پنجاب حکومت کیخلاف فنڈز کے استعمال پر ڈی جی آئی بی سے جواب طلبی

27کروڑروپے خفیہ فنڈسے نکالے گئے،ایکسپریس ٹریبیون کے رپورٹراسدکھرل کاعدالت میں اپنی خبرکا دفاع

27کروڑروپے خفیہ فنڈسے نکالے گئے،ایکسپریس ٹریبیون کے رپورٹراسدکھرل کاعدالت میں اپنی خبرکا دفاع، سابق ڈائریکٹرزکوبھی نوٹس جاری فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے انٹیلی جنس بیورو(آئی بی)کے خفیہ فنڈسیاسی مقاصدکیلیے استعمال کرنے کے بارے مقدمے میں موجودہ ڈائریکٹرجنرل آئی بی سے جواب طلب کرلیاہے۔

جبکہ سابق ڈائریکٹرجنرل مسعود شریف اور طارق لودھی کونوٹس جاری کردیے ہیں۔سپریم کورٹ نے ایکسپریس ٹریبیون کی خبرپرازخود نوٹس لے کر آئی بی کے خفیہ فنڈ 2008اور2009کے دوران پنجاب حکومت کو گرانے کیلیے استعمال کامعاملہ اصغرخان کیس میں اٹھایا تاہم بعدمیں اس معاملے کوالگ کر دیا گیا۔ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ ایکسپریس ٹریبیون کے رپورٹراسد کھرل عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت کے استفسارپرانھوں نے اپنی خبر کا دفاع کیااوربتایاکہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں آزادجموں وکشمیر کے الیکشن کیلیے آئی بی کے سیکرٹ فنڈکواستعمال کیاگیااوراس مقصد کے لیے اس وقت کے وفاقی وزیرامور کشمیر و شمالی علاقہ جات کو محمد حنیف خان کواسی فنڈسے ادائیگی ہوئی۔


جبکہ پنجاب حکومت کوگرانے کیلیے27کروڑروپے خفیہ فنڈسے نکالے گئے۔انھوں نے اس ضمن میں دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے اورکہاکہ آج تک ان کی خبرکی تردیدنہیں ہوئی،اسدکھرل نے اپنے دلائل میں سابق ڈائریکٹرجنرل شعیب سڈل کے ساتھ گفتگوکاحوالہ بھی دیااورکہاکہ گفتگوکی ریکارڈنگ محفوظ ہے، شعیب سڈل نے آئی بی کے خفیہ فنڈکے غلط استعمال کی تصدیق کی تھی۔اشرف گجر نے عدالت کوبتایاکہ اس بارے ان کی پٹیشن کوبھی اس کیس کے ساتھ منسلک کیاجا ئے،اشرف گجر نے بتایا2002 کے الیکشن میں وزارت اطلاعات،وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ،نیب اور این آئی ایچ کے فنڈالیکشن کے لیے استعمال ہوئے۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بتایاکہ دونوں ایشوزکوالگ الگ دیکھناچا ہیے ۔عدالت نے سابق ڈی جی آئی بی مسعودشریف اور طارق لودھی کو ہدایت کی اگردونوں چاہیں تواپناجواب دائر کر سکتے ہیں،عدالت نے ڈی جی آئی بی سے 1988سے لے کر 1990 اور2008،2009 کاادارے کے بجٹ اوراس کی خرچ کے بارے میں تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔عدالت نے ڈی جی آئی بی کو ہدایت کی ہے کہ اگر اس کے علاوہ بھی کوئی متعلقہ ریکارڈ موجودہوتوفراہم کیا جائے،مزید سماعت 2ہفتے بعد ہوگی۔
Load Next Story