مصباح کی سپورٹ نے راحت کا اعتماد بڑھایا وسیم باری
عامر کو ردھم میں آنے میں وقت لگے گا، بڑی توقعات وابستہ کرنا مناسب نہیں، سابق وکٹ کیپر
عامر کو ردھم میں آنے میں وقت لگے گا، بڑی توقعات وابستہ کرنا مناسب نہیں، سابق وکٹ کیپر فوٹو : اے پی پی / فائل
لاہور:
سابق کپتان وسیم باری نے کہا ہے کہ محمد عامر کو ردھم میں آنے کیلیے وقت درکار ہوگا، کسی بھی کھیل میں کم بیک کے بعد تہلکہ خیز کارکردگی دکھانا آسان نہیں ہوتا، ٹیسٹ کرکٹ فارم اور فٹنس کا حقیقی امتحان ہوتی ہے، پیسر سے بھی ابھی بڑی توقعات وابستہ نہیںکرنا چاہئیں، کپتان مصباح الحق کی بھرپور سپورٹ نے راحت علی کے اعتماد میں اضافہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق چیف سلیکٹر وسیم باری کا کہنا ہے کہ کسی بھی کھیل میں کم بیک کرتے ہی تہلکہ خیز کارکردگی دکھانا آسان نہیں ہوتا، ٹینس کے کھلاڑی ایسا نہیں کرپائے، گالفر ٹائیگر ووڈ کی مثال بھی سامنے ہے، ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کسی بھی پلیئر کی فارم اور فٹنس کا حقیقی امتحان ہوتی ہے، اس لیے محمد عامر سے بڑی توقعات وابستہ نہیںکرسکتے، پیسر سے آتے ہی پہلے ٹیسٹ میچ میں 5وکٹیں حاصل کرلینے کی امید نہیں کی جاسکتی تھی،ان کو ردھم میں آنے کیلیے وقت درکار ہوگا۔
وسیم باری نے کہا کہ راحت علی نے دوسری اننگز میں اچھی بولنگ کی،ان کو کپتان مصباح الحق کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جس کی بدولت اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔سابق کپتان نے کہا کہ لارڈز کی وکٹ اس بار معمول سے زیادہ سست دکھائی دے رہی ہے،دونوں ٹیمیں اس کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہیںاس لیے فیلڈنگ میں مسائل سامنے آئے اور کیچز چھوٹ گئے۔
اس طرح کی صورتحال دیکھنے کے بعد سلپ فیلڈرز کو تھوڑا آگے کھڑا ہونا چاہیے، بال آگے گرے گی تو قابو پانے کا موقع ہوگا،انگلینڈ کی کنڈیشنز میں گیند بیٹسمین کے قریب سے گزرنے کے بعد بھی گھوم جاتی ہے،اس لیے وکٹ کیپر کو بھی مستعد اور آخر تک نظر رکھنا چاہیے،اپنی غفلت کے سبب سرفراز اور جونی بیئراسٹو نے کیچ گرائے، تاہم کوشش کریں تو آئندہ مشکلات پرقابو پاسکتے ہیں۔
سابق کپتان وسیم باری نے کہا ہے کہ محمد عامر کو ردھم میں آنے کیلیے وقت درکار ہوگا، کسی بھی کھیل میں کم بیک کے بعد تہلکہ خیز کارکردگی دکھانا آسان نہیں ہوتا، ٹیسٹ کرکٹ فارم اور فٹنس کا حقیقی امتحان ہوتی ہے، پیسر سے بھی ابھی بڑی توقعات وابستہ نہیںکرنا چاہئیں، کپتان مصباح الحق کی بھرپور سپورٹ نے راحت علی کے اعتماد میں اضافہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق چیف سلیکٹر وسیم باری کا کہنا ہے کہ کسی بھی کھیل میں کم بیک کرتے ہی تہلکہ خیز کارکردگی دکھانا آسان نہیں ہوتا، ٹینس کے کھلاڑی ایسا نہیں کرپائے، گالفر ٹائیگر ووڈ کی مثال بھی سامنے ہے، ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کسی بھی پلیئر کی فارم اور فٹنس کا حقیقی امتحان ہوتی ہے، اس لیے محمد عامر سے بڑی توقعات وابستہ نہیںکرسکتے، پیسر سے آتے ہی پہلے ٹیسٹ میچ میں 5وکٹیں حاصل کرلینے کی امید نہیں کی جاسکتی تھی،ان کو ردھم میں آنے کیلیے وقت درکار ہوگا۔
وسیم باری نے کہا کہ راحت علی نے دوسری اننگز میں اچھی بولنگ کی،ان کو کپتان مصباح الحق کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جس کی بدولت اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔سابق کپتان نے کہا کہ لارڈز کی وکٹ اس بار معمول سے زیادہ سست دکھائی دے رہی ہے،دونوں ٹیمیں اس کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہیںاس لیے فیلڈنگ میں مسائل سامنے آئے اور کیچز چھوٹ گئے۔
اس طرح کی صورتحال دیکھنے کے بعد سلپ فیلڈرز کو تھوڑا آگے کھڑا ہونا چاہیے، بال آگے گرے گی تو قابو پانے کا موقع ہوگا،انگلینڈ کی کنڈیشنز میں گیند بیٹسمین کے قریب سے گزرنے کے بعد بھی گھوم جاتی ہے،اس لیے وکٹ کیپر کو بھی مستعد اور آخر تک نظر رکھنا چاہیے،اپنی غفلت کے سبب سرفراز اور جونی بیئراسٹو نے کیچ گرائے، تاہم کوشش کریں تو آئندہ مشکلات پرقابو پاسکتے ہیں۔