ریو اولمپکس گیمز کی تیاریاں عروج پر

پاکستانی شائقین کو احساس محرومی ستانے لگا

پاکستانی شائقین کو احساس محرومی ستانے لگا۔ فوٹو: فائل

اولمپکس گیمز میں ملک کی نمائندگی کا خواب ہر کھلاڑی دیکھتا لیکن مواقع چند خوش قسمت ہی پاتے ہیں، ہر 4سال بعد سجائے جانے والے اس عالمی میلے میں میڈلز حاصل کرنے والوں کی دنیا بھر میں قدردانی ہوتی ہے،اس بار 5 سے 23اگست تک شیڈول میگا ایونٹ کی میزبانی کا اعزاز برازیل کو حاصل ہورہا ہے۔

ریو ڈی جنیرو میں 33 ساؤ پاؤلو، بیلو، ہوریزونٹے، براسیلیا اور مینس میں 5وینیوز پر شائقین کی توجہ کا مرکز بنے رہیں گے، مجموعی طور پر 206 ملکوں کے 10500سے زائد اتھلیٹ 306گولڈ میڈلز کے لیے جنگ لڑیں گے۔ گزشتہ مقابلوں کی طرح اس باربھی کئی نامی گرامی پلیئرز اپنی ماضی کی کارکردگی دہرانے میں کامیاب ہوں گے، کئی اعزاز گنواکر کیریئر داؤ پر لگائیں جبکہ کئی کھیلوں کی دنیا کو نئے ہیروز کے طور پراپنی شناخت بنائیں گے۔

اولمپکس گیمز کی میزبانی حاصل کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، اس مقصد کے لیے دنیا کے مختلف شہروں کی اولمپک آرگنائزنگ کمیٹیوں کی درخواستیں آئی او سی نے باقاعدہ نامزد کی تھیں، ان میں شکاگو (امریکا)، میڈرڈ (سپین)، ریو ڈی جنیرو (برازیل) ٹوکیو (جاپان)، باکو(آذربائیجان)، دوحہ(قطر) اور پراگ (جمہوریہ چیک) شامل تھے، کمیٹی کے ایگزیکٹو بورڈ نے اگلے مرحلے کے لیے شکاگو، میڈرڈ، ٹوکیو اور ریوڈی جنیزو شہروں کا انتخاب کیا۔

میزبانی حاصل کرنے کے لیے کا آخری مرحلہ 3راؤنڈز پر مشتمل تھا، پہلے میں ریو 26، میڈرڈ 28، ٹوکیو 22 اور شکاگو 18 ووٹ حاصل کرسکا، دوسرے میں ریو دوبارہ سرفہرست رہا،تیسرے میں واضح اکثریت 66 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی، میڈرڈ کے حق میں 32 ووٹ آئے، ڈنمارک کے صدر مقام کوپن ہیگن میں 2 اکتوبر 2009ء کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے سابقہ صدر یاک روگے نے اولمپکس کے میزبان کا اعلان کیا تو برازیل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،جدید اولمپکس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ یورپ، شمالی امریکہ، ایشیا اور آسٹریلیا کے بعد جنوبی امریکہ میں کھیلوں کا عظیم میلہ سجایا جائے گا۔

میگا ایونٹ کا انعقاد برازیلی معیشت، سیاحت اور کھیلوں کے مستقبل پر بڑے مثبت اثرات مرتب کرے گا، میزبانی کا فیصلہ ہوتے ہی بھرپور تیاریوں کا آغاز کردیا گیا تھا، تاہم تنازعات اور مسائل بھی ساتھ ساتھ چلتے رہے،برازیل میں کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کی بازگشت سنائی دیتی رہی، وینیوز کی تعمیر اور تزئین آرائش میں سست روی کی اطلاعات نے بھی سامنے آئیں، ساحلوں اور شہروں میں آلودگی کے مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی،زیکا وائرس نے تو اس قدر دہشت پھیلائی کہ کئی ملکوں کے اتھلیٹس ابھی تک دستبرداری کا اعلان کررہے ہیں،تمام مسائل کو جھٹک کر ریو ڈی جنیرو بالآخر میگا ایونٹ کے انعقاد کے لیے تیار ہوچکا اور دنیا بھر کے سفر پر نکلنے والی اولمپکس مشعل واپسی کے بعد میزبان ملک میں اتھلیٹس اور شائقین کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے،اس کی ریو آمد کے ساتھ ہی مقابلوں کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا،


یونان کے شہر اولمپیا میں21اپریل کو سورج کی کرنوں سے روشن کی جانے والی مشعل کا عالمی سفر 21اپریل کو شروع ہوا تھا،کلاڈینو ریو اولمپک مشعل اٹھانے والی پہلی ایتھلیٹ بنیں، قدیم اور جدید روایات کے دلکش امتزاج سے سجائی جانے والی ایک پروقار روایتی تقریب میں کے بعد ایک ہفتے یونان میں رہی، ایتھنز کے بعد سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا کا رخ کیا، اپنی بناوٹ کے اعتبار سے برازیلی عوام کی گرمجوشی اور یہاں پھیلے لاتعداد رنگوں اور روشنیوں کی بھر پور عکاسی کرنے والی مشعل کا میزبان ملک میں سفر بھی یادگار ہے، برازیل کی 26 ریاستوں کے 329 شہروں اور دیہاتوں سے گزرتے ہوئے اس کا 20ہزار کلو میٹر فاصلہ دوڑ اور 16 ہزار ہوائی جہاز کے ذریعے مکمل ہوگا،میزبان ملک کی 90 فیصد آبادی کو اسے اپنے درمیان دیکھنے کا موقع ملے گا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ریو میں دنیا کے کئی چھوٹے ملکوں کے سینکڑوں ایتھلیٹ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے میڈلز بھی جیتیں گے جبکہ پاکستان کی تاریخ کا مختصرترین 18رکنی دستہ شریک ہورہا ہے جس میں صرف 7کھلاڑی شامل ہیں،یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کو کوالیفکیشن کے ذریعے انٹری نہیں ملی، گنے چنے پلیئرز بھی وائلڈ کارڈز اور کوٹہ سسٹم کے تحت ریو کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ شاہ حسین شاہ جوڈو، مناہل سہیل اور غلام مصطفیٰ بشیر شوٹنگ، لیانا سوان اور حارث بانڈے سوئمنگ، نجمہ پروین اور محبوب علی اتھلیٹکس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

ماضی میں ملک کے لیے میڈل کی امید سمجھی جانے والی ہاکی ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس کے لیے کوالیفائی ہی نہ کرسکی، گرین شرٹس کی کارکردگی ایک عرصہ سے مسلسل زوال پذیر ہے، گزشتہ برس کوالیفائنگ راؤنڈ میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،20کروڑ عوام پر مشتمل پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی شائقین کے احساس محرومی میں اضافے کا باعث ہے، کھیل کبھی بھی حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں رہے،فنڈز اور انفراسٹرکچر کی کمی آڑے آتی ہے، اگر وسائل میسر آبھی جائیں تو سپورٹس فیڈریشنز عہدیداروں کے باہمی جھگڑے ختم نہیں ہوتے، زیادہ تر تنظیموں میں اختیارات کی جنگ رکنے کا نام نہیں لیتی۔

ایک دھڑا خود کو کسی کھیل کے لیے بقا کی ضمانت سمجھتا ہے تو دوسرے کبھی ختم نہ ہونے والے اختلافات کے باعث متوازی فیڈریشن قائم کرلیتے ہیں،گراس روٹ سطح سے اوپر تک کھیلوں کے فروغ کی جدوجہد نہیں بلکہ تنظیموں پر قبضے کی جنگ نظر آتی ہے، پیشہ ورانہ سوچ کا فقدان ہونے کی وجہ سے حکومتی اور نجی ادارے اپنی ٹیمیں ختم کرتے جارہے ہیں،سپانسر شپ صرف کرکٹ کو ملتی ہے، بہتری کے آثار نظر نہ آنے کی وجہ سے دیگر کھیلوں کو کوئی پوچھتا تک نہیں،بھارت نے کرکٹ کے فروغ کے لیے بڑی منظم مہم شروع کرکے کامیابی بھی حاصل کی۔

آئی پی ایل میں کاروباری شخصیات اور اداکاروں نے خطیر رقم خرچ کی، انہوں نے مال کمانے کے ساتھ کھیل کو عروج کی جانب گامزن کرنے میں بھی کردار ادا کیا،سرمایہ کاروں نے اب دیگر کھیلوں کو بھی توجہ دینا شروع کردی ہے،ہاکی، فٹبال اور کبڈی کی لیگز سے نیا ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے، پاکستان میں بھی کھیلوں کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار نہ کیا گیا توبرائے نام کھلاڑی دیکھنے کو بھی نظریں ترس جائیں گی۔

 
Load Next Story