کک کو بولڈ کر کے کامیابی حاصل کر ہی لی۔
آج مارکوس ٹریسکوتھک نے پانچ منٹ تک روایتی بیل بجا کردوسرے دن کا کھیل شروع ہونے کا اعلان کیا، یہ وہی ٹریسکوتھک ہیں جو ڈپریشن کا شکار ہو کر کافی عرصے کھیل سے دور رہے تھے، اب بھی وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہیں،پاکستان کیلیے آغاز اچھا نہ تھا، سرفراز نے غلط شاٹ پر وکٹ گنوائی تو لائن ہی لگ گئی ،400تو دور کی بات تھی350 رنز بھی مکمل نہ ہو سکے،مگر پھر بیٹنگ کی ناکامی کا بولرز نے ازالہ کر دیا خصوصاً یاسر شاہ کا کھیل بہترین رہا، وہ ڈوپنگ پر پابندی ختم ہونے کے بعد واپس آئے مگر کسی دباؤ کا شکار دکھائی نہ دیے۔
ایک اچھی بات یہ تھی کہ توقعات کے برعکس عامر کو کراؤڈ کے منفی رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑا،جب وہ بیٹنگ کیلیے آئے تو اسی وقت دو وکٹیں لینے والے ووئکس کا اوور ختم ہوا تھا لہٰذا شائقین کی تالیاں ان کیلیے بجیں، گو کہ براڈ نے باؤنسر سے اپنا غصہ ظاہر کیا مگر کراؤڈ کی جانب سے اب تک تو کوئی منفی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے، جب انھوں نے گیند سنبھالی تو یہی دعا کی کہ کہیں نو یا وائیڈ سے آغاز نہ کریں مگر شکر ہے کہ ایسا نہ ہوا، بیٹنگ اور بولنگ کے وقت سب نارمل رہا، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انگلش شائقین نے انھیں معاف کر دیا مگر اس کا اصل علم آئندہ چند دنوں میں ہی ہو گا، ویسے پیسر جتنا اچھا کھیل پیش کرتے رہیں گے لوگ اتنا ہی انھیں اپنائیں گے، وقت بڑے بڑے زخم بھر دیتا ہے۔
میڈیا سینٹر میں چیئرمین بورڈ شہریارخان بھی نظر آئے، وہ برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے، وہاں انھوں نے بعض صحافیوں سے بھی بات کی اورپاک بھارت کرکٹ کے احیا کا بھی عزم ظاہر کیا، ایسے میں میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف ایک طرف حکومت 19 جولائی کو یوم سیاہ منا رہی ہے دوسری جانب ہمارے بورڈ چیف کو بھارت سے کرکٹ کا غم ستائے جا رہا ہے۔
پہلے ہی بھارت ان کی اتنی بے عزتی کر چکا، ایئر پورٹ پر روکا پھر بی سی سی آئی آفیشلز نے بلا کر ملاقات نہیں کی مگر شہریارخان اب بھی سبق نہیں سیکھ رہے ہیں، بھارت سے تعلقات کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ بورڈ اور حکومت ایک پیج پر نہیں ہیں۔ پاکستانی صحافی آج بعض چینلز پر میڈیا منیجر کے لندن میں ایک واقعے کی خبروں پر باتیں کرتے رہے ،بعد میں علم ہوا کہ چیئرمین نے اس کی تردید کر دی ہے ، دنیا میں میڈیا منیجرز اپنے سربراہان کا دفاع کرتے ہیں یہاں معاملہ ہی الٹ ہے چیئرمین کو اپنے میڈیا منیجر کی صفائیاں دینا پڑ رہی ہیں۔
ارے ہاں کل کی ایک بات بتاتا تو بھول ہی گیا تھا،اسٹیڈیم سے جب ایک دوست کی گاڑی میں ریسٹورنٹ جا رہا تھا تو ریحام خان اپنے بیٹے کے ساتھ واپس جاتی دکھائی دیں، میں نے دل میں سوچاکہ جب تک وہ عمران خان کی اہلیہ تھیں ہر کوئی آگے پیچھے گھومتا تھا اب یہاں کوئی پروٹول نہیں ملتا، میرے دوست نے راستے میں مجھے بتایاکہ ''یہ عمارت آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں وزیر اعظم نواز شریف رہتے ہیں۔
اسی علاقے میں فلاں فلاں سیاستدانوں کے بھی گھر ہیں، کبھی شام کو آئیں تو راہ چلتے کئی مل بھی جائیں گے، پاکستانی عوام کا پیسہ انہی ممالک میں انویسٹ ہوتا ہے، میں اس کے لہجے میں چھپا طنز سمجھ گیا، جب ہم کھانے کیلیے بیٹھ گئے تو دھڑام کی آواز سے مجھ سمیت ریسٹورنٹ میں موجود لوگ چونک گئے، ہم نے دیکھا کہ ایک گوری خاتون کا ہاتھ تھامے ایک صاحب لڑکھڑاتے ہوئے اندر داخل ہوئے، صاف ظاہر تھا کہ وہ نشے میں تھے،وہ ہمارے برابر کی ہی ٹیبل پر جا بیٹھے، پھر ان کا کوئی فون آیا تو بات چیت سے اندازہ ہو گیا کہ تعلق پاکستان سے ہے مگر میں نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی اس وقت روکی جب انھوں نے ویٹر کو بلا کر پوچھا '' کھانا تو حلال ہے ناں''۔
آج کا کھیل پاکستانی ٹیم کے ہی نام رہا،''ویل پلیڈ پاکستان، دے آر مچ بیٹردین سری لنکا''اسٹیڈیم میں جب ایک عمررسیدہ گورے کے منہ سے یہ الفاظ سنے تو بہت اچھا محسوس ہوا،دیار غیر میں کوئی آپ کے ملک کی تعریف کرے تو اس کی خوشی ہی الگ ہوتی ہے، اس کا موقع مصباح الحق اور یاسر شاہ نے فراہم کیا، دونوں نے لارڈز آنر بورڈ پر نام درج کرا لیا، قدیم روایت کے تحت تاریخی گراؤنڈ پر سنچری بنانے یا 5 وکٹیں لینے والے کھلاڑی کا نام مذکورہ بورڈ پر درج کیا جاتا ہے۔
2010میں لارڈز میں آسٹریلیا نے پاکستان کو150رنز سے ہرایا تھا،اسی سال ایم سی سی نے اوے ڈریسنگ روم کے باہر2نئے آنرز بورڈز نصب کرائے، مصباح سے قبل لارڈز میں سنچری بنانے پر پاکستانی جاوید برکی،نسیم الغنی، حنیف محمد، محسن خان، انضمام الحق اور محمد یوسف کا نام اس بورڈ پر درج تھا، محسن، انضمام، یوسف نے تو ڈبل سنچریوں کا اعزاز پایا تھا، بولرز میں یاسر سے پہلے خان محمد، مدثر نذر، وقار یونس اور مشتاق احمد کے ساتھ عامر کا نام بھی آنرز بورڈز پر درج ہو چکا، مگر 2010 کے اسی میچ میں وہ اسپاٹ فکسنگ کے مرتکب ہو کر ذلت کی گہرائی میں گر گئے تھے، اب انھیں اس کے ازالے کا اچھا موقع ملا ہے، حفیظ اور سرفراز احمد نے کیچز ڈراپ کر کے وکٹ کیلیے عامر کا انتظار بڑھایا مگر پھر انھوں نے کک کو بولڈ کر کے کامیابی حاصل کر ہی لی۔
آج مارکوس ٹریسکوتھک نے پانچ منٹ تک روایتی بیل بجا کردوسرے دن کا کھیل شروع ہونے کا اعلان کیا، یہ وہی ٹریسکوتھک ہیں جو ڈپریشن کا شکار ہو کر کافی عرصے کھیل سے دور رہے تھے، اب بھی وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہیں،پاکستان کیلیے آغاز اچھا نہ تھا، سرفراز نے غلط شاٹ پر وکٹ گنوائی تو لائن ہی لگ گئی ،400تو دور کی بات تھی350 رنز بھی مکمل نہ ہو سکے،مگر پھر بیٹنگ کی ناکامی کا بولرز نے ازالہ کر دیا خصوصاً یاسر شاہ کا کھیل بہترین رہا، وہ ڈوپنگ پر پابندی ختم ہونے کے بعد واپس آئے مگر کسی دباؤ کا شکار دکھائی نہ دیے۔
ایک اچھی بات یہ تھی کہ توقعات کے برعکس عامر کو کراؤڈ کے منفی رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑا،جب وہ بیٹنگ کیلیے آئے تو اسی وقت دو وکٹیں لینے والے ووئکس کا اوور ختم ہوا تھا لہٰذا شائقین کی تالیاں ان کیلیے بجیں، گو کہ براڈ نے باؤنسر سے اپنا غصہ ظاہر کیا مگر کراؤڈ کی جانب سے اب تک تو کوئی منفی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے، جب انھوں نے گیند سنبھالی تو یہی دعا کی کہ کہیں نو یا وائیڈ سے آغاز نہ کریں مگر شکر ہے کہ ایسا نہ ہوا، بیٹنگ اور بولنگ کے وقت سب نارمل رہا، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انگلش شائقین نے انھیں معاف کر دیا مگر اس کا اصل علم آئندہ چند دنوں میں ہی ہو گا، ویسے پیسر جتنا اچھا کھیل پیش کرتے رہیں گے لوگ اتنا ہی انھیں اپنائیں گے، وقت بڑے بڑے زخم بھر دیتا ہے۔
میڈیا سینٹر میں چیئرمین بورڈ شہریارخان بھی نظر آئے، وہ برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے، وہاں انھوں نے بعض صحافیوں سے بھی بات کی اورپاک بھارت کرکٹ کے احیا کا بھی عزم ظاہر کیا، ایسے میں میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف ایک طرف حکومت 19 جولائی کو یوم سیاہ منا رہی ہے دوسری جانب ہمارے بورڈ چیف کو بھارت سے کرکٹ کا غم ستائے جا رہا ہے۔
پہلے ہی بھارت ان کی اتنی بے عزتی کر چکا، ایئر پورٹ پر روکا پھر بی سی سی آئی آفیشلز نے بلا کر ملاقات نہیں کی مگر شہریارخان اب بھی سبق نہیں سیکھ رہے ہیں، بھارت سے تعلقات کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ بورڈ اور حکومت ایک پیج پر نہیں ہیں۔ پاکستانی صحافی آج بعض چینلز پر میڈیا منیجر کے لندن میں ایک واقعے کی خبروں پر باتیں کرتے رہے ،بعد میں علم ہوا کہ چیئرمین نے اس کی تردید کر دی ہے ، دنیا میں میڈیا منیجرز اپنے سربراہان کا دفاع کرتے ہیں یہاں معاملہ ہی الٹ ہے چیئرمین کو اپنے میڈیا منیجر کی صفائیاں دینا پڑ رہی ہیں۔
ارے ہاں کل کی ایک بات بتاتا تو بھول ہی گیا تھا،اسٹیڈیم سے جب ایک دوست کی گاڑی میں ریسٹورنٹ جا رہا تھا تو ریحام خان اپنے بیٹے کے ساتھ واپس جاتی دکھائی دیں، میں نے دل میں سوچاکہ جب تک وہ عمران خان کی اہلیہ تھیں ہر کوئی آگے پیچھے گھومتا تھا اب یہاں کوئی پروٹول نہیں ملتا، میرے دوست نے راستے میں مجھے بتایاکہ ''یہ عمارت آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں وزیر اعظم نواز شریف رہتے ہیں۔
اسی علاقے میں فلاں فلاں سیاستدانوں کے بھی گھر ہیں، کبھی شام کو آئیں تو راہ چلتے کئی مل بھی جائیں گے، پاکستانی عوام کا پیسہ انہی ممالک میں انویسٹ ہوتا ہے، میں اس کے لہجے میں چھپا طنز سمجھ گیا، جب ہم کھانے کیلیے بیٹھ گئے تو دھڑام کی آواز سے مجھ سمیت ریسٹورنٹ میں موجود لوگ چونک گئے، ہم نے دیکھا کہ ایک گوری خاتون کا ہاتھ تھامے ایک صاحب لڑکھڑاتے ہوئے اندر داخل ہوئے، صاف ظاہر تھا کہ وہ نشے میں تھے،وہ ہمارے برابر کی ہی ٹیبل پر جا بیٹھے، پھر ان کا کوئی فون آیا تو بات چیت سے اندازہ ہو گیا کہ تعلق پاکستان سے ہے مگر میں نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی اس وقت روکی جب انھوں نے ویٹر کو بلا کر پوچھا '' کھانا تو حلال ہے ناں''۔