منگھوپیر میں کچرے کے ڈھیر نکاسی آب کا نظام تباہ

عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں، عبدالغنی،ساجد رند، جمیل دین،کریم بلوچ.

چھوٹے سے تالاب میں مگر مچھوں کی کثیر تعداد موجود ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

شہرقائد کے مغربی علاقے ضلع ویسٹ کے گڈاپ ٹائون کی یونین کونسل 8 منگھوپیر کہلاتا ہے، پہاڑوں اور کھجوروں کے باغات میں گھرے منگھوپیر کی آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔


منگھوپیر 32 گوٹھوں پر مشتمل ہے ،منگھوپیر میں 21 سے زائد قبائل آباد ہیں ،سخی سلطان بابا کے مزار پر واقع مگرمچھوں کے تالاب میں تقریباً 200 کے قریب مگرمچھ ہیں ،ملک بھر سے لوگ ان مگرمچھوں کو دیکھنے کیلیے منگھوپیر آتے ہیں، مگرمچھ منگھوپیر بابا کی نشانی کہلاتے ہیں ،لینڈ مافیا کی وجہ سے تالاب کو کشادہ کرنا ممکن نہیں رہا ، اس تالاب کی یہ خصوصیت ہے کہ مزار کے اطراف گرم اور ٹھنڈے پانی کے بہنے والے چشموں کا پانی رس کر تالاب میں داخل ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ تالاب کبھی خشک نہیں ہوتا ہے حکومت نے مگرمچھوں کی دیکھ بھال اور ان کے کھانے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا ہے ،32گوٹھوں پر مشتمل منگھوپیر میں سیوریج سسٹم تباہ ہوکر رہ گیا ہے،علاقہ مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔

بھینسوں کے باڑوں سے تعفن پھیلا رہتا ہے صفائی انتظام نہیں ہے ،جگہ جگہ کچرے اور گند کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں،بیشتر گوٹھ بجلی سے محروم ہیں، اسٹریٹ لائٹ کا بندوبست نہیں ہے ،سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، سرکاری اسپتال غیرفعال ہے ،رورل ہیلتھ سینٹر میں غیرمعیاری ادویات فراہم کی جاتی ہیں ، منگھوپیر سخی سلطان میموریل سوشل ویلفیئر کے صدر عبدالغنی دیگر رہنمائوں ساجد رند، جمیل دین بلوچ، کریم بلوچ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ منگھوپیر کے تاریخی ورثے کو لینڈ مافیا سے بچایا جائے اور فٹبال گرائونڈ، قدیم قبرستان، کھجوروں کے باغات سے لینڈ مافیا کا قبضہ ختم کرایا جائے اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
Load Next Story