سندھ میں قیام امن سب کی ترجیح ہونا چاہیے
اگر صوبے کی سیاسی جماعتیں بھی اداروں کے ساتھ ہوں تو سندھ میں امن قائم کرنا زیادہ مشکل ٹاسک نہیں ہے
اگر صوبے کی سیاسی جماعتیں بھی اداروں کے ساتھ ہوں تو سندھ میں امن قائم کرنا زیادہ مشکل ٹاسک نہیں ہے. فوٹو؛ فائل
اخباری اطلاعات کے مطابق سندھ میں رینجرز کے قیام اور خصوصی اختیارات میں توسیع نہ ملنے پر کراچی آپریشن روک دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت رینجرز کے قیام اور خصوصی اختیارات میں ابھی تک توسیع کا فیصلہ نہیں کر پا رہی اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے صلاح مشورے جاری ہیں۔ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ اس حوالے سے دبئی میں اجلاس بلا لیا گیا ہے جس میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ' آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوں گے' امکان ہے کہ ایک دو روز میں اس بارے میں صورت حال واضح ہو جائے گی کیونکہ سندھ حکومت بھی زیادہ دیر تک اس معاملے کو لٹکا کر نہیں رکھ سکتی۔
کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات اور صوبائی حکومت کی جانب سے اس پر قابو نہ پا سکنے کے بعد رینجرز کو 5ستمبر 2013 کو ٹارگٹڈ کارروائیوں کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ رینجرز نے سندھ میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جس کا واضح اظہار بارہا شہریوں کی جانب سے بھی کیا گیااور کراچی میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی خاصی حد تک تیزی آئی ہے۔
رینجرز نے سندھ میں اپنی کارکردگی کی رپورٹ بھی جاری کر دی ہے جس کے مطابق دو سال اور دس ماہ کے دوران اس نے کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں' علیحدگی پسندوں اور جرائم پیشہ افراد سمیت 533ملزمان کو گرفتار کیا' نیشنل ایکشن پلان کے تحت فارن ایکٹ کی خلاف ورزی پر 127 غیرقانونی افغان باشندے بھی گرفتار کیے گئے۔ سندھ میں رینجرز کے بار بار قیام میں توسیع کے معاملے اور سندھ حکومت کی جانب سے ہچکچاہٹ کے مظاہرے سے ہر بار پریشان کن صورت حال پیدا ہو جاتی ہے' اس وقت وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان اعصابی جنگ لڑی جا رہی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر سندھ حکومت مزید تاخیر کا باعث بنتی ہے تو وفاقی حکومت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے آرڈیننس کی صورت میں رینجرز کو اختیارات دے سکتی ہے۔ اگر سندھ حکومت کے رینجرز کے قیام میں توسیع کے سلسلے میں تحفظات ہیں تو ان پر ضرور غور کیا جانا چاہیے لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر سندھ میں رینجرز کے قیام میں توسیع کا معاملہ بار بار کیوں پیش آ رہا ہے۔
آخر سندھ حکومت اپنے ماتحت محکمہ پولیس اور دیگر صوبائی اداروں کو اتنا متحرک اور موثر کیوں نہیں بناسکی کہ وہ دہشت گردی اور جرائم پر قابو پا کر امن و امان کی صورت حال بہتر بنا سکیں تاکہ رینجرز کے مزید قیام کی نوبت ہی نہ آئے۔ رینجرز کا مزید قیام اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ سندھ میں امن و امان برقرار رکھ سکیں' کیا اسے سندھ حکومت کی نااہلی سے تعبیر کیا جائے گا۔ اگر سندھ حکومت اور وہاں کی دیگر سیاسی جماعتوں کو رینجرز کے مزید قیام پر اعتراضات ہیں تو وہ سب مل کر خطے میں بہتری کیوں نہیں لاتیں' صرف رینجرز کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ رینجرز نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اسے پورے صوبے میں شرپسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے' رینجرز کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کراچی میں وارداتیں کرنے کے بعد اندرون سندھ فرار ہو جاتے جہاں بااثر افراد انھیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
بعض ذرایع یہ کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو کراچی کے علاوہ پورے صوبے خاص طور پر لاڑکانہ میں رینجرز کو اختیارات دینے پر شدید تحفظات ہیں۔ متحدہ کو بھی آپریشن پر تحفظات ہیں ۔اس لیے سندھ کے معاملے کو نہایت سمجھداری سے حل کرنے کی ضرورت ہے' وقت آ گیا ہے ۔یہاں ضد اور ہٹ دھرمی یا گروہی مفادات کو سامنے رکھ کر کسی قسم کا فیصلہ کرنا مسائل کو مزید گہرا کرے گا۔ سندھ حکومت اور دیگر تمام سیاسی جماعتیں اس پیچیدہ صورت حال کو باہمی مشاورت کے ذریعے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ آئے روز اس مسئلے پر پیدا ہونے والی پیچیدگیاں جنم نہ لیں۔ تمام اداروں کو آئین اور قانون کی طے کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینا چاہیے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے صوبے میں کسی بھی سطح پر بے چینی اور انتشار کی کیفیت جنم لے۔
اگر صوبے کی سیاسی جماعتیں بھی اداروں کے ساتھ ہوں تو سندھ میں امن قائم کرنا زیادہ مشکل ٹاسک نہیں ہے لہٰذا سندھ میں امن و امان قائم کرنا سب کی ترجیح ہونا چاہیے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی اور جرائم کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ پرامن شہری سکون کے ساتھ اپنے معمولات زندگی ادا کر سکیں لیکن اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے 'صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں تاکہ ملک دشمنوںاور دہشت گردوں کو شکست دی جا سکے۔
کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات اور صوبائی حکومت کی جانب سے اس پر قابو نہ پا سکنے کے بعد رینجرز کو 5ستمبر 2013 کو ٹارگٹڈ کارروائیوں کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ رینجرز نے سندھ میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جس کا واضح اظہار بارہا شہریوں کی جانب سے بھی کیا گیااور کراچی میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی خاصی حد تک تیزی آئی ہے۔
رینجرز نے سندھ میں اپنی کارکردگی کی رپورٹ بھی جاری کر دی ہے جس کے مطابق دو سال اور دس ماہ کے دوران اس نے کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں' علیحدگی پسندوں اور جرائم پیشہ افراد سمیت 533ملزمان کو گرفتار کیا' نیشنل ایکشن پلان کے تحت فارن ایکٹ کی خلاف ورزی پر 127 غیرقانونی افغان باشندے بھی گرفتار کیے گئے۔ سندھ میں رینجرز کے بار بار قیام میں توسیع کے معاملے اور سندھ حکومت کی جانب سے ہچکچاہٹ کے مظاہرے سے ہر بار پریشان کن صورت حال پیدا ہو جاتی ہے' اس وقت وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان اعصابی جنگ لڑی جا رہی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر سندھ حکومت مزید تاخیر کا باعث بنتی ہے تو وفاقی حکومت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے آرڈیننس کی صورت میں رینجرز کو اختیارات دے سکتی ہے۔ اگر سندھ حکومت کے رینجرز کے قیام میں توسیع کے سلسلے میں تحفظات ہیں تو ان پر ضرور غور کیا جانا چاہیے لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر سندھ میں رینجرز کے قیام میں توسیع کا معاملہ بار بار کیوں پیش آ رہا ہے۔
آخر سندھ حکومت اپنے ماتحت محکمہ پولیس اور دیگر صوبائی اداروں کو اتنا متحرک اور موثر کیوں نہیں بناسکی کہ وہ دہشت گردی اور جرائم پر قابو پا کر امن و امان کی صورت حال بہتر بنا سکیں تاکہ رینجرز کے مزید قیام کی نوبت ہی نہ آئے۔ رینجرز کا مزید قیام اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ سندھ میں امن و امان برقرار رکھ سکیں' کیا اسے سندھ حکومت کی نااہلی سے تعبیر کیا جائے گا۔ اگر سندھ حکومت اور وہاں کی دیگر سیاسی جماعتوں کو رینجرز کے مزید قیام پر اعتراضات ہیں تو وہ سب مل کر خطے میں بہتری کیوں نہیں لاتیں' صرف رینجرز کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ رینجرز نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اسے پورے صوبے میں شرپسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے' رینجرز کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کراچی میں وارداتیں کرنے کے بعد اندرون سندھ فرار ہو جاتے جہاں بااثر افراد انھیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
بعض ذرایع یہ کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو کراچی کے علاوہ پورے صوبے خاص طور پر لاڑکانہ میں رینجرز کو اختیارات دینے پر شدید تحفظات ہیں۔ متحدہ کو بھی آپریشن پر تحفظات ہیں ۔اس لیے سندھ کے معاملے کو نہایت سمجھداری سے حل کرنے کی ضرورت ہے' وقت آ گیا ہے ۔یہاں ضد اور ہٹ دھرمی یا گروہی مفادات کو سامنے رکھ کر کسی قسم کا فیصلہ کرنا مسائل کو مزید گہرا کرے گا۔ سندھ حکومت اور دیگر تمام سیاسی جماعتیں اس پیچیدہ صورت حال کو باہمی مشاورت کے ذریعے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ آئے روز اس مسئلے پر پیدا ہونے والی پیچیدگیاں جنم نہ لیں۔ تمام اداروں کو آئین اور قانون کی طے کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینا چاہیے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے صوبے میں کسی بھی سطح پر بے چینی اور انتشار کی کیفیت جنم لے۔
اگر صوبے کی سیاسی جماعتیں بھی اداروں کے ساتھ ہوں تو سندھ میں امن قائم کرنا زیادہ مشکل ٹاسک نہیں ہے لہٰذا سندھ میں امن و امان قائم کرنا سب کی ترجیح ہونا چاہیے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی اور جرائم کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ پرامن شہری سکون کے ساتھ اپنے معمولات زندگی ادا کر سکیں لیکن اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے 'صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں تاکہ ملک دشمنوںاور دہشت گردوں کو شکست دی جا سکے۔