افغانستان میں جھڑپوں میں 114 شدت پسند ہلاک طالبان کا ضلع قلعہ زار پر قبضے کا دعویٰ
مرنے والوں میں طالبان اور داعش کے جنگجو بھی شامل، کابل میں سپریم کورٹ پر حملے کی کوشش ناکام، مسلح خاتون ہلاک
طالبان نے گزشتہ 4 دنوں سے قلعہ زال کا محاصرہ کر رکھا تھا، فورسز نے محض اسٹرٹیجک پسپائی کی، ضلع کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیاہے، حکام فوٹو: رائٹرز/فائل
ISLAMABAD:
افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں داعش اور طالبان کے 114 شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ کابل میں سپریم کورٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی، طالبان نے قندوز کے ضلع قلعہ زال پر قبضے کا دعویٰ کیاہے۔
افغان سیکیورٹی فورسز کی ملک میں زمینی اور فضائی کارروائیوں میں داعش اور طالبان کے114 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران افغان فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسندوںکے خلاف کلیئرنس آپریشن کیے جن میں 64 طالبان ہلاک ہوگئے۔ مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع آچن اور شیرزاد میں آپریشن کے دوران داعش کے 28 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ صوبہ پکتیا کے ضلع دنڈے پٹان میں آپریشن کے دوران 18 طالبان ہلاک ہوئے، صوبہ قندوز کے ضلع قلعہ زال میں 7 جنگجو مارے گئے۔ ہلمند، ہرات، میدان وردک، غزنی اور دالکنڈی میں آپریشن کے دوران 11شدت پسند ہلاک ہوئے۔
وزارت دفاع کے مطابق اسی طرح کے دیگر آپریشنز میں 38 شدت پسند مارے گئے۔ صوبہ ننگرہار میں زمینی اور فضائی آپریشنز میں داعش اور طالبان کے 50 جنگجو ہلاک اور18 زخمی ہوگئے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی نے بتایا کہ آپریشن ضلع آچن میں کیا گیا جس میں داعش کے35 اور طالبان کے 15جنگجو مارے گئے۔ دوسری جانب افغان فورسز نے کابل میں سپریم کورٹ پر خاتون جنگجو کا حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مسلح خاتون سپریم کورٹ کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کررہی تھی جسے اندر داخل ہونے سے قبل ہی گولی مار دی گئی جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق طالبان نے تاجکستان کی سرحد کے قریب قندوز صوبے کے قلعہ زال ضلع پر 4 روز کی جنگ کے بعد قبضہ کرلیا ہے تاہم افغان سیکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ محض اسٹرٹیجک اقدام کے تحت تھوڑی دیر کے لیے پسپائی کی، ضلع کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا گیاہے۔ صوبائی کونسل کے رکن امیر الدین ولی کے بقول طالبان نے گزشتہ 4 دنوں سے قلعہ زال کا محاصرہ کررکھا تھا اور گزشتہ شب وہ ضلعی انتظامیہ کے اہم دفاتر اور اطراف کے علاقے پر کنٹرول پانے میں کامیاب ہوگئے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ حکومتی فورسز کے متعدد اہلکاروں کے بشمول ضلعی پولیس سربراہ سیف اللہ امیری بھی طالبان کے حملے میں مارے گئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں داعش اور طالبان کے 114 شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ کابل میں سپریم کورٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی، طالبان نے قندوز کے ضلع قلعہ زال پر قبضے کا دعویٰ کیاہے۔
افغان سیکیورٹی فورسز کی ملک میں زمینی اور فضائی کارروائیوں میں داعش اور طالبان کے114 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران افغان فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسندوںکے خلاف کلیئرنس آپریشن کیے جن میں 64 طالبان ہلاک ہوگئے۔ مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع آچن اور شیرزاد میں آپریشن کے دوران داعش کے 28 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ صوبہ پکتیا کے ضلع دنڈے پٹان میں آپریشن کے دوران 18 طالبان ہلاک ہوئے، صوبہ قندوز کے ضلع قلعہ زال میں 7 جنگجو مارے گئے۔ ہلمند، ہرات، میدان وردک، غزنی اور دالکنڈی میں آپریشن کے دوران 11شدت پسند ہلاک ہوئے۔
وزارت دفاع کے مطابق اسی طرح کے دیگر آپریشنز میں 38 شدت پسند مارے گئے۔ صوبہ ننگرہار میں زمینی اور فضائی آپریشنز میں داعش اور طالبان کے 50 جنگجو ہلاک اور18 زخمی ہوگئے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ کھوگیانی نے بتایا کہ آپریشن ضلع آچن میں کیا گیا جس میں داعش کے35 اور طالبان کے 15جنگجو مارے گئے۔ دوسری جانب افغان فورسز نے کابل میں سپریم کورٹ پر خاتون جنگجو کا حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مسلح خاتون سپریم کورٹ کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کررہی تھی جسے اندر داخل ہونے سے قبل ہی گولی مار دی گئی جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق طالبان نے تاجکستان کی سرحد کے قریب قندوز صوبے کے قلعہ زال ضلع پر 4 روز کی جنگ کے بعد قبضہ کرلیا ہے تاہم افغان سیکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ محض اسٹرٹیجک اقدام کے تحت تھوڑی دیر کے لیے پسپائی کی، ضلع کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا گیاہے۔ صوبائی کونسل کے رکن امیر الدین ولی کے بقول طالبان نے گزشتہ 4 دنوں سے قلعہ زال کا محاصرہ کررکھا تھا اور گزشتہ شب وہ ضلعی انتظامیہ کے اہم دفاتر اور اطراف کے علاقے پر کنٹرول پانے میں کامیاب ہوگئے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ حکومتی فورسز کے متعدد اہلکاروں کے بشمول ضلعی پولیس سربراہ سیف اللہ امیری بھی طالبان کے حملے میں مارے گئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔