صدر نے اتحادیوں کو منانے اور انتخابی حکمت عملی کیلئے کمیٹیاں بنا دیں
تمام جماعتوں سے مذاکرات جاری رکھیں گے،کراچی میں امن کے لیے ٹارگٹڈآپریشن مزیدتیزکیاجائے،صدرزرداری
پی پی سندھ کی کورکمیٹی کااجلاس،ناراض اتحادیوں کے تحفظات دورکرنیکافیصلہ،سیلاب وبارش متاثرین کیلیے5ارب کے پیکیج کی منظوری فوٹو فائل
صدرآصف علی زرداری نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی انتقامی پالیسی پریقین نہیں رکھتی، ملک کو درپیش چیلنجزاورمسائل سے نمٹنے کیلیے تمام جماعتوں سے مذاکرات جاری رکھیں گے۔
آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر شفاف طریقے سے ہونگے،پیپلزپارٹی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کران انتخابات میں حصہ لے گی،کراچی میں قیام امن ہماری اولین ترجیح ہے،وزیراعلیٰ سندھ فوری طورپرکراچی میں مستقل بنیادوں پرامن کیلیے سیاسی قوتوں سے مشاورت کا سلسلہ تیز کریں، صوبائی حکومت کوجن وسائل کی ضرورت ہوگی وفاقی حکومت مہیاکرے گی،ٹارگٹ کلرز،بھتہ خوروں اوردیگرجرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری ٹارگٹڈآپریشن مزیدتیزکیاجائے اورانٹیلی جنس شیئرنگ کانظام مزیدبہترکیاجائے۔یہ بات انھوں نے صدارتی کیمپ آفس(بلاول ہاؤس)میں پیپلزپارٹی سندھ کی کورکمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔صدر آصف زرداری نے ناراض اتحادی جماعتوںکومنانے اوران کے تحفظات دورکرنے کیلیے سابق وزیراعظم اورپیپلزپارٹی کے وائس چیئرمین یوسف رضاگیلانی کی سربراہی میں7رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے اوراس کمیٹی کوہدایت کی ہے۔
وہ ان جماعتوں سے رابطے کرکے رپورٹ 15دن میں پیش کریں، صدر نے سندھ میں آئندہ انتخابات کی تیاری کے لیے پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کوہدایات جاری کرتے ہوئے صوبے بھرمیں پارٹی کوفعال کرنے اور آئندہ انتخابات کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی سربراہی میں بھی 3رکنی کمیٹی قائم کی ہے اس کے علاوہ سندھ کے سیلاب اور بارش سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 5ارب روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری دیدی۔صدرآصف علی زرداری کی زیرصدارت اجلاس میں قائم علیشاہ،پیرمظہر،آغا سراج درانی،منظوروسان ،ایازسومروسمیت پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیاسی صورتحال،کراچی سمیت صوبے بھرمیں امن وامان کی صورتحال ، سندھ میں پیپلزپارٹی کی تنظیم نواورآئندہ انتخابات کے لیے حکمت عملی، 30 نومبر کو پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ تقریبات ،اتحادی جماعتوں سے تعلقات ،30نومبر کو قوم پرستوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج ،ترقیاتی منصوبوں ،سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 کے حوالے سے اتحادی جماعتوں کے تحفظات سمیت اہم امورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔صدرزرداری نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اورشہیدبے نظیر بھٹو نے بھی ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اوراستحکام کے لیے اپنی جان کانذرانہ پیش کیا،آج شہیدبے نظیربھٹوکی مفاہمتی پالیسی کے سبب ملک میں جمہوریت مضبوط سے مضبوط ترہورہی ہے۔
شہیدبینظیر بھٹو نے ہمیشہ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی مفاہمت کی اوراسی مفاہمتی پالیسی کے وژن کے مطابق حکومت تمام سیاسی قوتوں سے رابطے میں ہے،حکومت اپنی مدت مکمل کررہی ہے اور موجودہ حکومت کی اولین ترجیح یہ رہی ہے کہ ملک میں امن و امان قائم ہواور معیشت کواستحکام حاصل ہو،دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے حکومت سمیت تمام سیاسی قوتوں کو اپنا کردار بھرپور اندازمیں ادا کرنا ہوگا،موجودہ حکومت عوامی تکالیف سے آگاہ ہے اورغربت ،مہنگائی ،بیروزگاری کے خاتمے اورتوانائی بحران کو ختم کرنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل المدت پالیسیوں کے تحت اقدامات کررہی ہے،احتجاج کرنا تمام جماعتوں کاحق ہے لیکن احتجاج کے دوران عوام کے وسیع ترمفاداوران کی تکالیف کابھی خیال رکھاجائے، جمہوری دور میں مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔
صدر نے ناراض اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل،عوامی نیشنل پارٹی اورنیشنل پیپلز پارٹی سمیت دیگر اتحادیوں سے رابطے کے لیے سابق وزیر اعظم اورپارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں 7رکنی کمیٹی قائم کردی۔ اس کمیٹی میں سیدخورشید شاہ،سیدنوید قمر ،قائم علی شاہ،پیر مظہر الحق،آغا سراج درانی اور منظور وسان شامل ہیں۔ یہ کمیٹی ان ناراض اتحادی جماعتوں سے رابطے کرکے اپنی رپورٹ 15دن میںصدر زرداری کو پیش کرے گی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہاکہ ہم تمام ناراض اتحادی جماعتوں کومذاکرات کی دعوت دیتے ہیں،دوستوں کے جو تحفظات ہیں حکومت انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کرے گی۔
نگراں حکومت غیرجانبدار ہوگی اورآئین کے مطابق نگراں حکومت تشکیل دی جائے گی، ہڑتال مسائل کا حل نہیں اگرنوازشریف کو سندھ کے لوگوں سے اتنی ہی محبت ہے تووہ 30نومبر کو پنجاب میں ہڑتال کی کال دیں،محرم میں سیکورٹی وجوہات کی بناپرموبائل سروس بندکی گئی اورڈبل سواری پر پابندی عائد کی اس کی وجہ سے عوام کوجو تکلیف پہنچی ہے اس کاحکومت کواحساس ہے۔ دریں اثنا صدر زرداری سے بدھ کوپیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے ملاقات کی ۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں اہم قانونی اور سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔، صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے بھی ملاقات کی، اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بھی موجود تھے۔
آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر شفاف طریقے سے ہونگے،پیپلزپارٹی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کران انتخابات میں حصہ لے گی،کراچی میں قیام امن ہماری اولین ترجیح ہے،وزیراعلیٰ سندھ فوری طورپرکراچی میں مستقل بنیادوں پرامن کیلیے سیاسی قوتوں سے مشاورت کا سلسلہ تیز کریں، صوبائی حکومت کوجن وسائل کی ضرورت ہوگی وفاقی حکومت مہیاکرے گی،ٹارگٹ کلرز،بھتہ خوروں اوردیگرجرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری ٹارگٹڈآپریشن مزیدتیزکیاجائے اورانٹیلی جنس شیئرنگ کانظام مزیدبہترکیاجائے۔یہ بات انھوں نے صدارتی کیمپ آفس(بلاول ہاؤس)میں پیپلزپارٹی سندھ کی کورکمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔صدر آصف زرداری نے ناراض اتحادی جماعتوںکومنانے اوران کے تحفظات دورکرنے کیلیے سابق وزیراعظم اورپیپلزپارٹی کے وائس چیئرمین یوسف رضاگیلانی کی سربراہی میں7رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے اوراس کمیٹی کوہدایت کی ہے۔
وہ ان جماعتوں سے رابطے کرکے رپورٹ 15دن میں پیش کریں، صدر نے سندھ میں آئندہ انتخابات کی تیاری کے لیے پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کوہدایات جاری کرتے ہوئے صوبے بھرمیں پارٹی کوفعال کرنے اور آئندہ انتخابات کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی سربراہی میں بھی 3رکنی کمیٹی قائم کی ہے اس کے علاوہ سندھ کے سیلاب اور بارش سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 5ارب روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری دیدی۔صدرآصف علی زرداری کی زیرصدارت اجلاس میں قائم علیشاہ،پیرمظہر،آغا سراج درانی،منظوروسان ،ایازسومروسمیت پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیاسی صورتحال،کراچی سمیت صوبے بھرمیں امن وامان کی صورتحال ، سندھ میں پیپلزپارٹی کی تنظیم نواورآئندہ انتخابات کے لیے حکمت عملی، 30 نومبر کو پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ تقریبات ،اتحادی جماعتوں سے تعلقات ،30نومبر کو قوم پرستوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج ،ترقیاتی منصوبوں ،سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 کے حوالے سے اتحادی جماعتوں کے تحفظات سمیت اہم امورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔صدرزرداری نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اورشہیدبے نظیر بھٹو نے بھی ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اوراستحکام کے لیے اپنی جان کانذرانہ پیش کیا،آج شہیدبے نظیربھٹوکی مفاہمتی پالیسی کے سبب ملک میں جمہوریت مضبوط سے مضبوط ترہورہی ہے۔
شہیدبینظیر بھٹو نے ہمیشہ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی مفاہمت کی اوراسی مفاہمتی پالیسی کے وژن کے مطابق حکومت تمام سیاسی قوتوں سے رابطے میں ہے،حکومت اپنی مدت مکمل کررہی ہے اور موجودہ حکومت کی اولین ترجیح یہ رہی ہے کہ ملک میں امن و امان قائم ہواور معیشت کواستحکام حاصل ہو،دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے حکومت سمیت تمام سیاسی قوتوں کو اپنا کردار بھرپور اندازمیں ادا کرنا ہوگا،موجودہ حکومت عوامی تکالیف سے آگاہ ہے اورغربت ،مہنگائی ،بیروزگاری کے خاتمے اورتوانائی بحران کو ختم کرنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل المدت پالیسیوں کے تحت اقدامات کررہی ہے،احتجاج کرنا تمام جماعتوں کاحق ہے لیکن احتجاج کے دوران عوام کے وسیع ترمفاداوران کی تکالیف کابھی خیال رکھاجائے، جمہوری دور میں مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔
صدر نے ناراض اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل،عوامی نیشنل پارٹی اورنیشنل پیپلز پارٹی سمیت دیگر اتحادیوں سے رابطے کے لیے سابق وزیر اعظم اورپارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں 7رکنی کمیٹی قائم کردی۔ اس کمیٹی میں سیدخورشید شاہ،سیدنوید قمر ،قائم علی شاہ،پیر مظہر الحق،آغا سراج درانی اور منظور وسان شامل ہیں۔ یہ کمیٹی ان ناراض اتحادی جماعتوں سے رابطے کرکے اپنی رپورٹ 15دن میںصدر زرداری کو پیش کرے گی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہاکہ ہم تمام ناراض اتحادی جماعتوں کومذاکرات کی دعوت دیتے ہیں،دوستوں کے جو تحفظات ہیں حکومت انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کرے گی۔
نگراں حکومت غیرجانبدار ہوگی اورآئین کے مطابق نگراں حکومت تشکیل دی جائے گی، ہڑتال مسائل کا حل نہیں اگرنوازشریف کو سندھ کے لوگوں سے اتنی ہی محبت ہے تووہ 30نومبر کو پنجاب میں ہڑتال کی کال دیں،محرم میں سیکورٹی وجوہات کی بناپرموبائل سروس بندکی گئی اورڈبل سواری پر پابندی عائد کی اس کی وجہ سے عوام کوجو تکلیف پہنچی ہے اس کاحکومت کواحساس ہے۔ دریں اثنا صدر زرداری سے بدھ کوپیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے ملاقات کی ۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں اہم قانونی اور سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔، صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے بھی ملاقات کی، اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بھی موجود تھے۔