شہروں کا بگڑتا حلیہ اور بلدیاتی مسائل
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 3 دن میں کچرا صاف کردیں
شہر ملکی تہذیب کا چہرہ ہوتے ہیں۔انھیں صاف ستھرا رکھنا شہری کلچر کا بنیادی اصول ہے۔ فوٹو: فائل
مہذب دنیا کے ہر بڑے شہر کو مثل آئینہ ہونا چاہیے۔ یہ بات شہری ترقی و توسیع کے ماہرین کا کلیہ ہے اور اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں شہر قائد کو عروس البلاد کہا جاتا تھا،اور کراچی ایشیا کا خوبصورت شہر ہونے کا اعزاز رکھتا تھا، مگر یہ المیہ ہے کہ جمہوری دور حکومت میں اکثر ملک کے شہروں کا نہ صرف چہرہ بدنما ہوا بلکہ شہری سہولتوں، صفائی ستھرائی، فراہمی و نکاسی آب، غلاظتوں اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے جدید اور سائنسی طریقوں کے فقدان نے میگا سٹیز کا حلیہ بگاڑ دیا، آجکل کراچی کی حالت ناگفتہ بہ ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 3 دن میں کچرا صاف کردیں۔
ان کے اس حکم پر وزارت بلدیات کے حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے اور کیوں نہ مچے ،ایک تو جمہوری حکومت بلدیاتی نظام کے لیے سنجیدہ نہیں ، دوسرے وہ میئر ز و ڈپٹی میئرز کے انتخابات میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے جب کہ ضرورت ایک مضبوط مقامی حکومت کی ہے جو صوبائی و وفاقی حکومت کا بوجھ شیئر کرسکے تاکہ عوام کو صحت وصفائی اور دیگر بلدیاتی مسائل سے نجات مل سکے ، کیونکہ کونسلرز ان کی دہلیز پر موجود ہونگے۔ میڈیا کی اطلاع یہ ہے کہ گزشتہ 6 سال میں کراچی کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے، اور دروغ بر گردن راوی پورے ملک کے بڑے شہروں کا کم و بیش یہی حال ہے، ایک آدھ استثنا کے علاوہ ماحولیاتی مسائل میں الجھے ہوئے ان شہروں کو جدید ٹرانسپورٹ درکار ہے۔
صحت و صفائی، ڈرینیج سسٹم اور ٹریفک جام سمیت مارکیٹوں اور محلوں میں گندے پانی ، مکھیوں کی یلغار، اور جگہ جگہ پولیتھین شاپنگ بیگز نے برساتی نالوں اور مین ہولوں کی بندش سے صورتحال حال خراب کردی ہے۔ برساتی نالوں کی برسوں صفائی نہیں ہوتی تو ابل پڑتے ہیں، واضح رہے کمر مشانی ملا خیل میں نالے بڑوچ میں طغیانی کے باعث ایک سروے کمپنی کے 4کارکن بہہ گئے، ایک مزدور ڈوب گیا ۔ سینیٹری ورکرز کی اکثریت مشرق وسطیٰ کی طرف نقل مکانی کرچکی ہے۔صوبائی دارالحکومتوں کی اہم سڑکیں گندے پانی میں ڈوبی رہتی ہیں۔اس لیے صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ بلدیاتی سہولتوں کی فراہمی کو اولیت دیں، شہر ملکی تہذیب کا چہرہ ہوتے ہیں۔انھیں صاف ستھرا رکھنا شہری کلچر کا بنیادی اصول ہے۔
ان کے اس حکم پر وزارت بلدیات کے حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے اور کیوں نہ مچے ،ایک تو جمہوری حکومت بلدیاتی نظام کے لیے سنجیدہ نہیں ، دوسرے وہ میئر ز و ڈپٹی میئرز کے انتخابات میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے جب کہ ضرورت ایک مضبوط مقامی حکومت کی ہے جو صوبائی و وفاقی حکومت کا بوجھ شیئر کرسکے تاکہ عوام کو صحت وصفائی اور دیگر بلدیاتی مسائل سے نجات مل سکے ، کیونکہ کونسلرز ان کی دہلیز پر موجود ہونگے۔ میڈیا کی اطلاع یہ ہے کہ گزشتہ 6 سال میں کراچی کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے، اور دروغ بر گردن راوی پورے ملک کے بڑے شہروں کا کم و بیش یہی حال ہے، ایک آدھ استثنا کے علاوہ ماحولیاتی مسائل میں الجھے ہوئے ان شہروں کو جدید ٹرانسپورٹ درکار ہے۔
صحت و صفائی، ڈرینیج سسٹم اور ٹریفک جام سمیت مارکیٹوں اور محلوں میں گندے پانی ، مکھیوں کی یلغار، اور جگہ جگہ پولیتھین شاپنگ بیگز نے برساتی نالوں اور مین ہولوں کی بندش سے صورتحال حال خراب کردی ہے۔ برساتی نالوں کی برسوں صفائی نہیں ہوتی تو ابل پڑتے ہیں، واضح رہے کمر مشانی ملا خیل میں نالے بڑوچ میں طغیانی کے باعث ایک سروے کمپنی کے 4کارکن بہہ گئے، ایک مزدور ڈوب گیا ۔ سینیٹری ورکرز کی اکثریت مشرق وسطیٰ کی طرف نقل مکانی کرچکی ہے۔صوبائی دارالحکومتوں کی اہم سڑکیں گندے پانی میں ڈوبی رہتی ہیں۔اس لیے صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ بلدیاتی سہولتوں کی فراہمی کو اولیت دیں، شہر ملکی تہذیب کا چہرہ ہوتے ہیں۔انھیں صاف ستھرا رکھنا شہری کلچر کا بنیادی اصول ہے۔