ریکوڈک کیسسپریم کورٹ کاحصے داری حقوق منتقل کرنیکانوٹس
2کاروباری آپس میں بیٹھ کرریاست کے وسائل کافیصلہ نہیں کر سکتے،چیف جسٹس
2کاروباری آپس میں بیٹھ کرریاست کے وسائل کافیصلہ نہیں کر سکتے،چیف جسٹس ، فوٹو : آن لائن
ریکوڈک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی سرکاری اہلکارکو لامحدوداختیارات حاصل نہیں۔
اگر سرکاری اہلکارکے کسی عمل کو قانون کا تحفظ حاصل نہیں تو اس کی توثیق نہیں ہو سکتی۔ یہ ریمارکس انھوں نے گزشتہ روز ٹی تھیان کے وکیل خالد انورکی اس دلیل کے جواب میں دیے جس میں انھوں نے موقف اپنایا کہ بی ڈی اے اور ٹی تھیان کے درمیان با ہمی شراکت کے معاہدے پر سرکاری عہدیدار نے سرکاری حیثیت میں دستخط کیے۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ گورنرکا کوئی ایجنٹ معاہدے پر دستخط کا مجاز نہیں تھا ، چیف جسٹس نے کہا کہ باہمی شراکت کے معاہدے سے شراکت دارکسی ملک کے وسائل کا مالک نہیں بن جاتا، عدالت نے اس بات کو دیکھنا ہے کہ کمپنی کے ساتھ کس حد تک رعایت کی جا سکتی تھی، عدالت نے معاہدے کا ٹائٹل تبدیل کرکے حصہ داری کے حقوق کسی اورکمپنی کے نام کرنے کا بھی نوٹس لیا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دوکاروباری آپس میں بیٹھ کرکسی ریاست کے وسائل کا فیصلہ نہیںکر سکتے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ریکوڈک کیس کے دو پہلو ہیں ایک کاروباری نوعیت کا اور دوسرا انتظامی ہے،کاروباری حق تسلیم کرنے کے باوجود انتظامیہ کو آزادانہ کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا،سرمایہ لگا کر انتظامی اختیارکو ختم نہیںکیا جا سکتا۔فاضل جج نے کہا عالمی ثالثی ٹربیونل میں معاملہ لے جانا درست نہیں ،سماعت آج پھر ہوگی۔
اگر سرکاری اہلکارکے کسی عمل کو قانون کا تحفظ حاصل نہیں تو اس کی توثیق نہیں ہو سکتی۔ یہ ریمارکس انھوں نے گزشتہ روز ٹی تھیان کے وکیل خالد انورکی اس دلیل کے جواب میں دیے جس میں انھوں نے موقف اپنایا کہ بی ڈی اے اور ٹی تھیان کے درمیان با ہمی شراکت کے معاہدے پر سرکاری عہدیدار نے سرکاری حیثیت میں دستخط کیے۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ گورنرکا کوئی ایجنٹ معاہدے پر دستخط کا مجاز نہیں تھا ، چیف جسٹس نے کہا کہ باہمی شراکت کے معاہدے سے شراکت دارکسی ملک کے وسائل کا مالک نہیں بن جاتا، عدالت نے اس بات کو دیکھنا ہے کہ کمپنی کے ساتھ کس حد تک رعایت کی جا سکتی تھی، عدالت نے معاہدے کا ٹائٹل تبدیل کرکے حصہ داری کے حقوق کسی اورکمپنی کے نام کرنے کا بھی نوٹس لیا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دوکاروباری آپس میں بیٹھ کرکسی ریاست کے وسائل کا فیصلہ نہیںکر سکتے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ریکوڈک کیس کے دو پہلو ہیں ایک کاروباری نوعیت کا اور دوسرا انتظامی ہے،کاروباری حق تسلیم کرنے کے باوجود انتظامیہ کو آزادانہ کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا،سرمایہ لگا کر انتظامی اختیارکو ختم نہیںکیا جا سکتا۔فاضل جج نے کہا عالمی ثالثی ٹربیونل میں معاملہ لے جانا درست نہیں ،سماعت آج پھر ہوگی۔