مانچسٹرڈ ٹیسٹ پاکستان جوابی انگلش وار ناکام بنانے کو تیار
اولڈ ٹریفورڈ کی سخت پچ پر بھی یاسر توجہ کا مرکز، پیس اور باؤنس سے فاسٹ بولرز کو بھی مدد ملے گی
اولڈ ٹریفورڈ کی سخت پچ پر بھی یاسر توجہ کا مرکز، پیس اور باؤنس سے فاسٹ بولرز کو بھی مدد ملے گی. فوٹو: پاکستان کرکٹ ٹیم
انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان دوسرا ٹیسٹ جمعے سے شروع ہورہا ہے، گرین کیپس انگلینڈ کا جوابی وار ناکام بنانے کو تیار ہیں، اولڈ ٹریفورڈ کی سخت پچ پر بھی یاسر شاہ توجہ کا مرکز ہوں گے، باؤنس سے فاسٹ بولرز کو بھی مدد ملے گی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اورانگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ جمعے سے مانچسٹر کے میدان اولڈ ٹریفورڈ میں شروع ہورہا ہے، لارڈز میں فتح حاصل کرنے والی قومی ٹیم نئے عزم کیساتھ سیریزمیں برتری مستحکم کرنے کیلیے کوشاں ہوگی، مہمان پلیئنگ الیون کیساتھ کسی چھیڑ چھاڑ کا امکان نہیں، نئے معرکے میں اوپنرز محمد حفیظ اور شان مسعود کی فارم باعث تشویش ہے، دونوں کی جانب سے ابھی تک بڑی اننگز سامنے نہیں آسکی۔
مصباح الحق، یونس خان، اظہر علی اور اسد شفیق پر مشتمل مڈل آرڈر سے بھی زیادہ بہتر کارکردگی کی امیدیں وابستہ ہونگی، ٹرننگ پچ پر یاسر شاہ ایک بار پھر ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں، ٹرف پر گھاس برقرار رہی تو پیسرز کو بھی صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع میسر آئیں گے۔ دوسری جانب انگلینڈ نے اپنے 14رکنی اسکواڈ سے جیک بال اور اسٹیون فن کو ڈراپ کردیا ہے، دیگر 12میں سے حتمی 11کھلاڑیوں کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ہے، اسپیشلسٹ اسپنر عادل رشید کی جگہ بنانے کیلیے معین علی کی رخصتی ہوسکتی ہے۔
2سلو بولرز کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تو انجری سے نجات پاکر واپس آنے والے آل راؤنڈر بین اسٹوکس کو باہر بیٹھنا ہوگا،جیمز اینڈرسن کی شمولیت سے میزبان ٹیم کی پیس بیٹری کو تقویت ملے گی،سابق پاکستانی آف اسپنرثقلین مشتاق انگلش بیٹسمینوں کو اسپن بولنگ کا سامنا کرنے کے گرسکھارہے ہیں، اس کیساتھ سلو بولرز کو موثر بنانے کے لیے بھی رہنمائی کررہے ہیں، الیسٹر کک الیون ان کیساتھ مختصر معاہدے سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہے۔یاد رہے کہ اولڈ ٹریفورڈ میں 2011میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے 108رنز سے فتح حاصل کی تھی،اس کامیابی میں ثقلین مشتاق کا اہم کردار تھا، انھوں نے 74رنز دیکر 4وکٹیں حاصل کی تھیں۔انگلش ٹیم یہاں پر ممکنہ اسپن کا بہترانداز میں سامنا کرنے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کررہی ہے۔ پاکستان کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اچھی کارکردگی پیش کرنے کے لیے تھوڑابہت دباؤہونا چاہیے۔
دباؤمیں ہوں گے تو اچھا کھیلیں گے، کنڈیشنز کے حوالے سے مصباح کا کہنا تھا کہ فی الحال پچ سخت ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پیس اور باؤنس دونوں ہونگے،اسپنرز کو بھی مدد ملے گی، پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ اپنی حکمت عملی کنڈیشنز اور میزبان پلیئنگ الیون کو دیکھ کر بنائیں گے، انگلینڈ ایک اسپنر کھلاتا ہے یا دو کو آزمانے کا فیصلہ کرتا ہے،ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا، یاسر شاہ عمدہ بولنگ کررہے ہیں،ان کی خوبی ہے کہ ہر طرح کی پچز اور کنڈیشنز میں کارکردگی دکھا سکتے ہیں تاہم صرف لیگ اسپنر پر ہی انحصار نہیں کرسکتے، چاروں بولرز کو درست لائن اور لینتھ پر بولنگ کرنا ہوگی، جو بھی کنڈیشنز میسر ہوں،ان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وکٹیں لینا ہوں گی۔
لارڈز ٹیسٹ میں فتح کے باجود کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں، انگلینڈ کی قوت سے اچھی طرح آگاہ ہیں،سیریز کے ہر میچ میں سخت محنت کرنا ہوگا، ابھی اندازہ نہیں کرسکتے کہ میزبان ٹیم بولنگ اٹیک تشکیل دینے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائے گی، تاہم اسپنرز ہوں یا پیسرز ہمیں معیاری انٹرنیشنل کرکٹرز کی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر یقین ہے،امید ہے کہ نئے امتحان میں بھی سرخرو ہوں گے، انگلش ٹیم پلٹ کر وار کرنے کی کوشش کرے گی، اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ہر شعبے میں محنت کرنا ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اورانگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ جمعے سے مانچسٹر کے میدان اولڈ ٹریفورڈ میں شروع ہورہا ہے، لارڈز میں فتح حاصل کرنے والی قومی ٹیم نئے عزم کیساتھ سیریزمیں برتری مستحکم کرنے کیلیے کوشاں ہوگی، مہمان پلیئنگ الیون کیساتھ کسی چھیڑ چھاڑ کا امکان نہیں، نئے معرکے میں اوپنرز محمد حفیظ اور شان مسعود کی فارم باعث تشویش ہے، دونوں کی جانب سے ابھی تک بڑی اننگز سامنے نہیں آسکی۔
مصباح الحق، یونس خان، اظہر علی اور اسد شفیق پر مشتمل مڈل آرڈر سے بھی زیادہ بہتر کارکردگی کی امیدیں وابستہ ہونگی، ٹرننگ پچ پر یاسر شاہ ایک بار پھر ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں، ٹرف پر گھاس برقرار رہی تو پیسرز کو بھی صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع میسر آئیں گے۔ دوسری جانب انگلینڈ نے اپنے 14رکنی اسکواڈ سے جیک بال اور اسٹیون فن کو ڈراپ کردیا ہے، دیگر 12میں سے حتمی 11کھلاڑیوں کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ہے، اسپیشلسٹ اسپنر عادل رشید کی جگہ بنانے کیلیے معین علی کی رخصتی ہوسکتی ہے۔
2سلو بولرز کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تو انجری سے نجات پاکر واپس آنے والے آل راؤنڈر بین اسٹوکس کو باہر بیٹھنا ہوگا،جیمز اینڈرسن کی شمولیت سے میزبان ٹیم کی پیس بیٹری کو تقویت ملے گی،سابق پاکستانی آف اسپنرثقلین مشتاق انگلش بیٹسمینوں کو اسپن بولنگ کا سامنا کرنے کے گرسکھارہے ہیں، اس کیساتھ سلو بولرز کو موثر بنانے کے لیے بھی رہنمائی کررہے ہیں، الیسٹر کک الیون ان کیساتھ مختصر معاہدے سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہے۔یاد رہے کہ اولڈ ٹریفورڈ میں 2011میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے 108رنز سے فتح حاصل کی تھی،اس کامیابی میں ثقلین مشتاق کا اہم کردار تھا، انھوں نے 74رنز دیکر 4وکٹیں حاصل کی تھیں۔انگلش ٹیم یہاں پر ممکنہ اسپن کا بہترانداز میں سامنا کرنے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کررہی ہے۔ پاکستان کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اچھی کارکردگی پیش کرنے کے لیے تھوڑابہت دباؤہونا چاہیے۔
دباؤمیں ہوں گے تو اچھا کھیلیں گے، کنڈیشنز کے حوالے سے مصباح کا کہنا تھا کہ فی الحال پچ سخت ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پیس اور باؤنس دونوں ہونگے،اسپنرز کو بھی مدد ملے گی، پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ اپنی حکمت عملی کنڈیشنز اور میزبان پلیئنگ الیون کو دیکھ کر بنائیں گے، انگلینڈ ایک اسپنر کھلاتا ہے یا دو کو آزمانے کا فیصلہ کرتا ہے،ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا، یاسر شاہ عمدہ بولنگ کررہے ہیں،ان کی خوبی ہے کہ ہر طرح کی پچز اور کنڈیشنز میں کارکردگی دکھا سکتے ہیں تاہم صرف لیگ اسپنر پر ہی انحصار نہیں کرسکتے، چاروں بولرز کو درست لائن اور لینتھ پر بولنگ کرنا ہوگی، جو بھی کنڈیشنز میسر ہوں،ان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وکٹیں لینا ہوں گی۔
لارڈز ٹیسٹ میں فتح کے باجود کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں، انگلینڈ کی قوت سے اچھی طرح آگاہ ہیں،سیریز کے ہر میچ میں سخت محنت کرنا ہوگا، ابھی اندازہ نہیں کرسکتے کہ میزبان ٹیم بولنگ اٹیک تشکیل دینے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائے گی، تاہم اسپنرز ہوں یا پیسرز ہمیں معیاری انٹرنیشنل کرکٹرز کی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر یقین ہے،امید ہے کہ نئے امتحان میں بھی سرخرو ہوں گے، انگلش ٹیم پلٹ کر وار کرنے کی کوشش کرے گی، اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ہر شعبے میں محنت کرنا ہوگی۔