بڑھتی ہوئی عدم برداشت

تین سال قبل راشد رحمان نامعلوم افرادکی گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے

tauceeph@gmail.com

بے لوث سماجی رہنما ظفرلونڈ قتل ہوگئے۔ تین سال قبل راشد رحمان نامعلوم افرادکی گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے، جنوبی پنجاب میں کوٹ ادو ،مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازی خان اور اطراف کے علاقوں میں غریبوں کے حالات کو بہتر بنانے' ماحولیات اور زراعت کو بچانے اور انتہا پسندی کے خطرے سے عوام کوآگاہ کرنے کی کاوش میں ظفر قتل ہوگئے۔ نامعلوم افراد گزشتہ ہفتے سہ پہر کے وقت کوٹ ادو میں ان کے گھرگئے، ظفرکو آواز دے کر بلایا ، قریب سے فائرنگ کرکے ظفر کو شہیدکردیا۔ قاتل اطمینان سے اپنی موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکرکمین گاہوں میں روپوش ہوگئے۔

ظفر ایک بوڑھے باپ تین بیٹوں، ایک بیٹی اور بیوہ کو دنیا میں چھوڑگئے۔ ظفر طالب علمی کے زمانے سے ترقی پسند تحریک سے منسلک ہوئے۔ وہ پہلے بی ایس او میں شامل ہوئے پھرکمیونسٹ پارٹی کی ذیلی تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ڈی ایس ایف) میں شامل ہوگئے اور اس کی مرکزی قیادت کا حصہ بن گئے۔ 80 کی دہائی کے وسط میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا۔

کراچی یونیورسٹی میں اس وقت دائیں بازوکی طلبہ تنظیم کا دور تھا یونیورسٹی میں ترقی پسند طلبہ کو داخلے کی اجازت نہیں تھی، اس زمانے میں ترقی پسند رہنماؤں حاصل بزنجو' مومن خان مومن، ناصر آرائیں ،فہیم الزماں ،ساتھی اسحاق، اظہرعباس ، ملک اسلم وغیرہ نے یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس فرنٹ کی بنیاد رکھی ۔ اے پی ایم ایس او کے الطاف حسین اس محاذ میں شامل ہوئے، اسی زمانے میں کراچی یونیورسٹی میں ایک طلبہ تنظیم کے حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے حاصل بزنجو کو زخمی کردیا تھا۔ظفر نے انھیں لوگوں کے ساتھ مل کر جبر کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ ظفر تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوٹ ادو چلے گئے جہاں انھوں نے سماجی تنظیم ہیرک ڈیولپمنٹ سینٹر کی نام سے قائم کی اس کے علاوہ دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے سندھوبچاؤ ترلا کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔

ان تنظیموں نے دریائے سندھ کے اطراف آباد مکینوں کے تحفظ کے لیے جدو جہد کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دریائے سندھ میں پانی نہیں ہوتا تو ماہی گیر روزگار سے محروم ہوجاتے ہیں اور فصلیں سوکھ جاتی ہیں یوں خشک سالی سے غربت کی شرح بڑھ جاتی ہے اور جب دریائے سندھ میں سیلاب آتے ہیں تو اطراف کی بستیاں ڈوب جاتی ہیں۔ زرعی فصلیں ختم ہوجاتی ہیں ۔گزشتہ دس برس کے دوران دریائے سندھ میں مظفرگڑھ ،کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں بڑی تباہی مچائی، اس تباہی کے نتیجے میں جہاں انسانی جانیں گئیں وہاں ہیضہ ، پیچش، ملیریا ٹائی فائیڈ جیسی وبائی بیماریوں نے بہت سے لوگوں کو متاثرکیا۔ کم خوراک اور صحت کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی بنا پر حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات اس علاقے میں بہت زیادہ ہے ۔ ظفر نے ان غریبوں کو سیلاب کے بعد معاوضے کے لیے کئی دفعہ مہم چلائی پھر تونسہ بیراج کی توسیع منصوبے سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے حکومت نے انھیں معاوضہ نہیں دیا ظفر ان لوگوں کی آباد کاری کے لیے جدو جہد کرتے رہے۔

سرائیکی وسیب میں بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، اس علاقے میں گرمی کی شدید لہر نے انسانی و حیوانی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ ملتان ڈیرہ غازی خان اور اطراف کے علاقوں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برس سے گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے ، اس طرح سردیوں میں اوس پڑنے سے ماحولیات انسانی زندگی پر منفی اثرات برآمد ہوئے ہیں۔ مئی میں اس علاقے میں درجہ حرارت 52ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا ۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مظفر گڑھ اورکوٹ ادو کے علاقے میں مختلف صنعتوں سے خارج ہونے والی توانائی ماحولیات پر منفی اثرات ڈال رہی ہیں۔ ظفر لونڈ کہتے تھے کہ ان علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا تناسب اٹھارہ گھنٹے تک ہے ۔


پھر بجلی کے نرخ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ علاقے کا غریب کسان چھوٹے دکاندار سرکاری وغیر سرکاری ملازمین ان بلوں کی ادائیگی کی سکت نہیں رکھتے۔ یوں لوگوں کو بجلی کے منصوبوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہورہا ہے۔ظفر کی آخری سرگرمی نو جولائی کو تھی جب انھوں نے ایک ریلی کی قیادت کی تھی۔ ظفر جنوبی پنجاب میں انتہا پسندوں کے خلاف آگاہی کی مہم میں سب سے آگے تھے۔ وہ مسلسل لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ مذہبی انتہا پسندی ذاتی زندگی، خاندان، اجتماعی زندگی اور ریاست کے لیے خطرناک ہے۔ ان کے نظریات انتہا پسندوں کو پسند نہیں تھے۔

سابق تعلیمی رہنما ناصر آرائیں کا کہنا ہے کہ ظفر نے چند ماہ قبل ٹیلی فون پرخواہش ظاہرکی تھی کہ کراچی یونیورسٹی سے انھیں مائیگریشن سرٹیفیکیٹ بھجوادیا جائے جب ناصر نے ان سے سوال کیا تھا کہ انھیں مائیگریشن سرٹیفیکیٹ کی ضرورت کیوں پڑ گئی تھی تو ظفر نے کہا تھا کہ ان کے تینوں بیٹے تعلیم حاصل کرکے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوچکے ہیں۔ اس علاقے کے لوگوں کو قانونی مسائل کے حل کے لیے وکیلوں کے دفتروں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ اکثریت وکیلوں کی فیسوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ ظفرکا کہنا تھا کہ ایل ایل بی کرکے ان غریبوں کی آواز بننا چاہتے ہیں۔

جنوبی پنجاب میں گزشتہ کئی عشروں سے انتہاپسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے باتیں ہورہی ہیں۔ پنجاب کی حکومت ہمیشہ اس سے انکار کرتی رہی ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمان کو بھی نامعلوم افراد نے ان کے دفتر میں گولیاں مارکرقتل کردیا تھا۔ راشد کے قتل کی صدر اور وزیر اعظم پنجاب کے وزیر اعلیٰ سمیت سب نے مذمت کی تھی وکیلوں نے دو دن تک پورے ملک میں عدالتی کارروائی کو معطل رکھا تھا ۔ سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے اس معاملے کا نوٹس لیا تو ایک پولیس آفیسرنے یہ بیان دیا کہ ایک ملزم پولیس مقابلے میں مارا جاچکا ہے جب کہ دوسرا مفرور ہے۔یوں یہ معاملہ داخل دفتر ہوا۔

جنرل ضیاء کے دور سے ملک بھر میں عدم برداشت اور انتہا پسندی پروان چڑھ رہی ہے۔ برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے اس خطرناک صورتحال کی مضمرات کو محسوس نہیں کیا تھا مگر نائن الیون کے بعد مشرف حکومت کی پالیسی تبدیل ہوئی، انتہا پسندی کو خطرناک معاملہ سمجھا گیا مگر بعض ریاستی اداروں نے انتہا پسندی کے عفریت کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پنجاب حکومت بھی انتہا پسندوں کی سرکوبی سے کتراتی رہی۔ لاہور میں گلشن اقبال پارک میں دہشت گردی کی واردات کے بعد جنوبی پنجاب میں مختصر آپریشن ہوا مگر صورتحال ویسی ہی رہی اور یوں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ مظفرگڑھ ،کوٹ ادو ، ملتان ، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان کوکراچی بنانے کی کوشش ہورہی ہے ۔کراچی میں سیاسی کارکن اساتذہ وکیل فنکار، خواتین، سماجی کارکن نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں اور ان کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے ، شاید ظفر کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہو۔

( نوٹ: ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمے تحت شایع ہونے والے آرٹیکل میں تحریر کیا گیا تھا "داعش نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کیا ''مگر غلطی سے یہ عبارت شایع ہوئی '' داعش نے پیشہ ورانہ رنگ اختیار کیا۔)
Load Next Story