آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی فتح
انتخابات کو شفاف بنانےکےلیےناگزیرہےکہ الیکشن کمیشن کومکمل طور پربااختیار بنانےکےساتھ ساتھ بائیومیٹرک سسٹم رائج کیاجائے
آزاد کشمیر کے ہونے والے الیکشن پر بھارت سمیت پوری دنیا کی نظر تھی اس لیے حکومت نے ان انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ فوٹو؛ فائل
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے دسویں انتخابات میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے 41میں سے 32نشستیں جیت کر میدان مار لیا۔ 29نشستوں کے لیے پولنگ آزاد کشمیر جب کہ مہاجرین کی 12نشستوں کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں میں رہنے والے کشمیریوں نے ووٹ ڈالے۔ انتخابات میں 8خواتین نے بھی حصہ لیا لیکن کوئی بھی جیت نہ سکی' آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب کی بیٹی فرزانہ یعقوب بھی شکست کھا گئیں' انھوں نے پیپلز پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑا تھا۔ 8نمایندے مخصوص نشستوں پر آئیں گے جن میں پانچ خواتین' ایک عالم دین' ایک اوور سیز پاکستانی اور ایک ٹیکنو کریٹ کی نشست ہے۔ حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت یعنی کم از کم 25نشستیں درکار ہیں۔
آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید تھے اگرچہ چوہدری عبدالمجید اپنی نشست پر کامیاب ہو گئے ہیں مگر ان انتخابات میں پیپلز پارٹی صرف تین نشستیں حاصل کر سکی اس طرح آزاد کشمیر حکومت کا اقتدار اس کے ہاتھ سے نکل کر مسلم لیگ ن کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ تحریک انصاف کو بھی بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر کی انتخابات میں عام طور پر وفاق میں حکمران جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے شاید یہ کسی حد تک درست ہو۔ خوش کن امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابات میں ہونے والی اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نواز شریف کو آزاد کشمیر الیکشن میں کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔
البتہ پیپلز پارٹی نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انتخابی نتائج کو سائنٹیفک قرار دیتے ہوئے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جمہوریت کو کامیاب بنانے کے لیے انتخابات اس کا بنیادی اور اہم رکن تصور ہوتے ہیں لہٰذا لازم ہے کہ انتخابات کو ہر صورت شفاف اور پرامن بنایا جائے۔ فتح اور ہار انتخابات کا حصہ ہے مگر پاکستان کی انتخابی تاریخ میں ہوتا یہ آیا ہے کہ جو جیت جائے اس کے نزدیک انتخابات شفاف اور جو ہار جائے اس کے نزدیک دھاندلی زدہ قرار پاتے ہیں۔
یہ صورت حال انتہائی خطرناک ہے جس نے ہمیشہ جمہوری عمل کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں' بعض اوقات تو ایسی صورت حال بھی دیکھنے میں آئی کہ ہارنے والی جماعت نے دھاندلی کے الزامات لگا کر حکومت کے خلاف باقاعدہ تحریک شروع کر دی یہاں تک کہ حکومت کا وجود خطرے میں پڑتا ہوا دکھائی دینے لگا' جمہوری روایات کے فروغ میںحائل ان منفی امور کو دور کرنا اشد ضروری ہے۔
انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ بائیو میٹرک سسٹم رائج کیا جائے تاکہ کوئی بھی جماعت انتخابی عمل پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ 2018ء میں عام انتخابات متوقع ہیں ان انتخابات کو شفاف بنانے کی جانب حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توجہ دینی چاہیے۔ ابھی سے اس کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا جائے تو بہتر ہے۔ جب انتخابی عمل شفاف اور پرامن ہو گا تو کسی بھی جماعت کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ انتخابی عمل سائنٹیفک تھا لہٰذا وہ اس کے نتیجے کو تسلیم نہیں کرتے۔ شفاف انتخابات ہونے سے ہارنے والے امیدوار خاموشی سے اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوری روایات کے فروغ میں کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہیں بنیں گے۔
آزاد کشمیر کے ہونے والے الیکشن پر بھارت سمیت پوری دنیا کی نظر تھی اس لیے حکومت نے ان انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی' جابجا فوجی دستے متعین کیے گئے۔ آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے بھی انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے کہیں پر بھی بے ضابطگی کی شکایت نہیں ملی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی اب آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج میں بھی پیپلز پارٹی کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ انتخابات حکومت کی کارکردگی اور عوامی رائے جانچنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ شکست کھانے والی جماعتوں کو اپنی کارکردگی کا احتساب خود کرنا چاہیے کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں کہ جس کی بنا پر انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آج جیتنے والی جماعت آیندہ انتخابات میں شکست بھی کھا سکتی ہے اس لیے شکست سے دلبرداشتہ ہونے یا حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے بیان دینے کے بجائے عوامی مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور ان کے دل جیتنے کا یہی وہ واحد راستہ ہے جو اقتدار تک جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید تھے اگرچہ چوہدری عبدالمجید اپنی نشست پر کامیاب ہو گئے ہیں مگر ان انتخابات میں پیپلز پارٹی صرف تین نشستیں حاصل کر سکی اس طرح آزاد کشمیر حکومت کا اقتدار اس کے ہاتھ سے نکل کر مسلم لیگ ن کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ تحریک انصاف کو بھی بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر کی انتخابات میں عام طور پر وفاق میں حکمران جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے شاید یہ کسی حد تک درست ہو۔ خوش کن امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابات میں ہونے والی اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نواز شریف کو آزاد کشمیر الیکشن میں کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔
البتہ پیپلز پارٹی نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انتخابی نتائج کو سائنٹیفک قرار دیتے ہوئے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جمہوریت کو کامیاب بنانے کے لیے انتخابات اس کا بنیادی اور اہم رکن تصور ہوتے ہیں لہٰذا لازم ہے کہ انتخابات کو ہر صورت شفاف اور پرامن بنایا جائے۔ فتح اور ہار انتخابات کا حصہ ہے مگر پاکستان کی انتخابی تاریخ میں ہوتا یہ آیا ہے کہ جو جیت جائے اس کے نزدیک انتخابات شفاف اور جو ہار جائے اس کے نزدیک دھاندلی زدہ قرار پاتے ہیں۔
یہ صورت حال انتہائی خطرناک ہے جس نے ہمیشہ جمہوری عمل کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں' بعض اوقات تو ایسی صورت حال بھی دیکھنے میں آئی کہ ہارنے والی جماعت نے دھاندلی کے الزامات لگا کر حکومت کے خلاف باقاعدہ تحریک شروع کر دی یہاں تک کہ حکومت کا وجود خطرے میں پڑتا ہوا دکھائی دینے لگا' جمہوری روایات کے فروغ میںحائل ان منفی امور کو دور کرنا اشد ضروری ہے۔
انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ بائیو میٹرک سسٹم رائج کیا جائے تاکہ کوئی بھی جماعت انتخابی عمل پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ 2018ء میں عام انتخابات متوقع ہیں ان انتخابات کو شفاف بنانے کی جانب حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو توجہ دینی چاہیے۔ ابھی سے اس کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا جائے تو بہتر ہے۔ جب انتخابی عمل شفاف اور پرامن ہو گا تو کسی بھی جماعت کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ انتخابی عمل سائنٹیفک تھا لہٰذا وہ اس کے نتیجے کو تسلیم نہیں کرتے۔ شفاف انتخابات ہونے سے ہارنے والے امیدوار خاموشی سے اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوری روایات کے فروغ میں کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہیں بنیں گے۔
آزاد کشمیر کے ہونے والے الیکشن پر بھارت سمیت پوری دنیا کی نظر تھی اس لیے حکومت نے ان انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی' جابجا فوجی دستے متعین کیے گئے۔ آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے بھی انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے کہیں پر بھی بے ضابطگی کی شکایت نہیں ملی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی اب آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج میں بھی پیپلز پارٹی کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ انتخابات حکومت کی کارکردگی اور عوامی رائے جانچنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ شکست کھانے والی جماعتوں کو اپنی کارکردگی کا احتساب خود کرنا چاہیے کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں کہ جس کی بنا پر انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آج جیتنے والی جماعت آیندہ انتخابات میں شکست بھی کھا سکتی ہے اس لیے شکست سے دلبرداشتہ ہونے یا حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے بیان دینے کے بجائے عوامی مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور ان کے دل جیتنے کا یہی وہ واحد راستہ ہے جو اقتدار تک جاتا ہے۔