سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت ختم طلبا کا احتجاج

اسمبلی یونیورسٹی کے قیام کا بل منظورکرے ورنہ تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے، متاثرہ طلبہ

سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے ملازمین اور طلبا وطالبات مطالبات کے حق میں رفیقی شہیدروڈ پر احتجاجی دھرنے کے دوران نعرے لگا رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت ختم ہونے کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات نے شدید احتجاج کیا۔

رفیقی شہید روڈ پرطلبہ وطالبات کے احتجاجی دھرنے کی وجہ سے2 گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی، طالبعلموں کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کا بل منظورکرے بصورت دیگر طالب علم تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوجائیں گے، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے طالبعلموں نے یونیورسٹی گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا، طالب علموں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرزاٹھا رکھے تھے جس میں سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بحال کرو اور ہمارے مستقبل سے نہ کھیلا جائے کے نعرے درج تھے۔


ان طالب علموں نے بتایا کہ یکم جون کو صدرمملکت آصف زرداری کی ہدایت پرحکومت سندھ نے سندھ میڈیکل کالج کو سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق آرڈیننس جاری کیاتھا جس کی مدت 30اگست کو ختم ہوگئی، اس دوران سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے پہلے ایم بی بی ایس بیج میں داخلے بھی دیے اور5نومبر سے نئی کلاسوں کا آغازبھی کیا گیا،4ماہ گزرنے کے باوجود بھی سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا بل اسمبلی سے منظور نہیں کیاجاسکا جس کی وجہ سے قانونی اعتبار سے سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی۔

طالبعلموں نے کہاکہ سندھ کے تمام میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا عمل مکمل ہوچکا ہے اب ہمیں کسی اور میڈیکل کالج میں داخلہ بھی نہیں مل سکتا لہذا حکومت سندھ ہمارے مستقبل سے نہ کھیلے اور سندھ میڈیکل یونیورسٹی کابل اسمبلی سے منظور کرائے، بصورت دیگر طالب علم کراچی پریس کلب اور یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے، بعدازاں احتجاجی دھرنےمیں یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریٹرذیشان سمیت تمام ملازمین اور اراکان فیکلٹی بھی شامل ہوگئے۔

ان ملازمین کا کہناتھا ہمارے بھی مستقبل کا فیصلہ کیاجائے یونیورسٹی کے فنڈز ریلیز کیے جائیں اورہمیں تحفظ فراہم کیاجائے، علاوہ ازیں رفیق شہید روڈ پر جناح اسپتال سمیت قومی ادارہ امراض قلب ، قومی ادارہ اطفال برائے صحت،جناح اسپتال ،سندھ میڈیکل یونیورسٹی، ڈاکٹر عشرت العبادخان اورل ہیلتھ انسٹیٹوٹ، مردہ خانہ ، کڈنی سینٹر، لیور ڈیزیز انسٹیٹوٹ اور صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے آئی آئی ڈپو، سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام، بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات اور ڈرگ انسپکٹروں کے دفاترقائم ہیں،جہاں ہر وقت بدترین ٹریفک جام رہنے کی شکایات عام ہیں، جمعرات کوسندھ میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے احتجاجی دھرنے کے بعد رفیق شہید روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا تھا ، اس سٹرک پرٹریفک جام روزکا معمول بن گیا جس کی وجہ سے ایمبولینس ڈرائیوروں کو مریضوں اور زخمیوں کی فوری طبی امدادکے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جناح اسپتال کے گیٹ پر رکشا ڈرائیوروں نے ناجائز اسٹینڈ بھی قائم کرلیا ہے جس کی وجہ سے گیٹ بھی بندکردیا گیا ہے۔
Load Next Story