ملک بھر میں 60 لاکھ افراد دماغی امراض میں مبتلا ہیں پروفیسرواسع
دماغی صلاحیت کاکم استعمال امراض میں مبتلاکرتا ہے،ڈاکٹر اقبال آفریدی،پروفیسرزمان شیخ،ڈاکٹر اعجاز وہرہ،ڈاکٹر عنیزہ نیاز
تمباکو اورشراب نوشی سے پرہیز،بلڈپریشر،ذیابیطس،تناؤاورڈپریشن پرقابوپاکربڑھاپے میں صحت مندرہا جاسکتاہے فوٹو : فائل
پاکستان میں 65 برس سے زائد عمرکے لوگوں کی تعداد 90 لاکھ سے زائد ہے جن میں سے 20 سے 30 فیصد افراد فالج ، الزائمرز اور پارکنسنز جیسے دماغی اور اعصابی امراض کا شکار ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے افراد کی دماغی صحت کی بہتری کے لیے عوام اور ہیلتھ کمیونٹی میں ان امراض کے متعلق شعور پیدا کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار دماغی، اعصابی اور نفسیاتی امراض کے ماہرین نے عالمی یوم دماغ سے متعلق پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی اور نیورولوجی ایویرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیمینارسے خطاب میں کیا، پروفیسر محمد واسع کا کہنا تھا کہ دنیا میں بڑی عمر کے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس وقت دنیا میں 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 80کروڑ ہے جوکہ 2050 تک 2 ارب ہوجائے گی اور ان میں سے زیادہ تر لوگ دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 60 لاکھ افراد دماغی امراض کا شکار ہیں، جن میں سے صرف ایک لاکھ افراد میں ڈیمنشیا یا بھولنے کی بیماری کی تشخیص ممکن ہوسکی ہے ان میں سے اکثریت علاج سے محروم ہے بڑھتی عمر کے افراد کے دماغی امراض کاعلاج یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات ہیں جبکہ یہ علامات و امراض مکمل طور پر قابل علاج ہیں دماغی اور جسمانی ورزش صحت مند غذا تمباکو، منشیات اور شراب نوشی سے پرہیز بلڈ پریشر اور ذیابیطس، تناؤ اور ڈپریشن پر قابو پاکر بڑھاپے میں صحت مند رہا جاسکتا ہے پروفیسر اقبال آفریدی نے کہا کہ بڑھاپے میں دماغی امراض کی نشانیاں حالیہ واقعات کو بھول جانا، الفاظ اور احکامات کو دیر سے سمجھنا، ارتکاز میں کمی اور حرکات و سکنات میں سستی آجانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اچھی صحت صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت کا نام ہے بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی صلاحیتوں کا کم استعمال دماغی امراض میں مبتلا کرتا ہے بڑھتی عمر کے افراد متوازن غذا کھائیں اور دماغی اور جسمانی ورزش کو معمول بنائیں ماہرین امراض اعصاب و دماغ ڈاکٹر اعجاز وہرہ ، ڈاکٹر عنیزہ نیاز ، ڈاکٹر شوکت علی ، ڈاکٹرحامد شفقت اور ماہر ذیابیطس پروفیسر زمان شیخ نے پینل ڈسکشن میں کہا کہ فالج اور عروقی انحطاط معمر افراد کو متاثر کرنے والے سب سے عام اعصابی امراض ہیں ان سے بچا جا سکتا ہے اور اگر مرض لاحق ہوجائے تو اس کا نقصان کم بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے تعلیم، ادراک کی مشقوں، جسمانی سرگرمی، غذاؤں سے مدد لینی ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار دماغی، اعصابی اور نفسیاتی امراض کے ماہرین نے عالمی یوم دماغ سے متعلق پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی اور نیورولوجی ایویرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیمینارسے خطاب میں کیا، پروفیسر محمد واسع کا کہنا تھا کہ دنیا میں بڑی عمر کے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس وقت دنیا میں 65 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 80کروڑ ہے جوکہ 2050 تک 2 ارب ہوجائے گی اور ان میں سے زیادہ تر لوگ دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 60 لاکھ افراد دماغی امراض کا شکار ہیں، جن میں سے صرف ایک لاکھ افراد میں ڈیمنشیا یا بھولنے کی بیماری کی تشخیص ممکن ہوسکی ہے ان میں سے اکثریت علاج سے محروم ہے بڑھتی عمر کے افراد کے دماغی امراض کاعلاج یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات ہیں جبکہ یہ علامات و امراض مکمل طور پر قابل علاج ہیں دماغی اور جسمانی ورزش صحت مند غذا تمباکو، منشیات اور شراب نوشی سے پرہیز بلڈ پریشر اور ذیابیطس، تناؤ اور ڈپریشن پر قابو پاکر بڑھاپے میں صحت مند رہا جاسکتا ہے پروفیسر اقبال آفریدی نے کہا کہ بڑھاپے میں دماغی امراض کی نشانیاں حالیہ واقعات کو بھول جانا، الفاظ اور احکامات کو دیر سے سمجھنا، ارتکاز میں کمی اور حرکات و سکنات میں سستی آجانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اچھی صحت صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت کا نام ہے بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی صلاحیتوں کا کم استعمال دماغی امراض میں مبتلا کرتا ہے بڑھتی عمر کے افراد متوازن غذا کھائیں اور دماغی اور جسمانی ورزش کو معمول بنائیں ماہرین امراض اعصاب و دماغ ڈاکٹر اعجاز وہرہ ، ڈاکٹر عنیزہ نیاز ، ڈاکٹر شوکت علی ، ڈاکٹرحامد شفقت اور ماہر ذیابیطس پروفیسر زمان شیخ نے پینل ڈسکشن میں کہا کہ فالج اور عروقی انحطاط معمر افراد کو متاثر کرنے والے سب سے عام اعصابی امراض ہیں ان سے بچا جا سکتا ہے اور اگر مرض لاحق ہوجائے تو اس کا نقصان کم بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے تعلیم، ادراک کی مشقوں، جسمانی سرگرمی، غذاؤں سے مدد لینی ہوگی۔