ترکی میں ناکام فوجی بغاوت اور جمہوریت کا مستقبل
عوام تب ہی حکمرانوں کا ساتھ دیتے ہیں جب انھیں ان پر کامل اعتماد ہو
غاوت پر قابو پانے کے باوجود اردگان حکومت کو مشکل حالات کا سامنا رہے گا لہٰذا انھیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی. فوٹو : اے ایف پی
JUBAIL, SAUDI ARABIA:
ترک عوام نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر جمہوریت بچا لی اور نئی تاریخ رقم کی،انھوں نے ثابت کیا کہ وہ ملک میں ہر صورت جمہوری نظام کے خواہاں ہیں اور کوئی بھی قوت اگر اس نظام کو طاقت کے زور پر لپیٹنے کی کوشش کرے گی تو وہ اپنی جانوں پر کھیل کر اس کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔
ترکی میں فوجی بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردگان کی کال پر انقرہ اور استنبول میں ان کے حامی لاکھوں ترک شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور باغی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا' ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا اور اپنی جرات و ہمت سے فوجی گروپ کی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ یہ طاقتور عوامی مزاحمت ہی تھی کہ رجب طیب اردگان نے اقتدار پر دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔ بغاوت کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں 104 باغی فوجیوں، 41 پولیس اہلکاروں سمیت 265 افراد ہلاک اور 1440 زخمی ہوگئے، 200 باغی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے جب کہ 2843 باغی فوجیوں کو گرفتار کرلیا گیا جن میں 5 جنرل اور 27 کرنل بھی شامل ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک جج کو بھی گرفتار کرلیا گیا اور 2745 ججوں کو برطرف کردیا گیا ہے۔
جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات ترک فوج کے ایک گروہ نے اردگان حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بغاوت کردی تھی اور دارالحکومت انقرہ اور استنبول کی اہم شاہراہوں پر ٹینک تعینات کردیے تھے جب کہ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے بھی نچلی پروازیں شروع کردیں، باغیوں نے استنبول کے ائیرپورٹ اور سرکاری ٹی وی پر قبضہ کرکے ملک میں مارشل لا اور کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد ترک صدر نے شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔ اس کے بعد لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ٹینکوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا، اس دوران کئی افراد ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے اور بعض نے ٹینکوں سے فوجیوں کو گھسیٹ کر باہر نکال لیا۔ باغیوں نے شہریوں پر ہیلی کاپٹر سے فائرنگ بھی کی مگر شہری ڈٹے رہے۔ صدارتی محل میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 13 باغیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترک میڈیا کے مطابق بغاوت کے پیچھے ترک فضائیہ کے سابق سربراہ اور ایک لیفٹیننٹ جنرل ہیں، بغاوت میں زیادہ تر ائیرفورس، ملٹری پولیس اور آرمر یونٹس کے اہلکار شامل تھے۔ صدارتی محل سے منسلک ایک عہدیدار کے مطابق ترک فوج نے انقرہ میں صدارتی محل کے باہر موجود ٹینکوں پر ایف 16 طیاروں سے بمباری بھی کی جس سے صدارتی محل کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ ترکی کے سیٹلائٹ آپریٹر پر حملے میں ملوث ایک ملٹری ہیلی کاپٹر کو بھی انقرہ کے ضلع گولباسی میں مار گرایا گیا۔ ترکی کے ایک ملٹری بلیک ہاک ہیلی کاپٹر نے یونان کے شمالی علاقہ الیگزینڈروپولی میں لینڈنگ کی ہے جس میں سوار باغی گروہ کے دو میجر، ایک کیپٹن اور پانچ دیگر افراد نے یونان میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے جب کہ ترک حکومت نے ان فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی میں ہونے والی بغاوت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اردگان حکومت کے خلاف کام کرنے والی لابی سیاسی طور پر بہت مضبوط ہے جس کے رابطے فوج اور عدلیہ کے اندر تک موجود ہیں۔
بظاہر اس بغاوت پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن اس کے شعلے اب بھی کہیں کہیں بھڑک رہے ہیں اور حکومت کے لیے خطرات بدستور موجود ہیں۔ لہٰذا حکومت ان خطرات سے نمٹنے اور باغیوں کو کچلنے کے لیے تمام شعبوں سے انھیں فارغ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ججوں کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ بغاوت کے اسباب اور اس کے پس منظر میں کام کرنے والے گروہ کے بارے میں معلومات وقفے وقفے سے سامنے آتی رہیں گی البتہ ترک صدر نے بغاوت کا الزام امریکا میں مقیم عالم فتح اللہ گولن پر عائد کیا جب کہ فتح اللہ گولن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
دنیا میں فوجی بغاوتیں کامیاب بھی ہوئیں اور ناکام بھی، مصر میں مرسی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کامیاب ہوئی وہاں عدلیہ کا ایک طاقتور گروہ بھی مرسی حکومت کے خلاف تھا۔ چونکہ ترکی میں فوج کے صرف ایک چھوٹے سے گروہ نے بغاوت کی تھی شاید اس لیے وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بغاوت پر قابو پانے کے باوجود اردگان حکومت کو مشکل حالات کا سامنا رہے گا لہٰذا انھیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی اور ایسا کوئی رویہ اختیار نہیں کرنا ہو گا ۔
جس سے عوامی یا ادارہ جاتی سطح پر ان کے خلاف غلط تاثر پھیلے،بہتر پالیسیوں کے سبب ہی عوامی قوت ان کا ساتھ دیتی رہے گی۔ لہٰذا آنے والے دن طیب اردگان اور ان کی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوں گے، ترکوں نے ثابت کر دیا کہ قوت کا سرچشمہ عوام ہیں، اس میں ہمارے حکمرانوں کے لیے بھی سبق مضمر ہے کہ عوام تب ہی حکمرانوں کا ساتھ دیتے ہیں جب انھیں ان پر کامل اعتماد ہو اور جمہوریت بھی اس وقت ہی طاقت ور ہوتی ہے جب عوام سمجھیں کہ یہ بہترین طرز حکمرانی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ طیب اردگان اور ان کے ساتھی مستقبل میں جمہوری روایات کو مزید کتنا مضبوط و مستحکم کرتے ہیں۔
ترک عوام نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر جمہوریت بچا لی اور نئی تاریخ رقم کی،انھوں نے ثابت کیا کہ وہ ملک میں ہر صورت جمہوری نظام کے خواہاں ہیں اور کوئی بھی قوت اگر اس نظام کو طاقت کے زور پر لپیٹنے کی کوشش کرے گی تو وہ اپنی جانوں پر کھیل کر اس کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔
ترکی میں فوجی بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردگان کی کال پر انقرہ اور استنبول میں ان کے حامی لاکھوں ترک شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور باغی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا' ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا اور اپنی جرات و ہمت سے فوجی گروپ کی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ یہ طاقتور عوامی مزاحمت ہی تھی کہ رجب طیب اردگان نے اقتدار پر دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔ بغاوت کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں 104 باغی فوجیوں، 41 پولیس اہلکاروں سمیت 265 افراد ہلاک اور 1440 زخمی ہوگئے، 200 باغی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے جب کہ 2843 باغی فوجیوں کو گرفتار کرلیا گیا جن میں 5 جنرل اور 27 کرنل بھی شامل ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک جج کو بھی گرفتار کرلیا گیا اور 2745 ججوں کو برطرف کردیا گیا ہے۔
جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات ترک فوج کے ایک گروہ نے اردگان حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے بغاوت کردی تھی اور دارالحکومت انقرہ اور استنبول کی اہم شاہراہوں پر ٹینک تعینات کردیے تھے جب کہ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے بھی نچلی پروازیں شروع کردیں، باغیوں نے استنبول کے ائیرپورٹ اور سرکاری ٹی وی پر قبضہ کرکے ملک میں مارشل لا اور کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد ترک صدر نے شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔ اس کے بعد لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ٹینکوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا، اس دوران کئی افراد ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے اور بعض نے ٹینکوں سے فوجیوں کو گھسیٹ کر باہر نکال لیا۔ باغیوں نے شہریوں پر ہیلی کاپٹر سے فائرنگ بھی کی مگر شہری ڈٹے رہے۔ صدارتی محل میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 13 باغیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترک میڈیا کے مطابق بغاوت کے پیچھے ترک فضائیہ کے سابق سربراہ اور ایک لیفٹیننٹ جنرل ہیں، بغاوت میں زیادہ تر ائیرفورس، ملٹری پولیس اور آرمر یونٹس کے اہلکار شامل تھے۔ صدارتی محل سے منسلک ایک عہدیدار کے مطابق ترک فوج نے انقرہ میں صدارتی محل کے باہر موجود ٹینکوں پر ایف 16 طیاروں سے بمباری بھی کی جس سے صدارتی محل کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ ترکی کے سیٹلائٹ آپریٹر پر حملے میں ملوث ایک ملٹری ہیلی کاپٹر کو بھی انقرہ کے ضلع گولباسی میں مار گرایا گیا۔ ترکی کے ایک ملٹری بلیک ہاک ہیلی کاپٹر نے یونان کے شمالی علاقہ الیگزینڈروپولی میں لینڈنگ کی ہے جس میں سوار باغی گروہ کے دو میجر، ایک کیپٹن اور پانچ دیگر افراد نے یونان میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے جب کہ ترک حکومت نے ان فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی میں ہونے والی بغاوت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اردگان حکومت کے خلاف کام کرنے والی لابی سیاسی طور پر بہت مضبوط ہے جس کے رابطے فوج اور عدلیہ کے اندر تک موجود ہیں۔
بظاہر اس بغاوت پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن اس کے شعلے اب بھی کہیں کہیں بھڑک رہے ہیں اور حکومت کے لیے خطرات بدستور موجود ہیں۔ لہٰذا حکومت ان خطرات سے نمٹنے اور باغیوں کو کچلنے کے لیے تمام شعبوں سے انھیں فارغ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ججوں کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ بغاوت کے اسباب اور اس کے پس منظر میں کام کرنے والے گروہ کے بارے میں معلومات وقفے وقفے سے سامنے آتی رہیں گی البتہ ترک صدر نے بغاوت کا الزام امریکا میں مقیم عالم فتح اللہ گولن پر عائد کیا جب کہ فتح اللہ گولن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
دنیا میں فوجی بغاوتیں کامیاب بھی ہوئیں اور ناکام بھی، مصر میں مرسی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کامیاب ہوئی وہاں عدلیہ کا ایک طاقتور گروہ بھی مرسی حکومت کے خلاف تھا۔ چونکہ ترکی میں فوج کے صرف ایک چھوٹے سے گروہ نے بغاوت کی تھی شاید اس لیے وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بغاوت پر قابو پانے کے باوجود اردگان حکومت کو مشکل حالات کا سامنا رہے گا لہٰذا انھیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی اور ایسا کوئی رویہ اختیار نہیں کرنا ہو گا ۔
جس سے عوامی یا ادارہ جاتی سطح پر ان کے خلاف غلط تاثر پھیلے،بہتر پالیسیوں کے سبب ہی عوامی قوت ان کا ساتھ دیتی رہے گی۔ لہٰذا آنے والے دن طیب اردگان اور ان کی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوں گے، ترکوں نے ثابت کر دیا کہ قوت کا سرچشمہ عوام ہیں، اس میں ہمارے حکمرانوں کے لیے بھی سبق مضمر ہے کہ عوام تب ہی حکمرانوں کا ساتھ دیتے ہیں جب انھیں ان پر کامل اعتماد ہو اور جمہوریت بھی اس وقت ہی طاقت ور ہوتی ہے جب عوام سمجھیں کہ یہ بہترین طرز حکمرانی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ طیب اردگان اور ان کے ساتھی مستقبل میں جمہوری روایات کو مزید کتنا مضبوط و مستحکم کرتے ہیں۔